Wed, September 16, 2026

غزہ میں بچوں پر اسرائیلی حملے جاری، ہر گھنٹے ایک فلسطینی بچہ شہید

غزہ میں بچوں پر اسرائیلی حملے جاری، ہر گھنٹے ایک فلسطینی بچہ شہید

غزہ : غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے بدستور جاری ہیں، اور بچوں کے حقوق کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے 23 مہینوں میں ہر گھنٹے کم از کم ایک فلسطینی بچہ مارا گیا ہے۔

غزہ کی حکومت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 20 ہزار بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں ایک ہزار بچے ایک سال سے بھی کم عمر کے تھے، اور ان میں سے نصف نومولود بچے تھے جو جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور مارے گئے۔

سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ یہ صورتحال نہایت افسوسناک ہے کیونکہ اسرائیلی فوج بچوں کے گھروں، کھیل کے میدانوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو بار بار نشانہ بنا رہی ہے، اور غزہ میں قحط بھی مسلط کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود عالمی برادری اس دردناک صورت حال پر خاموش ہے۔

دوسری جانب، یونیسف نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ غزہ میں جاری تباہی اور قتل عام روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اسرائیل کے جبری بے دخلی کے منصوبے سے خان یونس کے نزدیک المواسی کیمپ کے تقریباً ایک ملین لوگ متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں سے نصف بچے ہیں۔

یونیسف کے مطابق غزہ کی آبادی میں ہر دوسرا شخص بچہ ہے اور ان کی زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے۔ حال ہی میں پانی کے انتظار میں مزید آٹھ بچے جان سے چلے گئے ہیں۔

ٹیگز: