Wed, September 16, 2026

اسلام پسندوں کی کامیابی، بنگلہ سیاست کا نیا رخ

اسلام پسندوں کی کامیابی، بنگلہ سیاست کا نیا رخ

بنگلہ دیش میں اسلامی چھاتر شبر کی کامیابی بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک نیا رخ ہے۔ اسے صرف بنیاد پرستی یا بیرونی اثرات کے چشمے سے دیکھنا مناسب نہیں ہے بلکہ اسے مقامی سیاسی حقائق، طلبہ کے مسائل اور بڑی جماعتوں کی ناکامیوں کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ضرور ہے مگر اس کا مثبت جواب یکطرفہ تنقید نہیں بلکہ حقیقت پسند پالیسی، عوامی روابط کے فروغ اور جمہوری اصولوں کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ اسلام پسندوں کے فروغ کو بھارت اپنے لیے خطرے کے بجائے ایک خوش آئند تبدیلی سمجھے جسے وہ خطے میں مثبت سفارت کاری اور بہتر تعلقات کے لیے ایک موقع میں بدل سکتا ہے۔
بنگلہ دیش میں ڈھاکا یونیورسٹی کے انتخابات میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا شبر کی شاندار کامیابی نے بھارتی پروپیگنڈے کو شکست دے دی۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پہلی بار ڈھاکا یونیورسٹی کے انتخابات میں اسلامی چھاترا شبر کے حمایت یافتہ پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اسلامی چھاترا شبر 28 مرکزی نشستوں میں سے 23 جیت کر کیمپس کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی لے آئی۔ ڈھاکا یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن میں نائب صدر، جنرل سیکریٹری اور اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری کی نشستوں پر اسلامی چھاترا شبر کے حمایت یافتہ یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس الائنس کے امیدوار فاتح قرار پائے۔
 اسلامی چھاترا شبر سے تعلق رکھنے والے ابو صادق قیوم نے 14 ہزار 42 ووٹ حاصل کر کے نائب صدر کا منصب اپنے نام کیا، جبکہ ایس ایم فرہاد نے 10 ہزار 794 ووٹ لے کر جنرل سیکریٹری کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ محی الدین خان نے 11 ہزار 772 ووٹ حاصل کر کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ انتخابات میں 39 ہزار 775 ووٹرز میں سے 78 فیصد سے زائد نے حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ چیف ریٹرننگ افسر پروفیسر محمد زشیم الدین نے انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈھاکا یونیورسٹی انتخابات شاندار ماڈل ہیں، امید ہے کہ دیگر جامعات بھی اس کی پیروی کریں گی‘۔
اسلامی چھاترا شبر کے رہنما صادق اور فرہاد دونوں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی جولائی کی عوامی بغاوت میں سرگرمی سے شریک رہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ سال 5 اگست کو شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔شبر کے رہنما، جن پر ایچ ایم ارشاد کے زوال کے بعد ڈھاکا یونیورسٹی کیمپس میں عملاً پابندی عائد کر دی گئی تھی، بغاوت کے صرف ایک ماہ بعد کھلے عام کیمپس پر نظر آنے لگے، اس موقع پر صادق اور فرہاد، جو اس سے قبل خود کو طلبہ لیگ کے کارکن ظاہر کرتے رہے تھے، اپنی اصل شناخت ظاہر کرتے ہوئے شبر کے ڈھاکا یونیورسٹی یونٹ کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے سامنے آئے۔
آزادی کے بعد سے ڈھاکا یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات آٹھ مرتبہ منعقد ہو چکے ہیں، 1973 کے انتخابات کا نتیجہ بیلٹ بکس چھین لیے جانے کے باعث کبھی سامنے نہ آ سکا۔ 1972، 1979، 1980 اور 1982 کے انتخابات میں بائیں بازو کے طلبہ تنظیموں کی حمایت یافتہ پینلز نے سرفہرست دو عہدے جیتے۔
اسلامی چھاترا شبر نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے بعد جہانگیر نگر یونیورسٹی میں بھی طلبہ یونین کا الیکشن جیت لیا ہے۔شبر پہلی دفعہ ڈھاکہ اور جہانگیر نگر یونیورسٹی میں الیکشن جیتی ہیِ اسلامی چھاترا شبر (جمعیت) جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی طلبہ تنظیم ہے۔ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کی دوسری سب سے بڑی جہانگیر نگر یونیورسٹی جس کے نتائج چار دن روکے رکھے انتہائی لیٹ کرنے کے باوجود بھی اسلامی جمعیت طلبہ مزاحمتی سیاست کی بے مثال لازوال داستان رکھنے والی اسلامی چھاتر و شبر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی ہے۔
یہ غیر معمولی کامیابی پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گئی ہے اور اسے بنگلہ دیش کی طلبہ سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ان انتخابات میں مرکزی یونین کی 25 نشستوں پر مقابلہ ہوا۔ اسلامی چھاترا شبر کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ان میں سے 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ باقی نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔
ہمارے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی سیاست اس وقت ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی اور جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طلبہ یونین انتخابات میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی طلبہ ونگ اسلامی چھاتر شِبر کی غیر معمولی کامیابی نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف بنگلہ دیش کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ بھارت جیسے بڑے ہمسایہ ملک کے لیے بھی سوچنے اور غور و فکر کے لیے کئی نئے سوالات پیدا کرتی ہے۔
 پچھلے برسوں کے دوران عوامی لیگ اور بی این پی کی سیاسی ساکھ طلبہ کے درمیان بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان جماعتوں میں قیادت کا بحران، بد عنوانی اور عوامی مسائل سے ان کی مسلسل لاپروائی نے نوجوانوں کو ان جماعتوں سے بدظن کیا۔ اس کامیابی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں مذہبی اور اخلاقی قدروں کی طرف رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ چھاتر شِبر نے اس رجحان کو متحرک اور منظم سیاسی قوت میں بدلنے میں کامیابی حاصل کی۔ 
یہ کامیابی محض یونیورسٹی سیاست تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بنگلہ دیش کی وسیع تر سیاسی صورت حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ عوامی لیگ کے زوال اور بی این پی کی قیادت کے بحران نے جو خلا پیدا کیا ہے اسے جماعت اسلامی تیزی سے پْر کر رہی ہے۔

ٹیگز: