Wed, September 16, 2026

امریکہ ڈو مور

امریکہ ڈو مور

خطے میں جاری اہم ترین جنگ کو آج قریباً ستر روز ہونے کو ہیں۔ اس جنگ کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین ، فضا اور سمندر میں جب خاص مرمت ہونے کے بعد امریکہ ہانپنے کاپنے لگا تو اوسان بحال کرنے کے لئے اسے عارضی جنگ بندی کا سہارا لینا پڑا۔ ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کی طرف آنے میں پس و پیش کرتا رہا ہے۔ 2015ءمیں طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین ایک معاہدہ ہوا تھا جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد پھاڑ کے پھینک دیا۔ کسی نے اس سے پوچھا اس نے یہ کیوں کیا، اس معاہدے میں ایران نے نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی کے ساتھ دستخط کئے۔ اس عرصہ میں معاہدے کی ہر شق کی پاسداری کی فیس تھی نہ آبی سرنگوں کا خطرہ تھا پھر اس معاہدے سے امریکہ کو انحراف کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان تمام ممالک کو امریکہ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کرنی چاہئے جو آج ایران پر دباﺅ ڈالنے اور یہ کہنے میں پیش پیش ہیں کہ ایران کو امریکی شرائط پر معاہدہ کر لینا چاہئے۔
امریکی صدر نے اقتدار کی دوسری باری میں اپنی کابینہ تشکیل دی تو ایک سیکرٹری اور اس کے محکمے کا نام بدل کر سیکرٹری جنگ یعنی وزیر جنگ رکھ دیا۔ اس سیکرٹری اور محکمے کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ امریکی صدر اب خطے میں کوئی نہ جنگ چھیڑنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ پیٹ ہیگستھ کو وزیر جنگ بنایا گیا جو فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر ہیں۔ انہوں نے فوج کی مختصر نوکری میں جنگ کے اسرار و رموز کس قدر سیکھے یہ ان کے وزیر جنگ بننے کے بعد ان کے اقدامات سے واضح ہو چکا ہے۔ امریکی صدر کی ذہنی صحت پر شک کے ساتھ ساتھ اب پیٹ ہیگستھ کی ذہنی صحت کے سامنے بھی سوالیہ نشان نظر آتے ہیں۔ یہ عجیب فوجی میجر ہے جسے یہ اندازہ ہی نہ تھا کہ جنگ کیا کیا تباہ کاریاں لے کر آتی ہے۔ جنگ کا میدان قدرے سرد پڑنے کے بعد اقتصادی میدان میں اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ انہیں جنگ میں دھکیلنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پیٹ ہیگستھ ان پر دباﺅ ڈالتے رہے۔ اب تو یہ بات بھی کھل کر سامنے آچکی ہے کہ یہی دو شخصیات اسرائیل کے لئے سب سے زیادہ نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ دونوں کو امریکی کابینہ میں اسرائیلی لابی کو خوش کرنے کے لئے شامل کیا گیا۔
وزیر جنگ نے جو بڑا کارنامہ انجام دیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فوجی زندگی میں ہر ناپسندیدہ شخص کو نوکری سے نکلوا دیا جو گزشتہ بیس برس میں ترقی کرتے کرتے جرنیل بن چکا تھا یا کسی اور اہم پوزیشن پر تعینات تھا۔ انہوں نے ایسا صرف اس لئے کیا کہ اپنی ہاں میں ہاں ملانے والوں کو اہم عہدوں پر لا کر اسرائیلی ایجنڈے پر عمل درآمد کرا سکیں۔ امریکی ٹیم میں موجود اسرائیلی گماشتے اپنے مشن میں بری طرح ناکام ہوئے۔ جنگ امریکہ نے شروع کی اسے ہر میدان میں شکست ہوئی۔ ہر شکست کے بعد وہ عارضی جنگ بندی کے لئے بہانے تلاش کرتا رہا۔ مختلف ملکوں کی منتیں کرتا رہا۔ ہر مرتبہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ آج جس معاہدے کے لئے امریکہ اور اس کے حواریوں کی جان پر بنی ہے وہ امریکہ کو یہ مشورہ کیوں نہیں دتے کہ جس طرح امریکہ 2015ءکے معاہدے سے یک طرفہ نکلا تھا وہ اسی طرح اس معاہدے کو سینے سے لگا لے۔ آج روسی صدر پیوٹن بھی پوری دنیا اور خاص طور پر یورپ کو یہ معاہدہ یاد دلا رہے ہیں کہ ایران نے اس جوہری معاہدے کی تمام شرائط پوری کیں۔ معاہدے سے فرار تو امریکہ نے اختیار کیا پھر اب یورپ کس منہ سے ایران کو امریکی شرائط تسلیم کرنے کا کہہ رہا ہے۔
اسرائیل سے تعلق رکھنے والے صحافی بارک راوید دنیا کو خبر دے رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اب محض چند دنوں کی بات ہے اور اس معاہدے میں جو کچھ شامل ہے۔ وہ محض ایک صفحے تک محدود ہے۔ بارک راوید کو جو لوگ آزاد صحافت کا علمبردار سمجھتے ہیں۔ وہ جان لیں کہ اس قسم کے صحافی کبھی آزاد نہیں ہوتے مزید تسلی چاہتے ہیں تو ان کی گزشتہ دو ماہ میں دی گئی خبروں اور تجزیوں پر نظر ڈال لیں تو ان کا رچایا گیا کھیل صاف سمجھ میں آجاتا ہے۔ حکومتیں اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایسے ہی لوگوں کے ذریعے پھیلائی گئی خبروں کے ذریعے رائے عامہ پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ایک شخص بریکنگ نیوز دیتا ہے۔ درحقیقت اسے یہ خبر پھیلانے کی ذمہ داری ملی ہوتی ہے۔ آج اسرائیل کی طرف سے اہم خفیہ خبریں لیک کرنے کی ذمہ داری نبھانے والے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی بریکنگ میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران بہت کچھ چھوڑ کر معاہدے کے لئے بے تاب ہے او بس سمجھوتہ ہوا ہی چاہتا ہے جبکہ ایرانی میڈیا اور ایرانی لیڈرشپ ایک سے زائد موقعوں پر واضح کر چکا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام اور میزائل پروگرام ترک کرنے پر کوئی بات نہیں ہو گی۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی قانون قواعد و پوابط بنا دیئے گئے ہیں جن کی پابندی پر گزرنے والے جہاز کو کرنا ہو گی۔ امریکہ کو اپنے وعدے کے مطابق ایران سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے ساتھ اس کے منجمد کئی ارب ڈالر واپس لوٹانا ہوں گے۔
امریکی مذاکرات کاروں کے سامنے کیسے مضبوط اعصاب کے مالک ایرانی سفارتکار بیٹھے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لئے 2015ءکے مذاکرات اور معاہدہ دیکھ لیجئے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری تھے جبکہ ایران کے وزیر خارجہ جناب جواد ظریف تھے۔ ان کے نائب جناب عباس عراقچی تھے۔ جان کیری ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح گفتگو کے ساتھ ساتھ ڈرامہ بازی بھی جاری رکھتے تھے۔ مذاکرات ایک سیشن میں انہوں نے تلخ کلامی شروع کر دی اور اپنی دھمکیوں کے دوران زور سے میز پر ہاتھ مارا جس سے میز پر رکھا قلم اچھل کر جناب عباس عراقچی کے ماتھے پر جا لگا۔ انہوں نے جان کیری سے کہا مجھے یہ معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی ہے۔ تم نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا لیکن تمہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ ایرانی ہر بات کا جواب اسی انداز میں دیتے ہیں جس انداز میں ان سے بات کی جائے۔ یہ کہہ کر انہوں نے وہی قلم اٹھایا اور جان کیری کے منہ پر دے مارا۔ جان کیری اس واقعے کے بعد محتاط ہو گئے پھر انہوں نے ڈرامے چھوڑ کر سنجیدہ رویہ اختیار کیا کیونکہ انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ ایرانی قیادت ڈراموں سے مرعوب نہیں ہوتی۔ امریکی وزیر خارجہ کے طرز عمل میں تبدیلی آئی اور یوں 2015ءمیں کئی برس کی مشاورت اور مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران میں ایک معاہدہ ہو گیا جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے پھاڑ پھینکا۔
ایران اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوا پھر وہ اس مرحلے پر قدم کیوں پیچھے ہٹائے، جب وہ دو ایٹمی طاقتوں کو لوہے کے چنے چبوا چکا ہے اور صرف آبنائے ہرمز بند کر کے آدھی دنیا کی سانسیں بند کرنے کے بعد امریکہ اس کے بغل بچوں اور اس کے چیلے چانٹوں کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی پر کاری ضرب لگا چکا ہے۔ ایران مستقل جنگ بندی اور مسئلے کا مستقل حل چاہتا ہے۔ اسے عارضی جنگ بندی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمے گی۔ امریکہ ڈو مور۔

ٹیگز: