Wed, September 16, 2026

افغانستان دہشت گردی کا نیا گڑھ: عالمی برادری کا سخت انتباہ، یورپی یونین کا 'ڈو مور' کا مطالبہ

افغانستان دہشت گردی کا نیا گڑھ: عالمی برادری کا سخت انتباہ، یورپی یونین کا 'ڈو مور' کا مطالبہ

برسلز / واشنگٹن: افغانستان کی موجودہ صورتحال اور وہاں شدت پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے عالمی طاقتوں کے ماتھے پر بل ڈال دیے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر پراکسی نیٹ ورکس اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے "محفوظ جنت" بنتا جا رہا ہے، جو پورے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یورپی یونین نے کابل انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک پیغام جاری کیا ہے کہ  افغان سرزمین کو کسی بھی صورت دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
افغانستان میں موجود تمام عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔ کابل کی موجودہ حکومت عالمی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے اور دہشت گردوں کی سرپرستی بند کرے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے اہم نکات یہ ہیں۔  مختلف عالمی تھنک ٹینکس اور انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق   افغانستان میں دہشت گرد گروہ منظم ہو رہے ہیں جنہیں سرحد پار حملوں کے لیے سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔افغانستان سے اٹھنے والی شدت پسندی کی لہر پاکستان سمیت وسطی ایشیا اور ایران کے امن کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ کابل میں موجود گروہوں کی موجودگی سے عالمی سطح پر شدت پسندانہ نظریات کو تقویت مل رہی ہے۔

ٹیگز: