مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی سیاسی، سماجی،فلاحی اور تعلیمی اداروں کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے، جس نے نسلوں تک بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم، دینی تربیت اور اخلاقی اقدارسے روشناس کرایا ہے۔ یہ جماعت نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہے بلکہ معاشرتی خدمات اور تعلیمی شعبے میں نمایاں کردار بھی ادا کرتی رہی ہے۔جماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے نہ صرف علم و تربیت کے مراکز ہیں بلکہ سماجی یکجہتی، اخلاقی تربیت اور کمیونٹی سروس کیلئے بھی معروف ہیں۔ان اداروں میں سکول کی سطح سے لے کر دینی مدارس تک، طلباءکو اجتماعی سرگرمیوں، تحقیق اور سماجی خدمت کی تربیت دی جاتی ہے۔ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ نے جماعت اسلامی اور اس کے فلاح عام ٹرسٹ سے منسلک مزید 58 نجی سکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ زیادہ تر سکول شمالی کشمیر میں واقع ہیں۔ اگست 2025 میں پہلے ہی فلاح عام ٹرسٹ سے منسلک 215 سکولوں پرقبضہ کیاگیا 1990 میں غیر قانونی قرار دئیے جانے سے پہلے فلاح عام ٹرسٹ مقبوضہ علاقے میں 350 سے زائد سکول چلارہا تھا۔ اس نیٹ ورک میں تقریباً 60,000 طلباء زیر تعلیم تھے اور 4,000 سے زائد کاعملہ کام کررہا تھا۔
سیاسی اور حریت پسند حلقوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک وسیع ترمہم کا حصہ قراردیا ہے۔ بھارت نے 2019 میں جماعت اسلامی پر کالے قانون یواے پی اے کے تحت پابندی لگا دی تھی جس میں 2024 میں توسیع کر دی گئی۔ اب ان سکولوں کوڈپٹی کمشنرز چلائیں گے۔اس فیصلے سے مقامی سیاسی قیادت کے اندر بھی اختلافات پیداہوئے اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بھارتی بیوروکریسی پر احکامات میں تبدیلی کا الزام لگایاہے۔
1990 کی دہائی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں عسکری جدوجہد کے آغاز کیساتھ ہی جماعت اسلامی دوبارہ پابندیوں کا شکار ہوئی۔ جماعت کے دفاتر بند کیے گئے، رہنماﺅں کو حراست میں لیا گیا اور جماعت کے زیر انتظام سکولوں کی سرگرمیاں محدود کردی گئیں۔یہ اقدامات واضح طور پر ایک تعلیمی جارحیت کے مترادف ہیں، جس کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی نئی نسل کو علم اور تربیت کے بنیادی وسائل سے محروم کرنا ہے۔تعلیمی اداروں پر قابض ہو کر نیشنل کانفرنس کی حکومت نے علم کی روشنی کو محدود کیا اور جماعت اسلامی کے سماجی اور تعلیمی اثرات کو بے حد نقصان پہنچایا۔یقینی طور پر تعلیم وتربیت کے مواقع محدود ہونے سے کشمیری نوجوانوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جامعہ سراج العلوم ہو یا مقبوضہ جموں وکشمیر میں دوسرے دینی اور فلاحی ادارے ہوں، کئی دہائیوں سے کشمیری نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرتے رہے۔کیونکہ فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلنے والے سکول کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرتے تھے، جن میں طلباءکی تعداد لاکھوں میں تھی۔اسی طرح اساتذہ اور عملہ طلباءکی علمی اور اخلاقی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے، اور ان کے ذریعے معاشرے میں مثبت اثر پیدا ہوتا تھا۔جو بھارت اور اس کے حواریوں کو کھٹکتا ہے۔کیونکہ بھارت نواز بخوبی اس بات سے باخبر ہیں کہ تعلیم اور فلاحی کاموں کے میدان میں جماعت کا مقابلہ ان کے بس کا کام نہیں ہے لہٰذا پابندیوں کے نام پر جماعت اسلامی یا کسی اور جماعت ،ادارہ و افراد کا گلا گھونٹنا نسبتاً آسان ہے اور وہ بھی ان حالات میں جب اللہ کی زمین پر اللہ کی کبریائی کا ڈنکا بجانے والوں کیلئے زمین پہلے سے تنگ کی جاچکی ہو۔ حالات کا جبر پوری قوت سے نافذ ہے اور پھر انہی حالات میں خود کو کشمیری معاشرے کیلئے کار آمد اور مفید بنانا یہ کار دارد والا معاملہ ہے۔
جس عظیم شخص سید مودودیؒ نے اس جماعت کی بنیاد اور اٹھان رکھی ہو،اس جماعت کیساتھ وابستہ لوگ کب ان پابندیوں کو پہلے خاطر میں لائے یا اب لائیں گے،کیونکہ ریاست کا آئین ہر کشمیری کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی کھلی چھوٹ دیتا ہے اور یہ کوئی غیر قانونی یا خلاف آئین کام یا اقدام بھی نہیں ہے۔انسانی حقوق کا عالمی چارٹر بھی قطعی طور اس کی ممانعت نہیں کرتا۔ یہ بات واضح رہے کہ جماعت اسلامی کا قیام برصغیر میں ایک مذہبی اور سماجی تحریک کے طور پر ہوا، جس کا مقصد تعلیم، فلاح و بہبود اور اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرتی ترقی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کی تاریخ پابندیوں، اس پر مسلط تعلیمی جارحیت اور سماجی خدمات کی داستان سے بھری پڑی ہے۔1975،1990 اور 2019کی پابندیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور تعلیمی آزادی کو محدود کرنے کیلئے جماعت اسلامی کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجودجماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے آج بھی کشمیری بچوں کیلئے علم و تربیت کے مشعل راہ ہیں، اور ان کی خدمات قابلِ قدر اور غیر معمولی ہیں۔جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینے کا بھارتی اقدام پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں تمام شعبہ ہائے زندگی کیساتھ وابستہ افراد میں نفرت اور غم وغصے کا باعث بن چکا ہے۔
اپنے تو اپنے بھارت نواز سیاست کے دلدادہ بھی اس اقدام پر پھٹ پڑے اور انہوں نے اس اقدام کو نانا شاہی سے تعبیر کیا ہے،جبکہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور کشمیری نوجوان یہ سوال اٹھانے سے کسی طور پر نہیں ہچکچاتے ہیں کہ یہی بھارتی اقدام کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد یا بندوق اٹھانے پر مائل بہ آمادہ کرتے ہیں ،اللہ تعالی ہر شر میں سے خیر کا پہلو نکالتا ہے۔ یقینا آنے والے وقت میں جامعہ سراج العلوم پھر ایک بار اسی آب و تاب کیساتھ جگمائے گا ،جس کیلئے یہ ادارہ معرض وجودمیں آیا اور پھر علم کی پیاس بجانے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔