چوپال سجی ہوئی تھی، ماسٹر ندیم لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔ ان کو دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ماسٹر ندیم نے عمر بھر علاقے کے ایک سرکاری سکول میں تعلیم دی۔ چوپال میں موجود بیشتر لوگوں نے سکول میں ان سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں سے ایک بھائی شفیق بھی تھے۔ وہ تو ان کے احترام میں کھڑے ہی رہے حالانکہ ماسٹر ندیم نے سب کو بیٹھنے کا کہا۔نتھو اور پھتو نے کہاکہ بھائی شفیق آپ بھی بیٹھ جائیں۔ اس پر انہوں نے برجستہ جواب دیا ۔ میں اپنے ماسٹر جی کا احترام والد کی طرح کرتا ہوں لہٰذا ان کے سامنے بیٹھ جائوں یہ نہیں ہوسکتا۔خیر۔۔ چوپال میں باتیں ہورہی تھیں کہ چپ سائیں کی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آمد ہوئی۔ سب احتراماً کھڑے ہوئے ، چپ سائیں نے بیٹھنے کااشارہ کیا۔۔ سانس لینے کے بعد کہا واہ بھئی واہ آج تو ماسٹر ندیم بھائی چوپال میں جلوہ افروز ہیں۔۔ اس پر ماسٹر ندیم بولے ۔۔ سائیں جی ۔۔ بس یونہی دل چاہا کہ آج چوپال کا رخ کروں۔۔۔یہ کہہ کر چپ کرگئے۔۔ تھوڑی دیر بعد گویا ہوئے۔۔ سائیں جی ۔۔ ایک ہمارا دو ر تھا۔۔ استاد کا ادب واحترام ہوا کرتا تھا اور ایک آج کا دورہے کہ استاد کی کوئی عزت ہی نہیں ہے۔۔ چپ سائیں نے کہا بات تو سچ ہے مگر انتہائی کڑوی ہے۔۔ میں آپ کو جانتا ہوں۔۔ ہمارے پاس شفیق بیٹے کی مثال بھی ہے دیکھیں وہ آپ کے احترام میں کھڑا ہی ہے۔ خیر معاملہ بتائیں کہ کیا ہے۔۔۔ اس پر ماسٹر ندیم بولے۔۔ سائیں جی۔۔ میں اپنے دور میں جب کلاس انچارج تھا تو بچوں کی کمی پوری کرنے کے لیے باقاعدہ زیرو پیریڈ لگا تا تھا تاکہ بچوں کی کمی پوری ہو۔۔ اس کے علاوہ بچوں کو چھٹی کے بعد بھی فری میںگھنٹہ دو دے دیتا تھا تاکہ ہمارا رزلٹ بہترین ہو۔۔ اور ایک آج کل کے استاد ہیں۔۔ میں نے اپنے پوتے سے پوچھا بیٹا بتائو تمہیں زیرو پیریڈ کے بارے میں علم ہے ۔ وہ اگرچہ ساتویں جماعت کا طالب علم ہے اور اچھے سکول میںزیر تعلیم ہے لیکن جھٹ سے بولا۔۔دادا جی وہ کیا ہوتاہے؟۔۔ ہمارا تو زندگی میں کبھی نہیں لگا زیرو پیریڈ۔۔اب بھلا بتائیں۔ ان بچوں کے استاد کیا ہوں گے اور۔۔بس ۔۔۔خدا کی پناہ۔۔۔
اس پر چپ سائیں نے کہاکہ حق ہو۔۔۔ بھائیو۔۔ ماسٹر ندیم کی بات بالکل سو فی صد درست ہے۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استاد کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ استاد تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر کم توجہ دیتے ہیں لیکن کچھ استاد دور رحاضر میں بھی مثالی ہیں۔۔۔ جن کے نزدیک بچوں کی تربیت اور تعلیم ہی اہم ہے۔ چوپال کے بچوں سچ ہے کہ استاد کا کام تعلیم کے ساتھ ساتھ بچے کی تربیت ہوتا ہے لیکن اس مادی دور میں سب کچھ مادی ہوتا جارہا ہے اورخلوص وجذبہ ختم ہوتا جارہا ہے۔
انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن اس فضیلت کا اصل راز اس کے علم و شعور میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشروں کی ترقی کا انحصار تعلیمی سطح اور افراد کی تربیت پر ہوتا ہے۔ تعلیم اور تربیت دو ایسے ستون ہیں جن پر کسی بھی مہذب اور مضبوط معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، اور ان دونوں کا مرکز و محور استاد کی ذات ہوتی ہے۔ استاد ہی وہ شخصیت ہے جو علم کے چراغ روشن کرتا ہے، کردار کی آبیاری کرتا ہے اور نسلوں کی سمت متعین کرتا ہے۔تعلیم صرف کتابوں کے اوراق یا نصابی معلومات کا نام نہیں۔ یہ انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے، اسے سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ تعلیم فرد کو اپنی ذات پہچاننے، اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف روزگار تک پہنچانا نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر، فہم و بصیرت کی افزائش اور انسان کو معاشرے کا فعال اور با شعور رکن بنانا ہے۔
اگر تعلیم ذہن کو روشن کرتی ہے تو تربیت دل اور کردار کو نکھارتی ہے۔ تربیت انسان کو اخلاقیات، شرافت، نظم و ضبط، برداشت اور اچھے برے کی پہچان سکھاتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف علم رکھنے والے انسان نے کبھی کبھی اپنے علم کو نقصان دہ مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا، لیکن اچھے کردار کا حامل شخص ہمیشہ معاشرے کے لیے مفید رہا۔ اس لیے تعلیم اور تربیت کا ملاپ ہی حقیقی انسان سازی کا سبب بنتا ہے۔گھر تربیت کی پہلی درسگاہ ہے، مگر سکول میں استاد اس تربیت کو شعوری اور منظم انداز میں آگے بڑھاتا ہے۔ ایک قوم کی اخلاقی حالت کا اندازہ اس کی تربیت کے نظام سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
دوستو!استاد محض نصاب پڑھانے والا فرد نہیں بلکہ وہ شخصیت ہے جو نسلوں کی ذہنی و اخلاقی بنیادیں رکھتا ہے۔ استاد کا کردار کسی معمار کی طرح ہوتا ہے جو خام پتھر کو تراش کر قیمتی ہیرا بنا دیتا ہے۔ استاد اپنے علم، کردار اور عمل کے ذریعے طالب علم کے دل میں وہ چراغ روشن کرتا ہے جو زندگی بھر رہنمائی کرتا ہے۔استا د تو وہ ہے جو علم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات بھی سکھائے،سوال کرنے کی جرأت پیدا کرے،طلبہ میں خود اعتمادی اور سوچنے کی صلاحیت اجاگر کرے،محبت، شفقت اور دیانت داری کے ذریعے طلبہ کے دل جیتے اور اپنی زندگی سے عملی مثال بن جائے۔
استاد کا اثر صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھر، معاشرہ اور پوری قوم اس کے اثرات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔تعلیم، تربیت اور استاد ایک ایسا مربوط اور لازمی رشتہ رکھتے ہیں جسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم بغیر تربیت کے ادھوری ہے، تربیت بغیر علم کے بے سمت ہے، اور ان دونوں کے بغیر استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا۔ جب استاد خلوص نیت سے علم اور تربیت دونوں فراہم کرتا ہے تو نہ صرف انفرادی شخصیت پروان چڑھتی ہے بلکہ پوری قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔
صاحبو!آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ قوموں کی تقدیر کتابوں سے نہیں بلکہ اساتذہ کے کردار، طلبہ کی تربیت اور علم کی صحیح روح سے سنورتی ہے۔ اگر ہم ایک روشن، مہذب اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے ساتھ تربیت پر برابر توجہ دینا ہوگی اور اساتذہ کے مقام و احترام کو بحال کرنا ہوگا کیونکہ استاد ہی وہ چراغ ہے جو نسلوں کی تاریکی کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔۔۔۔ہماری نئی نسل کو استادوں کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا ورنہ ۔۔ وہ وقت دور نہیں جب یہی نئی نسل استاد کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے ترقی کی منازل کی بجائے تنزلی کاشکار ہو گی۔۔ لہٰذا استاد کا احترام کریں۔۔ رہے نام اللہ کا!۔