Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا آغاز، بی این پی اور جماعت اسلامی میں کڑا مقابلہ

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا آغاز، بی این پی اور جماعت اسلامی میں کڑا مقابلہ

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں قومی انتخابات کا میلہ سج چکا ہے، جہاں 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز نئی حکومت منتخب کریں گے۔ بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ بی این پی کی طرف سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے شفیق الرحمان مضبوط امیدوار ہیں۔

300 پارلیمانی نشستوں کے لیے 1981 امیدوار میدان میں ہیں، اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔ عوامی لیگ کے امیدوار اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے، کیونکہ ان پر پابندی ہے، لیکن نیشنل سٹیزن پارٹی، جسے جین زی کی قیادت حاصل ہے، جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں ہے اور اس کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔

انتخابات کے ساتھ ہی ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے جس میں عوام سے حالیہ قانون سازی پر رائے لی جائے گی۔ انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، اور فوج بھی انتخابی نگرانی کر رہی ہے۔

اگرچہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ ہے، تازہ عوامی سروے کے مطابق دونوں اتحادیوں کو تقریباً برابر ووٹ ملنے کی توقع ہے، یعنی بی این پی کو 44.1 فیصد اور جماعت اسلامی کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ جین زی کا ووٹ، جسے "کنگ میکر" قرار دیا جا رہا ہے، فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

پولنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا، اور اس میں 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔

ٹیگز: