نئی دہلی: خلیجی جنگ کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے بھارت کو اپنی توانائی پالیسی پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سیکیورٹی اور معاشی ماہرین کے مطابق، اگر بنیادی معاشی فیصلے بھی امریکہ کی منظوری سے مشروط ہیں تو یہ مودی حکومت کی خودمختاری کی ناکامی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بھارت کو صرف 30 دن کے لیے روس سے تیل خریدنے کی مہلت دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معرکہ حق میں شکست کے اسٹریٹجک اثرات عام بھارتی شہری محسوس کر رہا ہے، لیکن حکومت حقیقت تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ بھارت ہر امریکی حکم پر جھک رہا ہے، جو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے تشویشناک ہے۔