Wed, September 16, 2026

مقابلے کا امتحان اور خوابوں کے بوجھ

مقابلے کا امتحان اور خوابوں کے بوجھ

حقوق و فرائض کی جب بھی بات کی جائے ہمیشہ ٹکڑوں میں اور قسطوں میں ہی کی جاتی ہے، عوام کبھی خواتین کے حقوق کے لیے سراپا احتجاج نظر آتی ہے تو کبھی خواجہ سراو¿ں کے، لیکن اس سب سے بڑھ کر عوام الناس کے حقوق پر بات آخر کب کی جائے گی، اور عوام میں بھی بالخصوص طلبا کے حقوق پہ کون روشنی ڈالے گا، ریاست کی ذمہ داری ہے روزگار مہیاکرنا، ہم اخبار کالے کر دیتے ہیں ریاست کے حقوق لکھنے پہ، ٹیکس ادائیگیوں پہ ٹی وی پروگرامز میں بھاشن جھاڑتے ہیں لیکن ریاست کے فرائض اور عوام کے حقوق پہ آخر کیوں ہمیں سانپ سونگھ جاتا ہے؟ کون ایوان میں سوتے گِدھوں سے برین ڈرین کا حساب مانگے گا؟ ہم بصدِ شوق کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے جوان تعلیم چھوڑ کر ٹک ٹاک پہ لگ گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں نہ لگیں وہ ٹک ٹاک پر جب وہاں سے آمدن آ رہی ہے، بچے یونیورسٹیوں میں دھکے کھا کے ڈگریاں کرتے ہیں، پھر فارغ التحصیل ہو کر پتہ چلتا ہے کہ جو نوکری نہیں ہے، نوکری کے لیے جاو¿ تو کہیں گے تجربہ لاو¿، کس دکان پہ ملتا ہے یہ تجربہ؟ کتنے روپے کلو ہے؟ بنا تجربے کے نوکری کے لئے یا سفارش چاہیے یا رشوت! غریب کا بچہ کہاں سے لائے رشوت؟ کون کرے گا اس کی سفارش؟ تب اس کی پلکوں پہ سجائے جاتے ہیں حسین سپنے۔۔۔ سرکاری نوکری کے سپنے، کہ بھائی مقابلے کا امتحان پاس کر لے، پکی نوکری لگ جائے گی، گاڑی گھر سب مل جائے گا تو بچہ ان خوابوں کے بوجھ کاندھے پہ لادے بڑے شہر کا ر±خ کرے گا، اسے صلاح دی جائے گی کہ اکیڈمی لگاو¿،ہر بڑے شہر میں رنگ بازوں نے اکیڈمی کے نام پہ خواب بیچنے کے ٹھیلے لگا رکھے ہوں گے، جہاں وہ خوف اور خواہش کی خوبصورت پیکنگ میں اپنا اپنا چورن اس انداز سے بیچیں گے کہ آپ اگر ہمارے پاس چھ مہینے لگا لیں تو کامیابی یقینی ہے، ہم باقیوں سے بہتر تیاری کرائیں گے، پھر کوئی ماں کی بالیاں بیچ کر داخل ہو گا تو کوئی باپ کی زمین بیچ کر، ان ٹھیلوں پہ پرانے گاہک بھی اکثر میلہ لگانے آئیں گے کہ جی ہم نے یہیں سے پڑھا ، یہیں سے سیکھا اور اب دیکھو ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے، چھ مہینے میں احساس ہو گا یہ ٹھیلا اتنا اچھا نہیں تھا کسی اور پہ چلتے ہیں، پھر بالیاں بکیں گی، پھر گھر گروی رکھا جائے گا اور پھر سے چھ مہینے لگائے جائیں گے، ہاسٹل کے اخراجات الگ، کتابوں کے اخراجات الگ اور پھر پرانے کامیاب گاہکوں کے نوٹس کا ٹیکا الگ، بوکھلائے بچے سے جو بن پائے گا کرے گا، صحیح غلط جو بتایا جائے گا کرنے بیٹھ جائے گا، راتیں کالی کرے گا، کبھی جائے نمازوں پہ بلکتا سو جائے گا، جب جب ہمت ٹوٹنے لگے گی بٹوے سے ماں باپ کی تصویر نکال کر ان سے دل کے وہ سارے دکھ سکھ کرے گا جو شاید حقیقت میں کبھی نہ کر سکے، امتحان میں بیٹھے گا اور صرف اس لیے فیل ہو جائے گا کہ اس سال کسی مخصوص مضمون میں بچوں کا رش زیادہ ہونے کے کارن کمیشن نے وہ سبجیکٹ ٹارگٹ کرنے کا خود ہی فیصلہ کر لیا پھر ٹھیلا بدلے گا پھر سال لگائے گا پھر امتحان دے گا اور نتیجے کے انتظار میں بالوں میں چاندی اتر آئے گی، گزشتہ نتیجہ آنے سے پہلے کمیشن امتحان کی تاریخ دے دے گا، اور وہ شش و پنج میں ہوگا کہ اب کرے تو کیا کرے؟ عمر بیتتی جا رہی ہے، ہاتھ خالی ہیں، وہیں اسی مقام پہ کھڑا ہے جہاں چار سال پہلے کھڑا تھا، عدالت کادروازہ بجائے گا اور نامراد لوٹے گا، بھلا چند ہزار اسپائرنٹس کی کمیشن کے سامنے اوقات ہی کیا ہے؟ بھلا جن سندر سپنوں کے لیے ایک بچے نے جوانی رول دی، خاندان کی خوشی غمی میں نہیں گیا، جس کی چمکیلی آنکھوں میں راتوں کو جاگ جاگ کر ویرانیاں اتر آئی ہیں وہ کون ہوتا ہے کمیشن کو بتانے والا کہ آپ سال بھر تنخواہیں لینے کے باوجود نتیجہ کیوں نہیں دے پائے؟ ارے کمیشن سے تو آج تلک وہ جواب نہیں مانگ پائے جو امتحان پاس کر کے نشستوں کی کمی کے باعث حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دئیے گئے، جب آپ کا امتحان سو میں سے صرف دو پاس کرتے ہیں تو کم از کم ان دو کو تو کہیں کھڈے لائن لگا لو، تو پھر اگر آپ کا جوان ڈنکی لگا کر ملک چھوڑ جائے تو اسے غلط کہنے کا آپ کو کوئی حق نہیں، اگر ڈگری ہولڈر نے ٹیکسی ہی چلانی ہے تو جو ٹک ٹاک پر مجرے کر کے پیسہ کما رہا ہے اور گھر چلا رہا ہے اسے اخلاق سوز مت کہو، اخلاق سوز اپنے جوانوں سے متعلق ان کمیشن کا رویہ ہے، تعفن زدہ ہے آپ کا نظام، اور بد قسمتی یہ ہے کہ جو آواز اٹھاتا ہے اس سے کمیشن ناراض ساس والا برتاو¿ کرتا ہے، دو ہزار انیس میں ایک دلیر باپ کی بچی جنرل نالج کے پرچے میں موجود غلطیوں پہ کمیشن کے آگے ڈٹ گئی، اپنے ساتھ پچاس ساٹھ اور پاس کرا لے گئی، اور پونے آٹھ سو نمبروں والی وہ لڑکی میرٹ پہ نشست حاصل نہ کر پائی، کمیشن کے مضمون ٹارگٹ کرنے کی ریت کے باعث کچھ بےچارے پاس ہو کر بھی مقابلے میں نہیں رہتے، تو اگر بھرتی کا فیصلہ نمبروں پہ ہی کرنا تھا تو انٹرویو کی ل±چ کیوں تلتے ہو؟ میں اس ملک میں رائج کمیشن کے غنڈہ راج پہ صفحے کالے کرنے بیٹھوں تو شاید سیاہی ختم ہو جائے، اس تحریر کے ذریعے میں اربابِ اختیار اور بالخصوص حکومتِ وقت سے یہ گزارش کرنا چاہوں گی کہ خدارا بچوں کی حالتِ زار پہ رحم کریں، کبھی تو کٹہرے میں کمیشن کو بھی لا کھڑا کریں، کبھی تو کسی غریب طالب علم کی روداد بھی سن لیں....یہ بچے آپ کا مستقبل ہیں، ان بچوں نے بہت کچھ داو¿ پر لگا کے اتنے سال محنت کی ہے، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز صاحبہ آپ کو یہ سب بچے بہت اپنایت سے “اوہ سب دی ماں آگئی اے” کہہ کے قدم بوسی کریں گے اگر آپ کمیشن سے پوچھیں کہ کیسے ایک بچے کو چار سال کی پڑھائی کے بعد جی جان لگا کر لکھے مضمون میں سو میں سے پانچ نمبر دئیے گئے؟ اگر آپ کمیشن سے پوچھیں کہ امتحان میں ٹھیک لکھ کر آئے بچے کو اگر بلاوجہ ہی کوئی ممتحن نمبر نہ دے تو وہ کیوں سوال نہیں کر سکتا؟ کیا ہمارے ملک میں یہ کمیشن کوئی خدا ہے؟ جو بچوں کی تقدیروں کے فیصلے بھی کرے گا اور من مرضی بننے پہ ان کی آنکھوں میں سجے خواب توڑ موڑ کر کچرے میں پھینک چھوڑے گا؟ اور اگر وہ ایسا ہی کرتا رہے گا تو آپ کی طرف امداد کو کوئی کیوں نہ دیکھے؟ حکومتِ وقت سے گزارش ہے کہ ان بچوں کی داد رسی کرے، طاقت کے نشے میں بد مست کمیشن کو ان بچوں کے خواب پیروں تلے روندنے سے باز رکھے، ان کی کوئی امید تو بر آنے دے۔

ٹیگز: