Wed, September 16, 2026

ڈگری یا مہارت ، اہم کیا ہے؟

ڈگری یا مہارت ، اہم کیا ہے؟

ہمارا تعلیمی نظام، جو کچی اور پکی سے ہوتا ہوا، بی اے اور ایم اے پر ختم ہوتا تھا، وہ بھی اب قصہ پارینہ ہوا اور اب یہ نظام پہلے مونٹیسوری پھر پلے گروپ پھر نرسری پھر کے جی اور پھر ون ٹو سے ہوتے ہوئے سولہ، اٹھارہ یا بیس سالہ تعلیم پر مشتمل ہے۔ بلا شبہ یہ نظام اپنے اندر کئی شعبوں کو سموئے ہوئے ہے۔ کئی نئے ڈسپلن متعارف ہوئے ہیں اور مزید نئے شعبے بھی متعارف ہو رہے ہیں۔ سولہ سالہ تعلیم کے بعد یہ مزید ایم فل، پی ایچ ڈی کی سطح پر طلبا و طالبات کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو نکھار رہا ہے اور کچھ بہت قابل نو جوان لڑکے لڑکیاں اپنے میدان میں خاطر خواہ قابلیت حاصل کر کے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیںآنے والا وقت اتنا عجیب ہے، ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز رفتار سے جدت پیدا ہو رہی ہے۔ مذکور صورت احوال ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ آنے والے برسوںمیں ڈگریاں سکڑ جائیں گی، کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اس کام کا ابتدائی علم اور اس کی مختصر تاریخ بھی کوئی معنی نہیں رکھے گی، بلکہ اس کام کو بہتر انداز میں کرنے کی خوبی ہی اصل چیز ہو گی۔ گوگل کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اس میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد ہے، جن کے پاس ڈگری نہیں، لیکن وہ اپنے کام میں ماہر ہیں۔آنے والا وقت ڈگری سے سکڑ کر سرٹیفیکیشن تک رہ جائے گا۔ سکلڈ لوگ ہی اس دنیا میں آگے پائیں گے۔ دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے تعلیم کا طریقہ کار بدل رہا ہے اب بیس بیس سال کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار نہیں ملتا اس لئے آج کا طالبعلم پروفیشنل ازم کی طرف آرہا ہے وہ چاہتا ہے کہ اسے کم دورانیے کی ایسی تعلیم ملے جس کے بعد وہ با عزت روزگار حاصل کر سکے ۔سکلز ڈویلپمنٹ کا مطلب نوجوانوں کو محض پیشہ ورانہ تربیت تک محدود رکھنا نہیں بلکہ روزگار کی فراہمی بھی پروگرام کا حصہ ہے۔
آج امریکہ،برطانیہ،فرانس اور روس جیسے ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی ترقی میں اِن ممالک کے ماہر نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ایسے ماہرین اِن اداروں سے تربیت پا کر نکلتے ہیں، جو نصابی تعلیم کے ساتھ فنی مہارت بھی سکھاتے ہیں،اِن مغربی اور یورپی ممالک میں باقاعدہ طور پر فنی تربیت کی تعلیم کا اہتمام ہے اور جو نوجوان ہائی سکول تک تعلیم حاصل کرنے پر مجبور یا خود سے آگے نہیں پڑھنا چاہتے وہ اِس وقت تک کسی نہ کسی فن میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔ہمارے م±لک میں اِس امر کی کمی محسوس کی جاتی تھی اور ہمارے دانشور اور ماہرین کا ہمیشہ مطالبہ ہوتا تھا کہ پاکستان میں بھی ایسے تعلیمی ادارے ہوں، جہاں نصابی تعلیم کے ساتھ یا نصابی تعلیم کے بعد فنی تعلیم دی جائے اور مختلف نوعیت کے کاموں میں مہارت حاصل کر کے نہ صرف اپنے لئے روزی پیدا کریں،بلکہ ملکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں، کہ یہ روایتی مہارت کی بجائے باقاعدہ جدید دور کے تجربات پر مشتمل مہارت ہوتی ہے دوسرا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہمارے ملک سے بیرون ملک مزدوری کرنے کے لئے جانے والے افراد کی ا کثریت سکلڈ نہیں ہوتی جس کا نتیجہ وہ وہاں پر مزدوری کرتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو یہاں پر بھی وہ کوئی کام دھندہ نہیں کر پاتے جو کچھ کما کر لائے ہوتے ہیں چند ماہ یا سال میں ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد صرف یادیں رہ جاتی ہیں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا جس پر کوئی خاص توجہ نہیں تھی حالانکہ اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن، وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے نام اسے ایک ادارہ موجود ہے جس مقصد ہی یہ ہے وہ بیرون ملک پاکستانیوں کی کاونسلنگ کرے تاکہ وہ بہتر پرفارمنس کے ساتھ جب واپس آئیں تو یہاں بھی با عزت روزگار کما سکیں اب اس ادارے نے جرمنی کے ایک ادارے کے ساتھ مل کر انسانی ترقی کے کاموںپر توجہ دینا شروع کی ہے جس کا مقصد ہنر مند فورس پیدا کرنا ہے سکل ڈویلپمنٹ(فنی مہارت) م±لک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت و اہلیت کی حامل ہے اور ادارہ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کو مواقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ تربیت حاصل کر کے قوم کی خدمت کریں۔ فنی ترقی سے م±لک صنعتی میدان میں ترقی کرتے ہیں ۔ ہمارے م±لک میں نصابی تعلیم سے کلرک پیدا ہو رہے تھے اور صنعتی ترقی کے لئے نان سکلڈ اور روایتی تربیت یافتہ افراد پر انحصار کرنا پڑتا تھا اب نوجوان نہ صرف نصابی تعلیم، بلکہ باقاعدہ جدید فنی تربیت بھی حاصل کر کے م±لک کے مختلف صنعتی شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکیں گے۔ اس سے بے روز گاری میں کمی اور صنعتی ترقی میں اضافہ ہو گا۔
اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن اور جرمن فیسیلیٹیشن سینٹر اینڈ ری اینٹی گریشن سینٹر (پی جی ایف آر سی) کے باہمی اشتراک سے پاکستان میں روزگار، کاروبار اور تعلیمی امکانات کے حوالے سے بالمشافہ مشاورت، مدد اور معلومات فراہم کرتا ہے۔یہ مددبیرون ملک سے واپس آنے والوں جنہیں معاشی اور سماجی مدد درکار ہو اور مقامی افراد جو اپنے مستقبل کے امکانات کو بہتر بنانا چاہتے ہوں،دونوں کے لیے ہے۔ یہ ادارے ا±ن کے ساتھی پاکستان میں نوکری کے حصول میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور ساتھ ہی ا±ن کی بھی جو تعلیم، تربیت یا اپنا کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند ہوں۔ یہ ادارے کئی شعبوں میں مدد فراہم کرتے ہیں۔اگر آپ پاکستان میں تربیت اور مستقبل کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ تعلیمی مواقع، مستقبل کی رہنمائی اور مزدوروں کے حوالے سے معلومات اور مشاورت۔ مخصوص پیشہ ورانہ مہارت اورنیا کاروبار شروع کرنے کی تربیت،اس ادارے سے کوئی بھی رابطہ کر کے مفت سروس حاصل کر سکتا ہے بلکہ اس ادارے کے افراد اور مشیران سے انفرادی ملاقات کا اہتمام کرتے ہیں اور راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آپ یہاں فون بھی کرسکتے ہیں اور فیس بک یا ای میل پر سوالات بھی بھیج سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں یہ ایک انتہائی اچھا اقدام ہے جس سے ایسے افراد جن کی تعلیم واجبی ہے اور وہ کوئی ہنر سیکھنا چاہتے ہیں تو اس ادارے کی فراہم کردہ مفت سہولیات سے فائدہ اٹھا کر ہنر مند بننے کے ساتھ مفت با عزت روزگار بھی حاصل کر سکتے ہیں تمام معلومات ،پی جی ایف آر سی اور اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے بیرون ممالک خصوصا یورپی ممالک کی تنظیمیں اور ادارے اس پاکستان کی نوجون نسل کو سکلڈ فراہم کرنے ہنر مند بنانے اور ان کی کاونسلنگ کے لئے پاکستانی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کافی فعال کردار ادا کررے ہیں جسے ایک مثبت عمل قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ ہمیں اس وقت ضرورت بھی ایسے ہی اداروں کی ہے جہاں کم تعلیم یافتہ افراد بھی کوئی ہنر سیکھ کر با عزت روزگار حاصل کر سکیں۔

ٹیگز: