Wed, September 16, 2026

پاکستانی معاشی ماہرین کی آئینی کونسل کی تجویز 

پاکستانی معاشی ماہرین کی آئینی کونسل کی تجویز 

کمزور معیشتوں کو صحت یاب کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاشی مددگار ادارہ جولائی 1944ءمیں بنایا گیا جس کا نام آئی ایم ایف رکھا گیا۔ آئی ایم ایف نے آج سے ٹھیک 78برس پہلے یکم مارچ 1947ءکو اپنے عملی کام شروع کئے اور سب سے پہلے فرانس نے اس سے معاشی مدد لی۔ آئی ایم ایف ایسا ادارہ ہے جو ممبر ملکوں کی کمزور معیشت کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے فنڈ ریلیز کرتا ہے۔ یہ مہربانی کرتے وقت آئی ایم ایف سخت شرائط عائد کرتا ہے جس کا بوجھ عموماً اُن ملکوں کے غرےب اور متوسط لوگوں پر پڑتا ہے۔ اُن کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے، بچتوں کی شرح گر جاتی ہے اور وہاں کے عام لوگ بمشکل روزمرہ ضروریات ہی پوری کرپاتے ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے والی حکومتیں آئی ایم ایف کی اِن سختیوں کو برداشت کرنا اپنی کمزور معیشت کو صحت ےاب کرنے کے لیے ضروری گردانتی ہیں لیکن یہ حقیقت بہت حیران کن ہے کہ ابتدائی برسوں کے بعد شاید ہی کوئی کمزور معیشت آئی ایم ایف کے سہارے مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہو۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ اِس فنڈ کے ذریعے مذکورہ معیشت کی رکتی سانسیں کچھ بہتر ہو جائےں جیسے مریض کو مصنوعی سانس کا آلہ لگا دینے سے ہوتا ہے لیکن آئی ایم ایف کے کندھوں پر چڑھ کر کوئی معیشت بھی شاید اب ترقی یافتہ نہیں کہلائی 
جاسکتی۔ اس کی جیتی جاگتی مثال خود پاکستان کی معیشت ہے۔ ہم انٹرنیشنل سودی اداروں پر صرف یہ کہہ کر پردہ نہیں ڈال سکتے کہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے والے یہاں کے سارے سابقہ حکمران تھے۔ کےا پاکستان کے سارے کے سارے سابقہ حکمران صرف بے اےمان، چور، ڈاکو ہی تھے؟ اور کےا سودی انٹرنیشنل ادارے نیک پروین ہیں؟ پاکستان کی موجودہ حکومت نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا اُس کے عام لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ بات مستقبل میں واضح ہوگی۔ آئی ایم ایف سے قرضے لے کر بیمار معیشت کو بہتر کرنے میں جو نئی شدید بیماریاں لگ جاتی ہیں اُن میں سے اےک مقامی ماہرین معیشت کو ملکی معیشت کے فیصلوں سے دور کرکے بے اختیار کردینا ہوتا ہے جوکہ آزاد ملک کی خودمختاری پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ دیتا ہے۔ مزید یہ کہ اِس مرتبہ آئی ایم ایف کے مختلف وفود نے پاکستان کے مختلف اداروں جن کا تعلق معیشت سے نہیں تھا کے دورے بھی کئے اور ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں جس میں سرفہرست آئی ایم ایف کے وفد کا سپریم کورٹ کا دورہ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف یہ جو نئے راستوں پر چل پڑی ہے یہ راستے کہاں لے کر جائیں گے فی الحال کوئی نہیں بتاسکتا۔ عام سوجھ بوجھ رکھنے والے آدمی کے لیے بھی یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ اِن انٹرنیشنل اداروں سے فنڈ لے کر معیشت کو کےونکر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ بات واضح نظر آنے لگتی ہے کہ اِن قرضہ جات کے ذریعے اُن ملکوں میں امریکی اثر اور دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔ ےہ بات آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے والے ملکوں سے زیادہ امریکہ کے لیے خوشخبری ہوسکتی ہے۔ کیا مستقبل میں ایسی کسی تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے چوٹی کے معیشت دان جنہیں انٹرنیشنل سطح پر بھی تسلیم کےا جاتا ہے اور دوسرے ممالک اُن کی معاشی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہےں اُن کی ایک مستقل معاشی اےڈوائزری کونسل آئینی ترمیم کے ذرےعے بنائی جائے جو کسی بھی حکومت کے آنے اور جانے سے نہ تو متاثر ہو اور نہ ہی کسی حکومت کے سیاسی عوامی فیصلوں کے دباﺅ میں آئے۔ ےہ مستقل معاشی اےڈوائزری کونسل پاکستان کے لےے معاشی پالیسیاں بنائے اور اُن پر عمل درآمد کا سختی سے مستقل جائزہ لیتی رہے۔ ہمارے ہاں سکیورٹی ادارے ملکی دفاع کے حوالے سے کسی قسم کا سیاسی دباﺅ قبول نہیں کرتے۔ اگر مجوزہ مستقل معاشی اےڈوائزری کونسل کی تیار کردہ پالیسیوں کو بھی ہمارے سکیورٹی ادارے مذکورہ آئینی ترمیم کے ذرےعے دفاعی سطح کا تحفظ فراہم کریں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں کبھی انٹرنیشنل سودی اداروں سے پاکستانی معیشت کی جان چھوٹ جائے اور ہم بھی اپنی کمزور معیشت کا علاج جدید معاشی اصولوں کے ذریعے کرسکیں۔ اس کونسل کی تجویز کے لیے ایس آئی ایف سی کو رول ماڈل بنایا جاسکتا ہے۔ 

ٹیگز: