Wed, September 16, 2026

ہمارے مسائل اور ان کاحل

ہمارے مسائل اور ان کاحل

غالباً میرا حلیہ اِس طرح کا ہے کہ لوگ مجھے مفتی یا کوئی عالم دِین سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ میں یو ای ٹی لاہور کا پڑھا ہوا ایک الیکٹریکل انجینئر ہوں۔ میں اگر لائبریری میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا ہوں یا کمپیوٹر پر کام کررہا ہوں تو نوجوان میرے پاس اَپنے چبھتے ہوئے اَور دیرینہ مسائل لے کر آتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں شاید ا±نہیں دینی معاملات میں فتویٰ دینے کا مجاز ہوں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ بھائی میں مفتی نہیں ہوں۔ لیکن ا±ن کے مسائل اِتنے پیچیدہ ہیں اَورچونکہ انہیں ان کا حل فوری طور پر درکار ہوتا ہے اِس لیے وہ میرے آگے سوال ضرور رکھ دیتے ہیں۔
ان کے بڑے بڑے مسائل یہ ہیں۔ درود تاج پڑھنا جائز ہے یا نہیں، بالکل برہنہ ہوکر وضو کیا جائے تو کیا وضو ہوجائے گا، یا علی مددکہنا کیسا ہے، اِمام مہدی کون ہیں اَور کب آئیں گے۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ یہ آپ کے مسائل نہیں ہیں۔ آپ کے مسائل یہ ہیں یا یہ ہونے چاہئیں کہ آپ نے جھوٹ تو نہیں بولا، کوئی بے اِیمانی تو نہیں کی، کسی کا دِل تو نہیں دکھایا، ملک و ملت کے لیے کوئی بڑا کام کیا ہے یا نہیں، کسی کا مال ناجائز طریقے پر تو نہیں کھایا، کسی کو نقصان تو نہیں پہنچایا، جسے فائدہ پہنچا سکتے تھے ا±س سے اِعراض تو نہیں کیا۔ میں انہیں بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ آپ کے مسائل وہ ہیں جن کے بارے میں آپ سے روزِ قیامت پوچھ گچھ ہونی ہے۔ اِمام مہدی کا ان سوالوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 
میں یہ دیکھتا ہوں کہ ہمارے نوجوان اَور بوڑھے دونوں اِسی قسم کے سوالوں کے پھیر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ اِس سے بڑا مسئلہ اَور کوئی ہے ہی نہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِن لوگوں نے دِین کو خود سمجھنے کی کوشش کی ہے اَور نہ ہی کسی اَور نے اِنہیں دِین سمجھایا ہے۔ یہ دِین کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ نماز اَور روزے کے مسائل کو جان لیں۔ چند روز پہلے میری ایک رِشتے دار خاتون جو عمرے پر جانے والی تھیں اِس بات پر بے حد پریشان تھیں کہ وہاں ا±نہوں نے پوری نماز پڑھنی ہے یا قصر۔ سنتیں اَور نفلیں پڑھنی ہیں یا نہیں۔ میں نے انھیں بھی یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مسئلہ نہیں ہے۔اگر آپ کے پاس وقت ہے تو آپ سنتیں اَور نوافل پڑھ لیں۔ انہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی اَور ا±نہوں نے ایک اصلی مفتی سے یہ سوال کیا۔ انہوں نے ایک طویل جواب میں یہ بات سمجھائی کہ آپ کی مرضی ہے چاہیں تو پڑھ لیں اَور چاہیں تو نہ پڑھیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہم مسلمان مکمل طورپر بے عمل ہوچکے ہیں۔ ہماری سوچ یہ ہوگئی ہے کہ کسی طرح کوئی اَیسا وظیفہ ہاتھ آجائے جس سے بہت سی دولت مل جائے اَور ہم مر کر جنت میں بھی چلے جائیں۔ اِس کام کے لیے ہم اَپنا ناخن کٹوانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں البتہ د±وسرے کی گردن کاٹنے کو ضرور باعث اِفتخارجانتے ہیں۔ ہماری ساری توجہ بے کار کے بحث مباحثوں میں شریک ہونے پر ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ لوگ د±وسروں کے اِیمان کا فیصلہ کرنے، بارِیک ترین مسائل کے حل تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر یہ کہ ہماری توجہ اِس پر بھی مرکوز رہتی ہے کہ قربِ قیامت کی کتنی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں اَور کتنی باقی ہیں۔ دجال کہاں پیدا ہوگا یا پیدا ہوچکا ہے؟ دجال اَور فتنہ دجال میں کیا فرق ہے؟ کوئی فرق ہے بھی یا نہیں؟ کیا دھواں سے مراد فضائی آلودگی ہے؟ 
مزید یہ کہ جہاں کہیں بھی کوئی آسمانی آفت نازل ہوتی ہے ، اَور اگر وہ ایک کافر ملک ہو، تو ہم فوراً فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اَور فلاں فلاں وجوہات کی بناءپر نازِل ہوا ہے۔ جس عذاب سے ایک غریب اَور نادار پاکستانی کی زِندگی روزانہ کی بنیاد پر گزر رہی ہے اس کے بارے میں کوئی غور نہیں کرتا کہ کیا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ ہم صرف زلزلے، طوفان، سیلاب اَور آگ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کا عذاب سمجھتے ہیں۔ پھر اِس پر ایک بحث شروع ہوجاتی ہے کہ یہ عذاب کیوں نازل ہوا۔ کوئی کچھ کہتا ہے، کسی کو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم یاد آجاتے ہیں، کسی کو ان لوگوں کی بے راہ روی دِکھائی دے جاتی ہے، کوئی ا±ن کے غلط عقائد کو نشانہ بناتا ہے۔ غرض جتنے منہ ،اتنی باتیں۔ 
اَصل بات یہ ہے کہ ہماری توجہ جن باتوں اَور اعمال پر ہونی چاہیے، ہم ا±ن سے منہ موڑے بیٹھے ہیں۔ اِمام مہدی کون ہیں، دجال آگیا یا نہیں یا کب آئے گا، قیامت کی کون کون سی نشانیاں ظاہرہوچکی ہیں، کوئی ظاہر ہوئی ہے یا نہیں وغیرہ وہ باتیں ہیں جن کا ہماری د±نیا یا آخرت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہم سے پوچھ اِس پر نہیں ہونی کہ ہمارا اِمام مہدی کے بارے میں کیا عقیدہ تھا یا یہ کہ ہم نے یہ معلوم کرلیا تھا یا نہیں کہ قربِ قیامت کی کون کون سی نشانی اَب تک ظاہر ہوچکی ہے۔ ہمارا حساب کتاب ہمارے عقائد اَور اَعمال کے مطابق ہوگا۔ د±وسروں کو ہماری ذات سے کتنا فائدہ پہنچا، یہ جانچا جائے گا۔ ہم نے کس کس کو دھوکا دیا، یہ پرکھا جائے گا۔ ہمارے دِل میں اِیمان تھا یا ہم منافق تھے۔ ہمارے اَندر اخلاص کے درخت کی جڑیں کتنی گہری تھیں۔ یہ وہ تمام کام ہیں جن پر عمل کرنے سے بظاہر مالی نقصان نظر آتا ہے اَور زبان کے چٹخارے بھی نصیب نہیں ہوتے۔ د±وسروں کے اِیما ن اَور عقائد کا فیصلہ بھی نہیں ہوپاتا۔ یہ بھی نہیں پتا چلتا کہ کون جنتی ہے اَور کون جہنمی۔ چنانچہ اِن باتوں کی طرف ہماری قطعاً کوئی توجہ نہیں ہے۔ ہم معجزات، کرامتوں اَور چمتکار کے منتظر ہیں کہ کسی طرح کچھ اَیسا ہوجائے کہ ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے اَور تمام کام د±رست ہوجائیں۔ اَیسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ 
سر ونسٹن چرچل 1940سے 1945تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب د±وسری جنگ عظیم شروع ہوچکی تھی اَور فرانس کو زیر کرنے کے بعد ہٹلر برطانیہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا۔ چرچل کے کئی وزیر اَیسے تھے جو یہ چاہتے تھے کہ ہٹلر سے جنگ نہ کی جائے، کیونکہ ا±س میں ہارنا لازمی تھا۔ ا±ن کے خیال میں برطانیہ کی فوج ہٹلر کی فوج کا کسی صورت مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے چرچل پر یہ دباو¿ ڈالنا شروع کیا کہ وہ ہٹلر کےساتھ امن کا معاہدہ کرلے۔ چرچل یہ کرنے کے حق میں نہیں تھا اَور ہر صورت میں لڑ کر اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہتا تھا۔تارِیخ نے ثابت کیا کہ چرچل د±رست تھا اَور ا±س کے بیشتر وزیر غلط سوچ رہے تھے۔ تب چرچل نے ایک بات کہی تھی۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ا±س پر غوروفکر کریں۔ ا±س نے کہا تھا ”کوئی فتح دائمی نہیں ہوتی۔ کوئی شکست جان لیوا نہیں ہوتی۔ یہ آگے بڑھتے رہنے کی ہمت ہے جس کی اَصل اَہمیت ہے۔“
آگے بڑھنا، کچھ نیا کردکھانا، اقوام عالم میں کوئی اونچا مقام حاصل کرنا، د±شمنوں پر دھاک بٹھانا، دوستوں میں اضافہ کرنا ہماری ترقی کی سیڑھیاں ہیں۔ اِن پر توجہ دیے بغیراَور اِن سے کنی کترا کر ہم کبھی بھی کہیں بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ جس کی دنیا اس کی بے عملی کی وجہ سے خراب ہو، اس کی عاقبت پر بھی ایک بڑا سا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ہمیں اَپنے بے کار کے مسائل کو چھوڑ کر بڑی بڑی باتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ تب ہی ہم کچھ کرپائیں گے۔ 

ٹیگز: