ذی الحج کا پہلا عشرہ، عظیم روحانی نعمتوں کو اپنے ہمراہ لیے تیزی سے گزر رہا ہے۔ پوری دنیا سے کھنچ کر مسلمان فریضہ¿ حج کی ادائی کے لیے مکہ المکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ اپنے باپ ابراہیمؑ حنیف اور ان کے خانوادے کی بے مثل زندگی کو اللہ نے حج کی عظیم عبادت میں سمو دیا۔پہلے مسلمان رمضان سے جلا پاتے، ہدایت کے جواہر سمیٹتے ہیں۔ بلند کرداری، اعلیٰ اخلاق ،ربِ کائنات کا قرب پانے اور اگلی تربیت کے مراحل حج سے طے کیے جاتے ہیں۔
آج دنیا روحانی اعتبار سے حددرجے تشنہ، حیوانیت، درندگی کو شرمائے دے رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کی قیادت کی تربیت کا ساز و سامان نبی¿ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے عطا ہوا۔قرآن، حکمتِ بالغہ، حجةِ بالغہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل طرزِ حیات !انسانیت کی قیادت غیر معمولی اوصاف کی متقاضی ہوتی ہے۔ ابراہیم، اسماعیل علیہما السلام، سیدہ ہاجرہؑ اور امام الانبیائ کی روشنی سے منور یحییٰ سنوار، ڈاکٹر الاءجیسے مبہوت کن انسان ڈھلتے ہیں۔ اس سے محروم رہ کر آج درندوں، بھیڑیوں کو مات دینے والے اکیسویں صدی کے نمرود و فرعون، بوجہل و عبد اللہ بن ابی سے دنیا متعفن ہو رہی ہے۔ دنیا میں چھیڑی جنگوں نے ضمیروں کی چھانٹی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ گلوب کی 9 ارب آبادی میں انسانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت صورتِ اہل غزہ بے مثل صبر و ثبات، ایمان و استقامت کے کوہِ گراں، اقصیٰ کے تحفظ کو دنیا کے ضمیر کے لیے امتحان بنی کھڑی ہے۔ پونے دو سال سے دنیا کے ہر ملک، ہر طبقے کے مرد و زن غزہ پر بے قرار مظاہروں، تحریر و تقریر، علم و دانش کی سطح پر مغربی استعمارکے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ناچنے گانے بجانے والا طبقہ اپنے اعزازت پھینک کر غزہ پر بھڑک اٹھا۔ اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کی تمامتر دانش (طلبائ، انتظامیہ، پروفیسر) نوکریاں، ڈگریاں دا¶ پر لگا کر چلا اٹھے۔ یو این اپنا ر وایتی سرکاری رویہ چھوڑ کر امریکہ اسرائیل کے خلاف سر بکف ہو گیا! مسلمان (الا ماشاءاللہ) چپ رہے۔ ابنِ سلول بن بیٹھے!
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی بڑی واحد ایٹمی قوت اسرائیل، دنیا کے طاقتور ترین عسکری اتحاد کی پشت پناہی سے ہر اسلحہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو چھلنی کرنے پر آزما چکی۔ رہائشی بلڈنگیں لاشوں بھرے ملبے میں ڈھل گئیں۔ ہسپتال، تعلیمی ادارے، اعلیٰ ترین ڈاکٹر، پروفسیر، صحافی، ہمہ نوع پروفیشنلز تاک تاک کر بارود سے اڑا ڈالے۔ چاند، مریخ پر کمندیں ڈالنے والے، سیٹلائٹوں، مصنوعی ذہانت کے شعبدے دکھا کر دل دماغ چندھیا نے والوں کے ہاں خون کی وحشت اثر ندیوں پر بند باندھنے کا کوئی فارمولا پونے دو سال میں نہ بن پایا؟؟؟ بھارت کے جہاز گرے تو دوڑے جنگ بندی کرانے؟ سیکورٹی کونسل کے ہاتھ امریکی ویٹو نے باندھ رکھے ہیں۔ سو اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا خونخوار مجرم امریکہ قرار پاتا ہے۔ جس نے اسرائیل کوغزہ لہو لہان کرنے، قبرستان آباد کرنے کو چھوڑ رکھا ہے۔ تاہم، اس خوں ریز معرکے میں ننگے پیر، لنگڑی ٹانگوں، ہوائی چپل پہن کر لڑنے والے، موت سے نہ ڈرنے والے فاقہ کشوں نے اپنی پر عزیمت، حقیقی بنیان مرصوص قوم کے ہمراہ جارح قوتوں کو ذلت و ہزیمت کے بدبودار عمیق گڑھوں میں دھکیل دیا ہے۔ دنیا اسرائیل کے لیے نفرت سے بھر چکی ہے۔
غزہ کی ریت میں مرکاوا ٹینکوں کے ڈھانچے اور ذلت و شکست خوردہ فوج دھنس کر رہ گئی ہے۔ نہ اگلے بن پڑ رہی ہے نہ نگلے۔ اسرائیل کے اندر انتشار روز افزوں ہے۔ ان کا سیاسی تجزیہ نگار ا کیوا ایلڈا کہتا ہے کہ ’سروے کے مطابق 50 فی صد اسرائیلی شدید ناراض ہیں کہ اسرائیل جنوبی افریقہ یا شمالی کوریا بنتا جارہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسرائیلی اس حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جرمنی جیسے، اب کھل کرنا قد ہیں۔‘ ادھر فرانس کا میکرون شدید نالاں ہے۔ اٹلی کے وزیر اعظم نے اسرائیلی بمباری فوری روکنے، غزہ سے بے دخلی کو ناقابلِ قبول قرار دینے، انسانی امداد کی فوری بحالی اور تعمیر نو کے پلان کا زور دار مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے ذلت آمیز امدادی تماشے کو (جس کی آڑ میں ہجوم اکٹھے کر کے ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں) پوری دنیا نے رد کر کے لعن طعن سے انھیں چھلنی کر دیا ہے۔ یو این کے ادارے روپیٹ رہے ہیں( امریکی جبر کے ہاتھوں بے بسی سے) کہ امداد کے یہ مناظر نہایت غیر مہذب، دل شکن، ظالمانہ، ذلت آمیز ہیں۔ ہمارے پاس طریق کار موجود ہے مگر ہمارے لدے ٹرکوں کو امریکہ، اسرائیل اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ 2.1 ملین آبادی کو روزانہ 600 ٹرک درکار ہیں۔ اسرائیل نے احسان کر کے 83 ٹرک ،ناقص خوراک، مقدار میں نہایت ناکافی، جنگی جہازوں کے خوف تلے، وقتاً فوقتاً فائر کھولتے فراہم کی ہے۔پانچ بچوں کی ماں خالی ہاتھ لوٹی، زمین پر گرے آٹے کو جھولی میں اکٹھا کرتی نیم دیوانی حالت میں اسے ہوا میں اچھال اچھال کر عربوں پر چلانے لگی جنھوں نے کھربوں ڈالر سے امریکی جھولی بھر دی!
اسی دوران تاک تاک کر ہسپتال کے عملے کو ختم کرتے اسرائیلیوں نے بچوں کی ڈاکٹر آلاءکے 9 بچے اور شوہر پر بمباری کر کے قتل کر دیا۔ عمر 6 ماہ تا 3 1 سال۔دنیا مکمل با پردہ ڈاکٹر کے بے مثل صبرِ جمیل پر دم بخود ہے۔ مسلسل قرآن زیر لب،ہسپتال میں فلسطینی بچوں کی ڈیوٹی پر اپنے غم بھلائے حاضر ہے۔ محبوب شوہر کی روح چیر دینے والی جدائی، پھولوں، موتیوں جیسے اپنے خوبصورت بچے جو یوں بچھڑے کہ پہچاننا ممکن نہ تھا کہ یہ کون سا بچہ ہے۔ ہر لختِ جگر، لخت لخت، پارہ پارہ! اسرائیل کی سفاکی پر سابق یہودی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ چیخ اٹھا۔ بس کر دو بس! اسرائیل جنگی جرائم کیے جا رہا ہے مجرم گینگ نتین یاہو کی سربراہی میں، ایک نئی طرح نکال کھڑی کی ہے اس خطے میں۔اسرائیلی ماہرین تعلیم بھی امداد کی بے رحمانہ تقسیم پر آگ بگولہ ہو کر چلا اٹھے!
اللہ امریکہ کو تنبیہات بھیج رہا ہے۔ ’ہوائی‘ میں آتش فشاں نے سینکڑوں فٹ اونچا، لاوا ہوا میں اچھالا۔ لال بھبھو کا اور سیاہ خوفناک جہنم، دھواں، آگ، راکھ، آتش فشانی پتھر، شیشے جیسے مادے کا پھیلا¶ چھ گھنٹے ابلتا، اگلتا رہا! ظلم پر جہنم پھٹ پڑی۔ ادھر 31 مئی سے خبر جاری ہوئی کہ فلوریڈا تیار ر ہے۔ خوفناک تیز و تند طوفانوں کا سیزن شروع ہونے کو ہے۔ غیرمعمولی تعداد میں طوفان متوقع ہیں اگلے چھ ماہ میں۔
پاکستان بھارت جنگی معرکہ، امریکہ اور بھارت دونوں کے لیے نہایت غیر متوقع نتائج لے کر آیا! پاکستان کی غیر معمولی کارکردگی نے سب کے ہا تھ پا¶ں پھلا دیے۔ لپک کر جنگ بندی کا اہتمام کیا گیا۔ مغربی دنیا، بالخصوص امریکہ ، فرانس (ر افیل طیاروں کا بھوسہ بننے پر)، برطانیہ (بر صغیر کا استعماری باپ) سر جوڑے سیٹلائٹ تصاویر چھان پھٹک رہے ہیں کہ ’اُلٹی پڑگئیں سب تدبیریں‘ کا معاملہ کیونکر ہوا۔ بھارت نے نہایت غیر معمولی دیوانگی میں 80 جہاز بیک وقت ہوا¶ں میں داغ دیے تھے نجانے کس لہر میں! دنیا نہیں جانتی کہ حکم ِربی کے تحت دشمنان اسلام کے خلاف معرکوں میں فرشتے آ سکتے ہیں۔ (الانفال: جو بہت سے مسلمانوں نے بھی نہیں پڑھی!) سیٹلائٹ کی رینج سے باہر کارکردگی، راز ہی رہتی ہے۔ آخر یہودی عیسائی تو ابراہیم علیہ السلام پر نمرودی آگ کا سلامتی بن جانا، سلیمان علیہ السلام کو عطا کردہ غیر معمولی قوتیں، فرعون کی غر قابی، موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کے معجزات سے واقف ہیں۔
اللہ کی مشیت کے تحت افغانستان کی غیر معمولی فتح، غزہ جنگ میں سارے اسلحے سمیت دو سال میں اسرائیلی فوج کی ناکامی۔ امریکی، اسرائیلی معیشت اور ساکھ کو تباہ و برباد کرنے والی قوت کون سی تھی؟ بھارت کے مقابل پاکستان کی غیر معمولی کارکردگی کے پیچھے بھی مشیتِ الٰہی کارفرما تھی۔ جہاز اڑانے والے مدتوں بعد خالص کفر کے مقابل ایمانی کیفیت سے شہادت کی تیاری اور وصیت دستخط کرکے چلے تو نتیجہ برآمد ہوا۔ الحمد للہ کہ سنگا پور، ’شینگریلا ڈائیلاگ‘ میں پاکستان کا موقف، مسئلہ کشمیر کی بھر پور وضاحت، اس کے حل پر دنیا کو متوجہ کرنا نہایت مو¿ثر رہا۔ بھارت میں مودی کی شامت آئی ہوئی ہے۔ حقائق کھل رہے ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں سنجیدگی، تدبر اور مضبوط ہمہ گیر پلاننگ کا فقدان ہے۔ رجوع الی اللہ کی کمی ہے۔ خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ قوم اور حکمرانوں کو متوجہ ہونا ناگزیر ہے!
زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا
بہت کچھ ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی