پہلے زمانے میں ٹاٹوں والے سکول جو اس وقت کسی بڑی یونیورسٹی سے کم نہیں ہوتے تھے۔ ایک آنہ فیس ادا کرنے والوں بچوں نے تختی، دوات اور قلم کے ساتھ بڑے لوگ بنائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کے ماسٹر جی کے خوف سے نیند نہیں آتی تھی اور پھر ایسے گائوں جہاں بجلی بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔ لالٹین کی روشنی میں ہم پڑھا کرتے تھے۔ کچے گھروں کے کچے چولہوں میں گیس کی جگہ بھینسوں کے گوبر سے بنی پاتھیاں جو گھنٹوں میں کچی ہانڈی میں سالن بناتی پکاتیں اگر آج کے زمانے کے مقابلے میں اس وقت کو دیکھوں تو وہ زمانہ بہت اچھا تھا جب ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے ملتا۔ کسی بھی چیز کی بھوک، پیاس نہیں تھی۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ وہ وقت کہاں کھو گیا، وہ دن جن کی دھوپ چھائوں میں گزری زندگی مطمئن تھی۔ جب گرمیوں میں ایک آنے سے ایک روپے تک بہت زیادہ برف ملا کرتی۔ فجر کے وقت گلی میں سے گزرتے کسی بابے کے درود شریف پڑھنے کی آواز۔ حویلی نما گھروں میں بڑے روشن دان، ہینڈ پمپ، سکول کے بستوں میں قلم دوات، ہولڈر، جی کی نب، تختی، گاچی، بستہ، چھٹیوں کا کام، لکیروں والا دستہ اور اس دستے پر اخبار چڑھانا، مارکر، حاشیہ، خوشخطی، رف کاپی، رف عمل، سلیٹ، سلیٹی اور سکول کے بعد تختیوں کو دھونا گاچی لگانا… شام کے دھندلکوں میں گلیوں میں چارپائیوں کا بچھنا، بچوں کا لکن میٹی، چور سپاہی، اڈا کھڈا، شٹاپو، باندر کلا، کوکلا چھپاکی، یسو پنجو‘ چڑی اْڑی کاں اْڑا کھیلنا۔ صراحی، چائے کی پیالیاں، سیڑھیوں کے نیچے باورچی خانہ، بتیوں والا چولہا، دکاندار سے چونگا مانگنا، محلے میں نیاز بٹنا اور آواز آنا ’’میرے بھائی کا بھی حصہ دے دیں۔‘‘ ٹھنڈی ہوا والی گولیاں شوق سے کھانا، مرونڈا، گچک، سوکھا دودھ، ڈیکو مکھن ٹافی، لچھے، ون ٹین کا کیمرہ، مائی کا تنور، کوئلوں والی استری، ہمسائے کے ٹیلی فون کا پی پی نمبر، گولی والی بوتل، جمعرات کی آدھی چھٹی، سکول میں بزمِ ادب، ششماہی امتحانات، پراگریس رپورٹ، عرس کے میلے میں دھمال ڈالتا سائیں، ٹیڈی پیسہ، چونّی، بارہ آنے، پْتلی تماشا، گراری والا چاقو، سیمنٹ کی ٹینکی، شام کے وقت گلی میں پائپ سے پانی کا چھڑکائو، دروازے کی کنڈی، دیسی تالا، ہاون دستہ، دادی کی کہانیاں، اْڑن کھٹولے کے خواب، ڈھیلی جرابوں کے اوپر ربڑ چڑھانا، لوہے کی بالٹی، جست کے برتن، بھانڈے قلعی کرا لو، بندر کا تماشا، بچے کی پیدائش پر خواجہ سرائوں کا رقص، گلی میں پکتی دیگ، چھت کی نیند، تاروں بھرا آسمان، دوپٹے کے پلو میں بندھے پیسے، انٹینا، چھت پر مٹی کا لیپ، شہتیر، بالے، پھونکنی، تندوری، چڑیوں کا آلنا، مسہری، شوخ رنگوں کے پائے والا پلنگ، بان کی چارپائی، کھرا، نالی اور ذرا آگے چلتا ہوں اس زمانے میں پلاسٹک کی ٹونٹی، کپڑے دھونے والا دیسی صابن، ڈنڈا، مسی روٹی، پنجیری، سردیوں میں دادی اماں کے ہاتھوں کی پِنّیاں، بالو شاہی، دستر خوان، صبح کا ناشتہ اور رات کا مشترکہ کھانا، دانتوں پر ملنے والا منجن، سٹیل کے بڑے گلاس، سٹیل کی پلیٹیں، سٹیل کے جگ، بیٹھنے کے لئے موڑھے، سائیکل کی قینچی، سیلاب کا خوف، ماں کی آغوش، باپ کا ڈر، دھوتی، سلوکا، مشترکہ بیڈ روم، اینٹوں والا فرش، بیٹھک، اْستادوں کی مار، مولا بخش، کاربن پیپر، سوجی کی مٹھائی، ڈیمو کے لڑنے پر تالا رگڑنا، ڈیمو کے ساتھ دھاگا باندھ کر اڑانا، دو غباروں کے درمیان ڈوری باندھ کر ’’واکی ٹاکی‘‘ بنانا، پانی سے بھری بالٹی میں اْلٹا گلاس ڈال کر بلبلے نکالنا، صابن سے سر دھونا، سر درد کے لئے مولوی صاحب سے دم کرانا، بوتل کے سٹرا کو پائپ کہنا، آدھی رات کو ڈرائونے قصے سننا، بچی کھچی روٹیوں کے ٹکڑے کباڑیے کو بیچ دینا، مقدس عبارت والے اوراق چوم کر کسی دیوار کی درز میں پھنسا دینا، بیلٹ کے بغیر پینٹ پہننا اور محلے داروں سے شرماتے پھرنا، کْنڈلوں والے بال، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے قہقہے، سکول جاتے ہوئے بس کی چھت پر پڑے ٹائر میں بیٹھ کر سفر کرنا، گلابی رنگ کا سٹوڈنٹ کارڈ جیب میں رکھنا، کڑھائی والا رومال، خوش آمدید والے تکئے، ہاتھوں سے گھولی ہوئی مہندی، رنگین آنچلوں کی خوشبو، بالوں میں تیل لگا کر کنگھی کرنے کا فیشن، سْرمے کی لکیر خوبصورتی کی علامت، بھری قمیص اتار کر چلتے ہوئے پیڈسٹل فین پر ڈال دینا، فیوز بلب کو ہلا کر اْس کی تار پھر سے جوڑ دینا، بجلی کے میٹر گھروں کے اندر، بجلی کا سانپ کی طرح لمبا بل آنا، سنیمائوں کے پوسٹر پر نظریں جم جانا، سائیکل روک کر مجمع باز کی گفتگو سننا، صاف کپڑوں کے ساتھ جیب میں صاف رومال بھی رکھنا، قمیص کی جیب میں پین لٹکانا، بٹوے میں چھوٹی سی ٹیلی فون ڈائری رکھنا جس میں A سے Z تک سے شروع ہونے والے ناموں کے الگ خانے ہوتے تھے۔
کسی پرانے سال کی ڈائری میں اقوال زریں‘ نعتیں اور اشعار لکھنا۔ ٹی وی کے اوپر خوبصورت غلاف چڑھائے رکھنا۔ کسی کے تالا لگے ٹیلی فون کے کریڈل سے ٹک ٹک کر کے کال ملانے کی کوشش کرنا۔ باراتوں پر سکے لوٹنا، دولہا کا منہ پر رومال رکھنا، دلہن کا دوسرے شہر سے بارات کے ساتھ بس میں آتے ہوئے راستے میں دل خراب ہو جانا، سردیوں میں اْبلے ہوئے ایک انڈے کو بھی پورا مزا لے کر کھانا، محلے میں کسی کی وفات پر تدفین تک ساتھ رہنا۔، مسجد کے مولوی صاحب کے لئے گھر میں الگ سے سالن رکھنا، ٹی وی ڈرامے میں کسی المناک منظر پر خود بھی رو پڑنا، فلم دیکھتے ہوئے ہیرو کی کامیابی کے لئے صدق دِل سے دْعا کرنا، لڑائی میں گالی دے کر بھاگ جانا، بارش میں ایک دوسرے پر گلی کے پانی سے چھینٹے اڑانا، سونے سے پہلے تین دفعہ آیت الکرسی پڑھ کر چاروں کونوں میں پھونک مارنا، مہمانوں کی آمد پر خصوصی اہتمام کرنا اور محلے والوں کا خصوصی طور پر کہنا کہ ’’مہمان نوں ساڈے ول وی لے کے آنا‘‘۔ بسنت کے دنوں میں چھت پر ڈور لگانا‘ مانجھا لگانا، بازار سے پنے، گچھے اور چرخیاں خریدنا، گڈیاں لوٹنا‘ ڈوریں اکٹھی کرنا، چارپائی پر بیٹھ کر ٹوٹا ہوا شیشہ سامنے رکھ کر چہرے پر صابن لگا کر شیو کرنا، سلیٹ ہمیشہ تھوک سے صاف کرنا، محلے کے بڑے بوڑھوں سے اکثر مار کھانا اور بھول جانا، پنکج ادھاس کی غزلیں یاد کرنا اور ’’میکدہ‘‘ کے لفظ سے ناآشنائی کے باعث گاتے پھرنا ’’ایک طرف اْس کا گھر‘ ایک طرف میں مے کدہ‘‘۔