Wed, September 16, 2026

امریکی آزادی، (1776-2026) ڈھائی سو سال

امریکی آزادی، (1776-2026) ڈھائی سو سال

برطانیہ عظمیٰ کے زیر تسلط 13 ریاستوں نے آزاد ہو کر اکٹھے مل کر ایک متحدہ ریاست، امریکہ کے نام سے تشکیل دی۔ 4جولائی 1776ءکو اعلان آزادی کے ساتھ ہی ریاست ہائے متحدہ امریکہ معرض وجود میں آئی۔ اس بات کو ڈھائی سو سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران دنیا کی عظیم ریاست برطانیہ عظمیٰ نے عروج بھی دیکھا۔ ایک وقت تھا کہ اس ریاست کے زیرتحت دنیا کی اتنی زمین تھی کہ اس کے ایک طرف سورج غروب ہو رہا ہوتا تھا تو اسی کی مقوضات میں سورج طلوع ہو رہا ہوتا تھا اسی لئے کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمیٰ کی مقبوضات میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا ہے۔ انگریز دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے۔ ہر سو ان کا ڈنکا بج رہا تھا۔ مسلمانوں کی بغداد کی سلطنت عثمانی سلطنت اور مغلیہ سلطنت اپنی اپنی جگہ موجود تھیں لیکن جو عظمت برطانیہ عظمیٰ کو حاصل تھی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ برطانوی بادشاہت نے یورپی ہم مذہبوں کے ساتھ مل کر پوری دنیا پر قبضہ کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ تو کامیاب نہ ہو سکا لیکن وہ سب مسلمانوں کا اقتدار ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ عربوں کو عثمانیوں کے خلاف کھڑا کر کے کمزور خلافت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی حتیٰ کہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ بغداد، مغلیہ و عثمانی سلطنتیں فنا کی گھاٹ اتر گئیں۔ مسلمان تقسیم درتقسیم کے عمل کے ذریعے کمزور کر دیئے گئے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ مسلمانوں نے اپنے تہذیبی و سیاسی عروج کے دور میں بلکہ ارتقائی عمل کے دوران ہی سائنس، فنون، ادب و غیرہم کی ترویج کے لئے منظم انداز اختیار کیا۔ یورپ میں اندھیرے دور سے نکلنے کی ابتداءاسی دور میں ہوئی۔ یورپ، برطانیہ اور پھر امریکہ کی ترقی کی بنیادیں اسی اسلامی دور میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ پہیے کی دریافت، بھاپ پر قابو پانا، انجن بنانا جیسے تاریخی واقعات نے انقلاب فرانس کو جنم دیا جس کے بطن سے دور حاضر کا جدید نظام نکلا۔ سفید انسان نے ایک نئے جمہوری نظام کے تحت زندگیاں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہی نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کی آبیاری اور رہنمائی کا فریضہ بھی اپنے تئیں سنبھال لیا۔ دور حاضر کی تہذیب مغرب اگر رہنما تہذیب اور مغربی نظام پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے تو اس کی بنیادیں اسی دور میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ جب انسان نے مل جل کر رہنا سیکھا۔ سائنسی علوم کے فروغ نے کلیسیائی چودھراہٹ میں کمی کی۔ کلیسا اور جاگیردار کے اتحاد کو کمزور کیا پھر ایک جمہوری نظام نے ایک خوشحالی معاشرے کو جنم دیا۔ افکار جدید کی ابتداءیورپ میں ہوئی۔ برطانیہ نے اس نظام کو مستحکم کیا، فروغ دیا۔ اس طرح وہ خود بھی عظمیٰ یعنی برطانیہ عظمیٰ کے قیام علیا پر فائز ہوا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا قیام اسی دور کی بنیاد ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تہذیب مغرب اور سرمایہ دارانہ نظام کو ایک عالمی نظام کے مقام تک امریکہ نے پہنچایا۔ اس وقت جو عالمی نظام دنیا کو گرفت میں لئے ہوئے ہے وہ امریکی قیادت کا ہی کمال ہے۔ امریکی نظام سیاست اور معیشت ہی نہیں بلکہ نظم معاشرت بھی دنیا پر غالب ہے۔ امریکہ معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر دنیا کی ایک غالب حقیقت ہے۔ اپنے ڈھائی سو سالہ قیام کے دوران شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرا ہو جس میں وہ جنگ یا حالت جنگ میں مبتلا نہ رہا ہو۔ جنگ ہی اس کی معاشی تعمیر و ترقی کا ذریعہ ہے، اس کی سفارتی حکمت عملی بھی جنگ اور معیشت کے فلسفے پر ترتیب پاتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کی عظمت کو فنا کر دیا اور وہ اپنی عظمت برقرار نہ رکھ سکا، اس طرح امریکہ دنیا کی سپرپاور بن کر ابھرا۔ اس سے پہلے فکری اور نظری اعتبار سے اشتراکیت ایک مدمقابل نظریے کے طورپر سامنے آچکی تھی۔ 1923ءمیں سوویت یونین کے قیام نے سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک کے مقابل دشمن پیدا کر دیا تھا۔ امریکہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے چودھری کے طور پر اشتراکیت کو بچھاڑنے میں مصروف ہو گیا کیونکہ جنگ ایک معاشی حکمت عملی کے طور پر امریکی منصوبہ سازوں کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، اس لئے اشتراکیت کے خلاف محاذ قائم کیا گیا بلکہ مختلف اتحاد قائم کئے گئے۔ ناٹو، سیٹو، سینٹو جیسے عالمی معاہدے و اتحاد اشتراکی اثرونفوذ روکنے اور اسے محدود رکھنے کا شکست دینے کے لئے ترتیب دیئے گئے تھے۔ یہ دور 1991ءمیں اشتراکی ریاست کے خاتمے تک قائم رہا۔ اس دوران چھوٹی بڑی جنگیں بھی جاری رہیں۔ انسانی اور قدرتی وسائل بے دریغ ان جنگوں کی نذر کئے جاتے رہے لیکن ساتھ ساتھ سائنسی، فنی اور علمی ترقی و ارتفاءکا عمل بھی جاری رہا۔ امریکہ قائد کے طور پر موجود رہا۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے تہذیبی و تمدنی طور پر اسلام و مسلمان کو ایک دشمن کے طور پر اپنایا تاکہ اس کی جنگ باز حکمت عملی پر کام جاری رہ سکے۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد اسے کسی موثر اپوزیشن کا بھی سامنا نہیں تھا، اس لئے اس نے خلیجی جنگوں کے ذریعے مسلمانوں کی بربادی کا آغاز کیا۔ طاقت کے غرور اور تکبر کے ساتھ اپنی جنگی مشین کے استعمال کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے نئے جغرافیے پر کام شروع کیا حتیٰ کہ 2001ءمیں 9/11 ہو گیا، امریکی ہیئت پر حملہ ہو گیا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کر دی۔ پہلے 
افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کر کے امریکہ نے اپنی عسکری ہیئت بحال کرنے کی کوشش کی۔ 20سال تک وہ افغانستان میں الجھا رہا لیکن اسے ذلیل و خوار ہو کر وہاں سے نکلنا پڑا۔ ویت نام میں شکست کے بعد امریکہ سنبھل گیا تھا لیکن یہاں اسے جب شکست ہو رہی تھی تو اس دوران چین چپکے چپکے اپنی معاشی قوت بڑھا رہا تھا۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کیا۔ گویا عالمی معاشی طاقت بننے کا اعلان تھا۔ امریکہ چینی حکمت عملی کے سامنے ٹھہر نہیں سکا۔ چین نے غیراعلانیہ امریکی چودھراہٹ کو چیلنج کیا۔ پاک بھارت جنگ کے دوران چینی جنگی ٹیکنالوجی نے جو معجزہ کر دکھایا ہے دنیا ابھی تک اس کے سحر سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔ 28 فروری 2026ءمیں ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے امریکی کمزوریوں کو عیاں کر دیا ہے۔ ایران نے ڈرونز اور راکٹوں کے ساتھ جس طرح اسرائیل کا ناطقہ بند کیا اور خلیج میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا وہ حیران کن ہے۔ ہرمز کی ناکہ بندی اور اس پر امریکی بے بسی دنیا کے سامنے ہے۔ امریکہ ایک عظم طاقت ہے لیکن اس کی عظمت کا سورج غروب ہوتا نظر آرہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود وہ چینی معیشت کے مدمقابل کمزور نظر آرہی ہے۔ ایران نے امریکی عسکریت کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔ نئی دنیا ترتیب پا رہی ہے۔ نئے علاقائی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ توازن طاقت تبدیل ہو رہا ہے جو امریکہ کے حق میں جاتا نظر نہیں آرہا ہے۔ امریکہ سپرطاقت کے منصب جلیلہ سے ہٹتا نظر آرہا ہے۔

ٹیگز: