Wed, September 16, 2026

سنسنی کا بازار، سچ کا اصرار

سنسنی کا بازار، سچ کا اصرار

صحافتی اقدار اور پیشہ ورانہ اصولوں کی ایک شاندار تاریخ رہی ہے جس میں حقائق کی درستگی، غیر جانبداری اور عوامی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھا جاتا تھا۔ اس سنہری دور میں خبر کی صداقت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا تھا اور کسی بھی خبر کی اشاعت سے پہلے اس کی تصدیق کے کڑے مراحل سے گزرنا لازمی ہوتا تھا۔اس وقت قومی اخبارات میںشائع ہونیوالی سنگل کالم خبر بھی بھرپور اثر رکھتی کیونکہ عام آدمی اورارباب اختیار کو یقین ہوتا تھا کہ یہ خبر سچ اور حقائق پر مبنی ہے۔ مصنوعی ذہانت، فیک نیوز اور سوشل میڈیا کے اس دور میں صحافت کو متعدد نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ آج ہراس شخص کے ہاتھ میں ایک نشریاتی ادارہ ہے جس کے پاس سمارٹ فون اور انٹرنیٹ موجود ہے ۔ یوٹیوب، فیس بک، ایکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے اظہارِ رائے کو بے مثال وسعت تودی ہے لیکن کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
کیا ہر یوٹیوبر صحافی ہے؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کےلئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یوٹیوب ایک پلیٹ فارم ہے جبکہ صحافت ایک ذمہ دار پیشہ۔ جس طرح قلم رکھنے والا ہر شخص ادیب نہیں ہوتا اسی طرح کیمرہ رکھنے والا ہر فرد صحافی بھی نہیں ہوتا۔ حقیقی صحافت خبراکٹھی کرنے، اس کی تصدیق کرنے، مختلف مو¿قف سامنے لانے، عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور اپنی بات پر جوابدہ ہونے کا نام ہے۔ دوسری طرف یوٹیوب صرف ایک ذریعہ ہے جس پر صحافی بھی موجود ہیں، اساتذہ بھی، ماہرین بھی، مزاح نگار بھی اور ایسے افراد بھی جن کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔عام یوٹیوبر کےلئے ویوز اور سبسکرائبرز اہم ہوتے ہیں جبکہ صحافی کیلئے خبر کی ساکھ، درستگی اور عوامی اعتماد زیادہ اہم ہیں۔
قرآنِ مجید نے خبر کی تصدیق کا اصول چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ سورة الحجرات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ” اگر کوئی شخص تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر شرمندہ ہونا پڑے۔“ یہی اصول دراصل ذمہ دار صحافت کی بنیاد بھی ہے۔ خبر کی رفتار سے زیادہ اس کی صداقت اہم ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران یوٹیوب نے اطلاعات کی دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔ متعدد نامور صحافیوں نے بھی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کیے اور عوام سے براہِ راست رابطہ پیدا کیا۔ اس سے صحافت کو نئی وسعت ملی مگر اسی کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا جس میں بعض افراد نے تحقیق کے بجائے قیاس آرائی، معلومات کے بجائے افواہ اور صحافت کے بجائے سنسنی کو اپنا ذریعہ بنا لیا۔ کلک بیس عنوانات، غیر مصدقہ دعوے اور جذبات بھڑکانے والی گفتگو بعض حلقوں میں کامیابی کا پیمانہ بن گئی۔
صحافت کی دنیا میں خبر صرف اس وقت خبر بنتی ہے جب اس کی تصدیق ہو جائے۔ ایک ذمہ دار صحافی کسی بھی اطلاع کو نشر کرنے سے پہلے مختلف ذرائع سے اس کی جانچ کرتا، متعلقہ فریق کا مو¿قف لیتا اور اگر غلطی ہو جائے تو اس کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ یہی پیشہ ورانہ دیانت اس کے اعتماد کی بنیاد بنتی ہے۔ اس کے برعکس بہت سے انفرادی کانٹینٹ کریئیٹرز پر نہ ادارتی نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ جواب دہی کا وہ نظام رکھتے ہیں جو صحافت کا بنیادی تقاضا ہے۔ بدقسمتی سے آج خبر سے زیادہ ”بریکنگ“ اور تجزیے سے زیادہ ”کلک“کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ بعض اوقات ایسی سرخیاں لگائی جاتی ہیں جن کا اصل خبر سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا، ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ویڈیو کھولیں۔ اس روش نے نہ صرف صحافت بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ایسے میں عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم صرف سنسنی خیز مواد کو فروغ دیں گے اور تحقیق پر مبنی صحافت کو نظر انداز کریں گے تو پھر شکایت بھی بے معنی ہوگی کہ معاشرے میں افواہیں کیوں پھیل رہی ہیں۔ ہر ویڈیو کو سچ سمجھ لینا دانش مندی نہیں اور ہر صحافی کو محض یوٹیوبر کہہ دینا بھی انصاف نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ روایتی میڈیا ہر لحاظ سے بے عیب نہیں رہا۔ ریٹنگ کی دوڑ، تجارتی دباو¿ اور بعض اوقات غیر ضروری سنسنی نے اس کی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ یہی خلا ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاو کا سبب بنا لیکن کسی شعبے کی کمزوری دوسرے شعبے کی خامیوں کا جواز نہیں بن سکتی۔ صحافت اور کانٹینٹ کری ایشن دونوں کی اصل قدر ان کی ذمہ داری اور دیانت سے متعین ہوتی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں جعلی ویڈیوز، مصنوعی آوازیں اور فرضی تصاویر تیار ہو سکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں صرف وہی صحافی اور وہی ڈیجیٹل تخلیق کار قابلِ اعتماد ہوں گے جو تحقیق، شواہد اور اخلاقی اصولوں کو اپنی شناخت بنائیں گے۔ صحافت کے عالمی اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ خبر درست، متوازن، غیر جانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی ہونی چاہیے۔ یہی اقدار پاکستان میں بھی صحافتی اخلاقیات کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی جتنی اہم ہے اتنی ہی اہم اس آزادی کے ساتھ وابستہ ذمہ داری بھی ہے۔ 
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ صحافی اور یوٹیوبر کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معیار کو بنیاد بنایا جائے اگر کوئی یوٹیوبر تحقیق، دیانت، توازن اور جواب دہی کے اصول اپناتا ہے تو وہ صحافت کے قریب ہے اور اگر کوئی صحافی ان اصولوں سے انحراف کرتا ہے تو صرف اس کا عہدہ اسے معتبر نہیں بنا سکتا۔ اصل فرق کیمرے، مائیک یا پلیٹ فارم میں نہیں بلکہ نیت، طریقہ کار اور ذمہ داری میں ہے۔ سچ کی تلاش، خبر کی تصدیق اور عوام کے اعتماد کی حفاظت ہی صحافت کی اصل پہچان ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک عام کانٹینٹ بنانے والے اور ایک حقیقی صحافی کے درمیان واضح لکیر کھینچتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فرق صحافی اور یوٹیوبر کے درمیان نہیں بلکہ ذمہ دار اور غیر ذمہ دار ابلاغ کے درمیان ہے۔ کیمرہ آج سب کے ہاتھ میں ہے مگر سچ بولنے، سچ تلاش کرنے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کا حوصلہ اب بھی ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا۔ صحافت صرف خبر سنانے کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی حفاظت کا نام ہے اور یہی اعتماد ایک حقیقی صحافی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ یاد رکھیں سچائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ہر پردہ چاک ہو جاتا ہے اور حقیقت اپنا اصل روپ دکھا کر ہی رہتی ہے۔

ٹیگز: