Wed, September 16, 2026

پاکستان میں جعلی ادویات کی جنگ میں نیا ہتھیار: چالیس سیکنڈ میں دوا کی جانچ کرنے والا جدید ریمن اینالائزر

پاکستان میں جعلی ادویات کی جنگ میں نیا ہتھیار: چالیس سیکنڈ میں دوا کی جانچ کرنے والا جدید ریمن اینالائزر

اسلام آباد: جعلی اور غیر معیاری ادویات کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اب ایک جدید ہینڈ ہیلڈ ریمن اینالائزر پاکستان میں متعارف کرایا گیا ہے، جو صرف 40 سیکنڈ میں دوا کی اصلیت اور معیار کا فیصلہ کر دیتا ہے۔

یہ ریمن اینالائزرز نہ صرف جعلی ادویات کی شناخت میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ خام مال اور ممنوعہ منشیات کی جانچ میں بھی استعمال ہوں گے، جو ملک کی صحت کی حفاظت کے لیے ایک انمول اثاثہ ہیں۔ یہ مشینیں امریکی کمپنی کی تیار کردہ ہیں اور ان میں 12,200 مالیکیولز کی ڈیجیٹل ڈائریکٹری شامل ہے، جو پاکستان کی فارما انڈسٹری میں استعمال ہونے والے مالیکیولز کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔

فارمیسی سروسز اینڈ ڈرگ کنٹرول (PSDC) نے اس جدید ٹیکنالوجی کو ملک کے مختلف حصوں میں نافذ کرنے کے لیے متعلقہ عملے کو مکمل تربیت دی ہے، تاکہ دوا سازی کے معیار کی نگرانی کو سخت بنایا جا سکے۔ ہر اینالائزر کی قیمت تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے، اور یہ منصوبہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت عمل میں آیا ہے۔

حکام کے مطابق، اس مشین کی مدد سے نہ صرف جعلی ادویات کی فروخت پر کڑی نظر رکھی جا سکے گی بلکہ عام عوام کو محفوظ، معیاری اور مؤثر دوائیں فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو پاکستان کی فارما صنعت کی ساکھ کو بہتر بنانے اور صحت عامہ کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔

اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ، پاکستان اب دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو ادویات کی فوری اور موثر جانچ کے لیے جدید ترین آلات استعمال کرتے ہیں، اور یہ صحت کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔

ٹیگز: