Wed, September 16, 2026

آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 آمریت کے دور کی یاد دلاتے ہیں ، سپیکر پنجاب اسمبلی

 آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 آمریت کے دور کی یاد دلاتے ہیں ، سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور : لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 آمریت کے دور کی یاد دلاتے ہیں اور جمہوریت کے خلاف من مانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ خود ان دفعات کے سخت مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر چاہیں تو انہیں آئین سے نکال بھی دیا جائے۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ اسمبلی کو قواعد کے مطابق چلانے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن کو بولنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے، لیکن ہنگامہ آرائی اور غیر اخلاقی رویے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ اسمبلی ایک زندہ ادارہ ہے جہاں 12 کروڑ عوام کے حقوق کی نمائندگی ہوتی ہے، اسے تماشہ خانہ نہیں بننا چاہیے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ ابھی بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر وزیراعظم کو غلط بیانی پر نا اہل کیا جا سکتا ہے تو پھر اسمبلی میں شور شرابہ کرنے والوں کو کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کی حرمت اور تمام ارکان کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں، کسی کا حق چھینا نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہنگامہ آرائی ہوتی ہے تو اسے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، اور اسمبلی میں بدتمیزی یا فحش اشاروں کی کوئی جگہ نہیں۔ سپیکر نے خاتون رکن اسمبلی کی ہراسانی کی درخواست کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس پر سنجیدگی سے کارروائی کی جائے گی۔

آخر میں ملک احمد خان نے کہا کہ وہ ایک سیاسی شخصیت ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسمبلی میں ہر رکن کو اس کا حق دیا جائے، لیکن اس کے لیے نظم و ضبط ضروری ہے۔

ٹیگز: