چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں اخبار کے مطالعے میں مصروف تھے، مطالعہ کے بعد انہوںنے اخبار ایک طرف رکھ دیا اور حق ہو!، اللہ ہدایت دے۔۔۔ یہ جملے کہے اور اس کے بعد گہری سوچ میں ڈوب گئے اور سر کوجھکالیا۔۔ نتھو، پھتو اور چوپال میں براجمان سب لوگ فکر مند ہوگئے کہ نجانے کیا ہوا؟۔۔ چپ سائیں نے اشارہ کیا، ان کے اشارے کا مطلب تھا کہ ۔۔ کچھ دیر بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔ چوپال میں سکوت طاری تھا۔۔۔ چپ سائیں اچانک بولے۔۔نجانے قائد اعظم کے پاکستان کوکسی کی نظرلگ گئی ہے اور کیا ہوگیا ہے۔؟ ہم صوبائیت،لسانیت اور تفاوت کے گھن چکر میں نجانے کیوں پھنس گئے ہیں۔۔ اچھا بھلا ملک تھا ایک پاکستان لیکن آج کل تو اخبارات میں ایسی خبریں ہیںکہ میں تو خود خاموش ہوگیا ہوں۔
سب حیران تھے کہ چپ سائیں آخر آج اتنے افسردہ کیوں ہورہے ہیں؟۔۔۔ اس پر نتھو اور پھتو نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔۔ سائیں جی ماجرا کیا ہے ؟ آج سے پہلے تو آپ کو اتنا فکر مند کبھی نہیں دیکھانہ ہی گہری سوچ میں مبتلا دیکھا۔۔۔ چپ سائیں بولے۔۔ بچو، دراصل اخبارات میں آج کل سیاست دان ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں،لفظی جنگ عروج پر ہے۔یہ ملک تو چار صوبوں کی زنجیر ہے، لوگ مہمان نواز ہیںاوراس کا اعتراف تو بیرون ملک میں مقیم لوگ بھی کرتے ہیں، پھر نجانے یہ ہنگامہ کیوں برپا ہے کہ تلخ حقیقت اور تلخ سوال کو جھٹلا کر خاموش رہ کر بردباری کا مظاہرہ بھی تو کیا جاسکتا تھا لیکن۔۔۔پھر ۔۔نجانے کیوں؟۔۔ چپ سائیں دوبارہ خاموش ہوگئے۔ چپ سائیں توقف کے بولے۔۔ بچو۔کسی بھی ملک کی مضبوطی اور ترقی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ایک دوسرے کو برابری، احترام اور انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب معاشرے میں صوبائیت، لسانیت اور تفاوت جیسے منفی رجحانات فروغ پاتے ہیں تو قومی وحدت کمزور پڑ جاتی ہے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ مسائل بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں زیادہ شدت اختیار کر لیتے ہیں، جہاں وسائل کی کمی اور غیر منصفانہ تقسیم پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔
صاحبو! جب پاکستان وجود میں آیا اور بٹوارہ ہوا تو پتہ ہے بڑے بزرگ یہ کہتے ہیں کہ ۔۔وہ لوگ جو مسلمان نہیں بھی تھے وہ بھی حجرت کرکے پاکستان آنا چاہتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس ملک اوراس کے حکمران کو انتہائی محفوظ سمجھتے تھے۔۔ ایسا ہوا بھی ، اکثریت کے ساتھ اقلیت بھی یہاں پر محفوظ ہے۔۔ لیکن اب نجانے ایسا کیا ہوگیا ہے کہ ہم اپنے گھر میں ایک دوسرے کے سامنے آگئے ہیں ، حالانکہ ایسا ہرگزنہیں ہونا چاہئے اورتحمل وبردباری بھی کسی چیز کا نام ہے۔ دوستو! صوبائیت کی بنیادی وجہ وسائل اور اختیارات کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ جب کسی صوبے کے عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم حقوق دیئے جا رہے ہیں تو ان میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس آہستہ آہستہ نفرت اور تعصب میں بدل جاتا ہے۔ صوبائیت کے نتیجے میں قومی پالیسیاں متنازع بن جاتی ہیں، باہمی تعاون ختم ہو جاتا ہے اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔
لسانیت اکثر تعلیمی نظام، دفتری زبان اور روزگار کے مواقع سے جڑی ہوتی ہے۔ جب کسی ایک زبان کو قومی یا سرکاری سطح پر زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور دیگر زبانوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو زبان کی بنیاد پر احساسِ کمتری یا برتری جنم لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے، مختلف لسانی گروہوں کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں اور بعض اوقات یہ کشیدگی تشدد کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے۔ زبان چونکہ ثقافت کی پہچان ہوتی ہے، اس لیے اس پر ہونے والا تعصب انسان کی شناخت کو مجروح کرتا ہے۔
تفاوت صرف معاشی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی شکلیں ہیں، جیسے تعلیمی تفاوت، سماجی تفاوت اور سیاسی تفاوت۔ جب امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا ہے، شہری اور دیہی علاقوں میں سہولیات کا فرق نمایاں ہوتا ہے اور کچھ طبقات کو فیصلہ سازی میں زیادہ اختیار حاصل ہو تو معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی تفاوت نوجوانوں میں مایوسی، بے روزگاری اور سماجی بے چینی کو جنم دیتا ہے، جو آگے چل کر صوبائیت اور لسانیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ صوبائیت، لسانیت اور تفاوت ایک دوسرے سے الگ مسائل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور زنجیرکی ایک ہی کڑے ہیں ۔ تفاوت صوبائیت اور لسانیت کو جنم دیتا ہے، جبکہ صوبائیت اور لسانیت وسائل کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ بن کر تفاوت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اس طرح معاشرہ ایک ایسے منفی دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں ہر مسئلہ دوسرے مسئلے کو مضبوط کرتا ہے۔
دوستو!ان مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلے منصفانہ نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ وسائل کی تقسیم آبادی اور ضرورت کی بنیاد پر کی جائے۔ تمام صوبوں اور زبانوں کو آئینی تحفظ دیا جائے اور ان کے ثقافتی ورثے کو فروغ دیا جائے۔ نصابِ تعلیم میں قومی یکجہتی، رواداری اور تنوع کے احترام کو شامل کیا جائے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ نفرت کے بجائے ہم آہنگی اور اتحاد کا پیغام دے۔ نوجوانوں کو مساوی تعلیمی اور معاشی مواقع فراہم کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
چوپال کے بچو!ہمارے صوبے پنجاب کے حکمران اور لوگ بہت بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں ، مہمان نوازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں،ہمارا صوبہ ترقیاتی منصوبوں، قیادت،الغرض وسائل کم ہونے کے باوجود بھی خاصا بہتر ہے۔ صاحبو! دشمن چار صوبوں کی زنجیر یعنی پاکستان کو توڑنے کی بھرپور کوششوں میںمصروف ہے اور تو اوردورجدید میں اب سوشل میڈیا کا سہارا لے کر نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہماری ماﺅں، بہنوں، بیٹیوں، کے والد، بھائی اور سہاگ اس کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیںاور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔بچو !ماضی کی ورق گردانی کی جائے تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ پنجاب سے نفرت اب پاکستان سے نفرت میں بدلتی جارہی ہے۔پاکستان مخالف لوگ بھارت اور افغانستان سے مدد لے کرانتشار کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن محب وطن پاکستانیوں کی وطن سے محبت کسی طور کم نہیں ہوتی۔
صاحبو!آخرکار یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ صوبائیت، لسانیت اور تفاوت کسی بھی قوم کی جڑیں کھوکھلی کر دیتے ہیں۔ اگر ہم ایک پرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ان تعصبات سے بلند ہو کر برابری، انصاف اور اتحاد کو اپنانا ہوگا۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔