Wed, September 16, 2026

بزنس چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کا المیہ !

بزنس چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کا المیہ !


پاکستان میں جب بھی معیشت، روزگار اور ترقی کی بات ہوتی ہے تو ہماری توجہ عموماً بڑے سیاسی بحرانوں، آئی ایم ایف پروگراموں یا بجٹ اعلانات پر مرکوز رہتی ہے۔ لیکن ایک ایسا موضوع بھی ہے جو بظاہر خبروں کی شہ سرخی نہیں بنتا، مگر اس کا تعلق براہ راست لاکھوں ملازمتوں، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی خوشحالی سے ہے۔ یہ موضوع پاکستان کے کاروباری ماحول اور ان اداروں کا ہے جو نجی شعبے کی نمائندگی کرتے ہیں، یعنی چیمبرز آف کامرس اور تجارتی ایسوسی ایشنز۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کاروباری تنظیمیں عموماً اس بات پر توجہ دیتی ہیں کہ کاروبار کو مزید وسعت کیسے دی جائے، نئی سرمایہ کاری کیسے آئے، برآمدات میں اضافہ کیسے ہو اور نئی صنعتوں کو کیسے فروغ دیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کا بڑا حصہ اپنی توانائیاں کاروبار بڑھانے کے بجائے کاروبار کو بچانے کی کوششوں میں صرف کرتا نظر آتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملک کی سب سے بڑی کاروباری نمائندہ تنظیم ہے۔ اس کے ساتھ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کے چیمبرز جبکہ مختلف صنعتوں کی سیکٹورل ایسوسی ایشنز مثلا چین سٹور ایسوسی ایشن، فٹ وئیرایسوسی ایشن اور ای کامرس ایسوسی ایشن وغیرہ۔ ان اداروں کا بنیادی کام حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا، کاروباری مسائل اجاگر کرنا اور معاشی ترقی کے لیے تجاویز دینا ہے۔ یہی ادارے بجٹ، ٹیکس پالیسی، درآمدات و برآمدات، شرح سود، سرمایہ کاری اور کاروباری قوانین کے حوالے سے نجی شعبے کا م¶قف حکومت تک پہنچاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارے واقعی کاروبار کے فروغ کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں یا ان کا زیادہ وقت ایسے فیصلوں کے خلاف مزاحمت میں گزر رہا ہے جو خود کاروباری سرگرمیوں کے لیے رکاوٹ بن جاتے ہیں؟۔ پاکستان کے کاروباری حلقوں کی شکایت یہ نہیں کہ قوانین موجود نہیں 
ہیں، بلکہ اصل مسئلہ قوانین اور ضوابط کی غیر یقینی صورتحال سے ہے۔ کبھی کوئی نیا ایس آر او جاری ہو جاتا ہے، کبھی کسی وزارت یا سرکاری محکمے کی طرف سے اچانک نئی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں اور کبھی پالیسی سازی میں زمینی حقائق کے بجائے انتظامی خواہشات کو فوقیت دے دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاروباری طبقہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر بدلتے ہوئے ماحول سے نمٹنے میں مصروف رہتا ہے۔
اس کی ایک واضح مثال مارکیٹوں کی جلد بندش کا فیصلہ تھا۔مارچ میں کفایت شعاری کے نام پر ملک بھر میں کاروباری اوقات محدود کیے گئے۔ بظاہر یہ اقدام بجلی کے استعمال میں کمی کے لیے تھا، لیکن کاروباری تنظیموں کے مطابق اس فیصلے کے معاشی اثرات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے۔ صرف دو ہفتوں کے اندر ریٹیل سیکٹر میں تقریباً 200 ارب روپے کی معاشی سرگرمی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ اس پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان ان دستاویزی اور ٹیکس ادا کرنے والے کاروباروں کو پہنچا جو پہلے ہی بلند لاگت اور کمزور طلب کے دبا¶ کا شکار تھے۔
بعد ازاں مارکیٹ بند کرنے کا وقت رات آٹھ بجے سے بڑھا کر نو بجے کر دیا گیا، لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہو سکا۔ آرگنائزڈ ریٹیلرز کے مطابق ان کی سیلز کا ایک بڑا حصہ انہی اوقات میں ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں گرمیوں کے دوران لوگ شام اور رات کے اوقات میں زیادہ خریداری کرتے ہیں، وہاں کاروباری سرگرمیوں کو مصنوعی طور پر محدود کرنا معیشت پر براہ راست ضرب لگانے کے مترادف ہے۔
اس کے اثرات حالیہ عیدالاضحی کے دوران بھی دیکھنے میں آئے۔ 2025 کے مقابلے میں 2026میں ملک بھر میں تہوار کے دوران مارکیٹوں میں آنے والے خریداروں کی تعداد میں 21 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈیٹا کے مطابق کراچی، لاہور اور سیالکوٹ جیسے بڑے تجارتی مراکز میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے پیچھے کم ہوتی ہوئی فروخت، متاثر ہوتے کاروبار اور روزگار کے محدود ہوتے مواقع کی پوری داستان موجود ہے۔
ایک اور مثال حالیہ مالیاتی بل میں بعض نان ایف ایم سی جی مصنوعات کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں روزمرہ استعمال کی اشیا جیسے جوتے، اسکول بیگز، بیک پیکس، بٹوے اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد ریونیو بڑھانا ہے، لیکن کاروباری تنظیموں کا م¶قف ہے کہ اس سے صارفین کو اصل فروختی قیمت کے بجائے تخمینی یا نوٹیفائیڈ قیمتوں پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اس قسم کے اقدامات کا بوجھ بنیادی طور پر ان کاروباروں پر پڑتا ہے جو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ ہیں۔ جبکہ غیر دستاویزی اور اسمگل شدہ اشیا فروخت کرنے والے عناصر نسبتاً فائدے میں آ جاتے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ٹیکس نظام سے باہر ہوتے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال پالیسی سازی کے فلسفے کا ہے۔ کیا حکومت کاروبار کو محض ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے یا اسے معاشی ترقی کا انجن تصور کرتی ہے؟ دنیا بھر میں کامیاب معیشتوں نے کاروباروں کے لیے سہولت پیدا کرکے ٹیکس آمدن میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے بوجھ بڑھایا جاتا ہے اور پھر کاروباری طبقے سے زیادہ سرمایہ کاری اور روزگار پیدا کرنے کی توقع رکھی جاتی ہے۔
پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل صرف نئے ٹیکس یا نئی پابندیوں میں نہیں بلکہ ایک مستحکم، پیش گوئی کے قابل اور کاروبار دوست ماحول میں پوشیدہ ہے۔ چیمبرز آف کامرس اور تجارتی ایسوسی ایشنز کو محض احتجاجی پلیٹ فارم بنانے کے بجائے معاشی پالیسی سازی کے حقیقی شراکت دار بنانا ہوگا۔ ان اداروں کے پاس زمینی حقائق، مارکیٹ کی معلومات اور مختلف شعبوں کا تجربہ موجود ہے۔ اگر ان کی آراءکو بروقت اور سنجیدگی سے سنا جائے تو پالیسی سازی زیادہ م¶ثر اور حقیقت پسندانہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا کہ کاروباروں کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟ بلکہ اس طرف جانا ہوگا کہ کاروباروں کو کیسے فروغ دیا جائے۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی پاکستان میں کاروبار بڑھانے کا خواب شاید کاروبار بچانے کی جنگ ہی بنا رہے گا۔

ٹیگز: