پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) طویل عرصے سے ایک ایسے ادارے کے طور پر جانا جاتا رہا ہے جو امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائم، مالیاتی جرائم اور بین الاقوامی نوعیت کے مقدمات کی تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران، خصوصاً ایئرپورٹس پر مسافروں کو “آف لوڈ” کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس ادارے کو شدید عوامی تنقید، عدالتی سوالات اور ساکھ کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔یونان کشتی سانحے اور غیر قانونی ہجرت کے متعدد واقعات کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی دباو¿ میں اضافہ ہوا۔ یورپی ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف مو¿ثر کارروائی کی جائے۔ اسی تناظر میں ایف آئی اے نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت کر دی اور بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی جانچ پڑتال میں نمایاں اضافہ کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق 2025 کے دوران تقریباً 39 ہزار 786 مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں یہ تعداد 51 ہزار سے زائد بتائی گئی تھی۔ بعض رپورٹوں کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 66 ہزار مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر سفر سے روکا گیا جن میں سے 51 ہزار افراد امیگریشن جانچ کے مراحل میں ناکام رہے۔ یہ اعدادوشمار اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ محض چند انفرادی واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع انتظامی پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
لاہور اور کراچی ایئرپورٹس اس معاملے کے مرکز بن کر سامنے آئے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سب سے زیادہ آف لوڈنگ کے واقعات انہی دو بڑے ہوائی اڈوں پر رپورٹ ہوئے۔ لاہور ایئرپورٹ پر 2025 کے دوران 51 لاکھ سے زائد بین الاقوامی مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس کی گئی جبکہ جعلی دستاویزات استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے متعدد افراد کو روکا گیا۔ زیادہ تر انہی ائیرپورٹس پر ایف آئی کے اہلکاروں کی جانب سے بھاری رشوت ستانی کی شکایات بھی موصول ہوئیں جس کے مطابق روکے جانے پر پاکستان سے باہر جانے والے مسافروں میں سے جو کوئی بھی مبینہ طور پر ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک سے ان اہلکاروں کی مٹھی گرم کردیتا اسے باہر جانے کا پروانہ مل جاتا ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ متعدد کارروائیوں میں جعلی ویزوں، مشکوک سفری دستاویزات اور انسانی اسمگلنگ کے شبہ میں مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ ایف آئی اے کا مو¿قف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور پاکستان کی بدنامی کو روکنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تمام آف لوڈنگ واقعی قانون اور ضابطے کے مطابق ہو رہی ہے؟۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے تنازعہ شروع ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے سوشل میڈیا، عدالتوں اور پارلیمانی فورمز پر ایسے درجنوں واقعات زیر بحث آئے ہیں جن میں مسافروں نے الزام لگایا کہ ان کے پاس درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات موجود ہونے کے باوجود انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہیں تحریری وجوہات فراہم نہیں کی گئیں جبکہ کچھ مسافروں کو طیارے میں سوار ہونے کے بعد بھی واپس اتار دیا گیا۔
لاہور اور کراچی کے کاروباری حلقوں نے بھی شکایت کی کہ جائز کاروباری مسافروں اور طلبہ کو غیر ضروری سوالات اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔حالیہ مہینوں میں عدالتوں نے بھی اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مختلف مقدمات میں عدالتی ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ اگر کسی پاکستانی شہری کو بیرون ملک سفر سے روکا جاتا ہے تو اس کے لیے واضح قانونی بنیاد اور تحریری جواز ہونا چاہیے۔ عدالتوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین شہریوں کو نقل و حرکت کی آزادی دیتا ہے اور کسی بھی پابندی کو قانون اور ضابطے کے مطابق ہونا چاہیے، محض شبہے کی بنیاد پر نہیں۔ یہ عدالتی مشاہدات ایف آئی اے کے اختیارات اور ان کے استعمال کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ درحقیقت مسئلہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کا نہیں بلکہ طریقہ کار کا ہے۔ کوئی بھی ذمہ دار ریاست جعلی دستاویزات، انسانی اسمگلنگ یا غیر قانونی ہجرت کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ مگر جب ایک ہی نوعیت کے دو مسافروں کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے، جب فیصلوں کی وجوہات واضح نہ ہوں اور جب اپیل یا نظرثانی کا فوری نظام موجود نہ ہو تو عوامی اعتماد متاثر ہونا فطری امر ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف حالیہ کریک ڈاو¿ن کے دوران ہزاروں ایجنٹوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں عمل میں آئیں اور جعلی دستاویزات کے نیٹ ورکس کو توڑا گیا۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس سخت نگرانی کے نتیجے میں بیرون ملک پاکستانیوں کی گرفتاریوں اور بے دخلی کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔ آج ایف آئی اے ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی دباو¿ ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، دوسری طرف پاکستانی شہری اپنے آئینی حقوق اور باعزت سلوک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا حل صرف سختی میں نہیں بلکہ شفافیت میں ہے۔ ضروری ہے کہ آف لوڈنگ کے واضح اور عوامی طور پر دستیاب قواعد جاری کیے جائیں، ہر فیصلے کی تحریری وجوہات دی جائیں، فوری اپیل کا نظام قائم کیا جائے اور امیگریشن عملے کی تربیت میں انسانی حقوق اور عوامی خدمت کے اصولوں کو شامل کیا جائے۔
ریاستی اداروں کی طاقت ان کے اختیارات سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایف آئی اے اس اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ نہ صرف انسانی اسمگلنگ کے خلاف مو¿ثر جنگ لڑ سکے گی بلکہ ایک جدید، پیشہ ور اور قابل اعتماد ادارے کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کر سکے گی۔ بصورت دیگر آف لوڈنگ کا یہ تنازعہ اس کی ساکھ کے بحران کو مزید گہرا کرتا رہے گا۔ یہی دراصل آج ایف آئی اے کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔