Wed, September 16, 2026

ثقافتی تہوار بسنت کی بحالی‘ خوشی‘ احتیاط اور ذمہ داری

ثقافتی تہوار بسنت کی بحالی‘ خوشی‘ احتیاط اور ذمہ داری

لاہور ایک طویل عرصے بعد پھر سے رنگوں، خوشیوں اور بہار کی آہٹ سننے جا رہا ہے۔20 برسوں بعد پنجاب کی ہردلعزیز وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے اس بار بسنت کی مشروط اجازت محض ایک تہوار کی بحالی نہیں بلکہ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ خوشی اور احتیاط ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ 6 سے 8 فروری تین روزہ بسنت کے انعقاد کا فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔ 
بسنت کا تہوار ہماری ثقافت کی پہچان ہے۔ چھتوں پر گونجتی بوکاٹا کی صدائیں، ڈھول، باجے کی آوازیں، نیلے آسمان میں لہراتی پتنگیں اور موسمِ بہار کی آمد یہ سب زندہ دلان لاہور کی روائتی اور ثقافت روح کا حصہ ہیں۔ تاہم ماضی میں دھاتی اور کیمیکل والی ڈور کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع اور شہری سہولیات میں غفلت کے واقعات نے اس خوشی کو تقریباً ختم ہی کر دیا تھا۔ اسی پس منظر میں حکومت نے اس بار بسنت کو سخت ضابطوں کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا تاکہ بسنت کی روائتی اور ثقافتی حیثیت کو بحال کیاجائے۔
بسنت کی اجازت سے جہاں شہری خوش ہیں وہیں پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے کاریگر بھی اس فیصلے کو اپنے روزگار کی بحالی قرار دے رہے ہیں۔ برسوں سے غیر فعال اور معدوم ہوتی یہ روایتی صنعت اب ایک بار پھر متحرک ہو سکے گی جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے وہ اس معاشی سرگرمی سے ضرور مستفید ہوں گے۔
 بسنت کے تینوں دن سرکاری و نجی ہسپتال ہائی الرٹ پر ہوں گے کیونکہ بسنت کے دنوں میں خاص طور پر بچے پتنگ لوٹتے ہوئے زخمی ہو سکتے ہیں۔ ریسکیو 1122 کو اضافی نفری اور ایمبولینس گاڑیوں اور بائیکس کے ساتھ فیلڈ میں رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔اسی طرح لیسکو کا کردار بھی انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ پتنگ بازی کے دوران ڈور کے بجلی کی تاروں سے الجھنے کے باعث بجلی کی ٹرپنگ اور ترسیلی نظام میں رکاوٹ کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اس تناظر میں لیسکو کو ہدایت دی گئی ہے کہ بسنت کے دنوں میں اضافی فیلڈ ٹیمیں تعینات کی جائیں، شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جائے اور حساس علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات کئے جائیں تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی برقرار رہے۔
 حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ بسنت کے دنوں میں فری کردی ہے تاکہ موٹر سائیکل سوار اس سہولت سے مستفید ہوں۔ احتیاطی اقدامات کسی سختی کے بجائے شہری جانوں کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔
بسنت کے معاشی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ ہوٹل انڈسٹری، ریسٹورنٹس، فوڈ اسٹریٹس، ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبے میں غیرمعمولی سرگرمی متوقع ہے۔ ملکی اور بیرونِ ممالک سے آنے والے سیاح بھی لاہور میں ہیں جس کے نتیجے میں زرمبادلہ حاصل ہوا ہے اور ملکی فارن ریزروز میں اضافے کا باعث ہے۔ یہ پہلو اس تہوار کو محض ثقافتی نہیں بلکہ معاشی اہمیت بھی عطا کرتا ہے۔
یہ تہوار ہمیں سماجی ذمے داری کا درس بھی دیتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ اپنی خوشیوں میں ضرورت مند اور غریب افراد کو بھی شریک کریں تاکہ وہ بھی اچھے کھانوں اور سہولتوں سے مستفید ہو سکیں۔ یہی رویہ کسی بھی تہذیبی روایت کو انسانی رنگ عطا کرتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ بسنت کی تقریبات امن و امان کے ساتھ منعقد ہوں اور شہری بلا خوف و خطر اس ثقافتی جشن سے لطف اندوز ہو سکیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بسنت کی کامیابی صرف حکومتی اقدامات کی مرہونِ منت نہیں بلکہ عوام کے تعاون اور ذمہ دارانہ رویے سے مشروط ہے۔ اگر ہم قانون کی پاسداری، احتیاط اور باہمی احساس کو اپنائیں تو بسنت ایک بار پھر خوشیوں، رنگوں اور محفوظ ترین تفریح کی علامت بن سکتی ہے۔

ٹیگز: