چاچا رشید پسینے میں شرابور چوپال میں داخل ہوئے۔ نتھو اور پھتو ان کو دیکھ کرگھبرا گئے کہنے لگے چاچا جی خیر تو ہے کہاں سے آ رہے ہیں؟۔ چاچا رشید کہنے لگے، بچو پہلے پانی پلاﺅ مجھے تھوڑا سانس بحال کرنے دو!۔۔۔ چاچا رشید نے گھونٹ گھونٹ پانی پیا۔۔۔ سانس بحال کرنے کے بعد بولے۔۔۔ نجانے اس ملک کا نظام کب سدھرے گا۔۔۔؟ اسی اثنا میں چپ سائیں بھی آ گئے۔۔۔ چاچا رشید کو کہنے لگے۔۔۔ کیا ہوا بھائی رشید؟۔۔۔ اس نظام کی کونسی بات بُری لگ گئی؟۔۔ کوئی ایک بات ہو تو۔۔۔ چاچا رشید پھر چپ کر گئے۔۔۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور کہا۔۔ ماجرا کیا ہے بھائی؟۔۔ چاچا رشید نے کہا کہ سائیں جی۔۔ میں ایک سرکاری دفتر میں ایک بیوہ اور یتیم کے کام کی غرض سے گیا تھا۔۔ میرے دوست کی فیملی بیچاری اپنے کام کے سلسلے میں دھکے کھا رہی تھی۔۔۔ پر کوئی۔ ان کا پُرسان حال نہیں تھا۔۔۔ یتیم بچے نے مجھ سے استدعا کی۔۔ آپ تھوڑا۔ ”کھڑکے“ والے ہیں انکل ہمارے ساتھ چلیں تاکہ شنوائی ہو۔۔۔ پھر کیا ہوا؟۔۔۔ چوپال میں سب یک زبان ہو کر بولے۔۔۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔ میں نے ”صاحب“ کو انتہائی نرم زبان میں کرسی، دین اور دنیا سب سمجھا دیا۔۔۔ اور پھر کہا کہ
کرو مہربانی تم اہل زمین پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر
اس پر چپ سائیں سمیت چوپال میں سب چاچا رشید کے ”کھڑاک“ کے معترف ہو گئے۔۔ نتھو اور پھتو کہنے لگے چاچا جی یہ تو نیکی والا کام کیا اور اس یتیم اور بیوہ کے کام ہونے پر اس طرح کی بہت سی ”فائلوں“ کو پہیے لگ جائیں گے۔۔ اب تو۔۔۔ اس پر سب چپ سائیں کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔
چپ سائیں نے کہا کہ دوستو رشید بھائی نے تو بہت زبردست کام کیا ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ انہوں نے جو شعر سنایا اور ”صاحب“ کا دل ”موم“ کیا۔۔ بھئی کمال است!۔۔۔ دوستو! یہ ایک مختصر سا شعر ہے، مگر اپنے اندر پوری انسانیت کی فلاح کا پیغام سموئے ہوئے ہے۔ جب کبھی دنیا کی تلخیوں، خود غرض رویوں، اور مفاد پرستی کے مناظر دل کو زخمی کرتے ہیں، تو یہ شعر ایک نرم پھاہے کی طرح روح پر رکھ دیتا ہے۔ یہ صرف ایک شاعرانہ خیال نہیں بلکہ ایک سادہ مگر گہرا اصول زندگی ہے۔ زمین والوں سے حسن سلوک کرو، آسمان والا تم سے راضی ہو جائے گا۔
صاحبو! آج کا انسان چاند پر پہنچ گیا ہے، مگر اپنے پڑوسی کے دل تک رسائی سے محروم ہے۔ ہمارے معاشروں میں رشتے کمزور ہو چکے ہیں، دل سخت ہو چکے ہیں، اور چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں آ چکی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی مہربانی کا ایک چھوٹا سا عمل بھی کرے، تو وہ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ میں اس بیوہ اور یتیم کی دعائیں محسوس اور سن سکتا ہوں جو ان کا کام ہونے کے بعد رشید بھائی کو ملی ہوں گی۔۔۔ ان بیچاروں نے نجانے کتنے عرصہ جوتیاں گھسائی ہوں گی اور کس کس کی منت سماجت کی ہو گی لیکن۔۔۔ ہم دراصل۔۔ بے حس معاشرے میں رہتے رہتے۔۔ سخت دل ہو چکے ہیں۔۔ اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے۔۔۔ مفاد پرستی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں لیکن اس طرح کی چھوٹی چھوٹی نیکی جو ہمارے ہاتھ کی جنبش میں ہوتی ہے اس کو بھول جاتے ہیں۔۔۔ ہم دور دراز جا کر یتیم خانوں، سرائے نجانے کہاں کہاں جا کر کھانا تقسیم اور خیرات کرتے ہیں لیکن ساتھ والے پڑوسی، بیوہ اور یتیم کو بھول جاتے ہیں۔۔۔ نجانے کیوں۔۔۔؟ چپ سائیں نے سرد آہ بھری۔۔۔
توقف کے بعد بولے۔۔۔ بھئی دوستو! چند روز قبل ایک واقعہ میرے مشاہدے میں آیا۔ ایک سبزی فروش کے پاس ایک بوڑھی خاتون آئی، جس کے پاس پیسے کچھ کم تھے، وہ بیچاری مفلوک الحال اور وضع داری کے سبب زبان سے کچھ کہہ نہ پا رہی تھی۔۔۔ وہ سبزی والا بغیر کچھ کہے سبزی تولتا رہا اور خاموشی سے خاتون کی طرف بڑھا دی ۔۔۔ ادھیڑ عمر خاتون کی نظریں سوال کر رہی تھی۔۔۔ سبزی فروش نے نظروں سے ہی جواب دیا۔۔ ہو گیا کھاتہ پورا بس!۔۔۔ میں ساتھ کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجھے تو وہ سبزی فروش کسی بادشاہ سے کم نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔ جس نے ضرورت مند کی جھولی اللہ کے کرم اور فضل سے بھر دی۔۔۔ دوستو!۔۔۔ ایسی چھوٹی چھوٹی مہربانیاں ہی ہمارے معاشرے میں امید کی کرن ہیں۔
اسلام ہو یا کوئی اور مذہب، سب ہمیں رحم دلی اور خدمت خلق کا درس دیتے ہیں۔ انسان کی عظمت اس کی عبادت یا مال میں نہیں، بلکہ اس کے اخلاق اور کردار میں ہے۔ یہی بات ہمیں یہ شعر جو چاچا رشید نے سنایا یاد دلاتا ہے کہ خدا کی رضا زمین پر بسنے والوں کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔
صاحبو! ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے فاصلے تو مٹائے ہیں، مگر دلوں میں فاصلے بڑھا دئیے ہیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی بیمار کی عیادت، کسی دکھی کی دلجوئی، یا صرف ایک مسکراہٹ۔۔۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے کام کسی کے لیے زندگی کی بڑی خوشی بن سکتے ہیں۔ کیونکہ آخرکار، خدا اس وقت مہربان ہوتا ہے، جب ہم اس کی مخلوق پر مہربانی کرتے ہیں۔
ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں انسان دوسرے انسان کو کمتر، کمزور اور غیر اہم سمجھنے لگا ہے۔ کیا ہمارے دل، ہماری آنکھیں اور ہمارے رویے اس مہربانی کی جھلک رکھتے ہیں جو کسی عظیم قوم کی پہچان ہوتی ہے؟ مہربانی صرف اخلاقی فریضہ نہیں، ایک معاشرتی ضرورت ہے کیونکہ اگر معاشرے میں مہربانی ختم ہو جائے، تو بے حسی، نفرت اور جرم جنم لیتے ہیں۔
ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کبھی غور کیجئے کہ ہم کتنی بار کسی بوڑھے کو راستہ دیا؟ کتنی بار کسی فقیر کو انسان سمجھا؟ کتنی بار کسی ماتحت کو عزت دی؟۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں روز بروز ایک ”غیر محسوس مخلوق“ بنتے جا رہے ہیں۔
نتھو، پھتو اور چوپال کے بچو مہربانی دولت سے نہیں، نیت سے کی جاتی ہے۔ یہ کسی بڑے سٹیج یا سکرین کی محتاج نہیں۔ یہ کسی اندھیرے دل کے لیے روشنی، کسی بے حس شہر میں امید اور اللہ کریم کی ذات کا رحم اور فضل پانے کا نسخہ ہے۔ سو، اگلی بار جب آپ کو موقع ملے تو بھائی رشید کی طرح ”کھڑکے“ سے بات ضرور کریں ۔۔۔ کسی ضرورت مند کی آواز بننے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔۔ آپ کے بگڑے کا م بھی بن جائیں ۔۔ ہو سکتا ہے کہ افسر مہربان ہو جائے۔۔۔ حکمران کے دل میں رحم آ جائے۔۔۔ اس مہربانی کے صلے میں کسی یتیم، بیوہ اور ضرورت مند کی دعا لگے اور آپ پر اللہ کریم مہربان ہو جائے۔ دوستو! شاید آپ کی وہ ایک مسکراہٹ کسی کے دن کو بدل دے اور شاید وہی ایک لمحہ آپ کو عرش بریں پر مہربان خدا کے قریب لے جائے۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!