Wed, September 16, 2026

سندور سے سرحد تک، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب

سندور سے سرحد تک، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب

معرکہ حق کا ایک سال مکمل جس کی پوری قوم، افواج پاکستان کا ہر جوان مبارک باد کا مستحق ہے، ایک سال قبل میدان میں فضاو¿ں میں سرحدوں پہ فوج نے بھارتی غرور کو خاک میں ملایا جس میں قوم شانہ بشانہ لڑی، خطے میں ایک بار پھر جنگی بادل منڈلا رہے ہیں، مگر اس بار کہانی صرف کشیدگی کی نہیں بلکہ طاقت، حکمتِ عملی اور بیانیے کی جنگ کی ہے۔
 بھارت کی حالیہ جارحانہ پالیسی، جسے وہ اپنی عسکری برتری کا مظاہرہ سمجھتا ہے، درحقیقت خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ لائن آف کنٹرول کے پار مبینہ اسٹرائیکس، ڈرون حملے، اور پھر اس سب کو میڈیا کے ذریعے فتح کے طور پر پیش کرنا، یہ سب ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو حقیقت سے زیادہ پروپیگنڈے پر کھڑی ہے۔ لیکن اس بار پاکستان نے نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ دفاعِ وطن محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔
بھارتی فضائیہ کی جانب سے 24 مقامات پر کیے گئے مبینہ اسٹینڈ آف اسٹرائیکس، جن میں مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، شکرگڑھ اور دیگر حساس علاقے شامل تھے، کو بھارت نے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ مگر زمینی حقائق اس بیانیے سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم، جدید الیکٹرانک وارفیئر (EW) صلاحیتوں اور مربوط حکمتِ عملی نے نہ صرف ان حملوں کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا۔ 7 بھارتی طیاروں، جن میں رافیل جیسے جدید جنگی جہاز بھی شامل تھے، کو مار گرایا گیا جبکہ ہیرون UAVs بھی تباہ کیے گئے۔ یہ صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کسی بھی مہم جوئی کے لیے محفوظ ہدف نہیں۔
بھارت کی جانب سے اسرائیلی ساختہ HAROP کامیکازی ڈرونز اور پولش Warmate ڈرونز کا استعمال بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ روایتی جنگی اصولوں سے ہٹ کر ہائبرڈ وارفیئر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر یہاں بھی پاکستان نے نہایت مہارت سے ان خطرات کا مقابلہ کیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف ان ڈرونز کو بروقت ناکارہ بنایا بلکہ دشمن کے اس حربے کو بھی بے نقاب کر دیا جو سویلین علاقوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے صورتحال کو مزید واضح کیا، جہاں شواہد کے ساتھ دنیا کو بتایا گیا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب بھارت کی عسکری بریفنگ، جس میں کرنل صوفیہ قریشی نے روایتی انداز میں دعوے کیے، وہ زیادہ تر داخلی سامعین کو مطمئن کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے، کیونکہ زمینی حقائق ان دعوو¿ں کی تائید نہیں کرتے۔
یہ آپریشن محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا مو¿ثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بھی اسی عزم کا مظہر تھا، جہاں قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے واضح اور دوٹوک مو¿قف اپنایا گیا۔
بھارت کی موجودہ پالیسی دراصل اس کی اندرونی سیاسی کمزوریوں کا عکس ہے۔ انتخابی سیاست میں کامیابی کے لیے جنگی ماحول پیدا کرنا، میڈیا کو استعمال کر کے مصنوعی فتوحات دکھانا، اور حقیقت کو چھپانا، یہ سب ایک خطرناک رجحان ہے۔ مگر پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہ صرف تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ ہر محاذ پر اپنی برتری بھی ثابت کی۔ پاکستان کی فوج، اس کی پیشہ ورانہ مہارت، اور عوام کا اعتماد، یہ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہیں۔
اگر ہم ماضی اور حال کا تقابل کریں تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ 27 فروری 2019 کو پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں "آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ" کے ذریعے دنیا کو اپنی صلاحیت دکھائی تھی، جہاں ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر کے بعد میں امن کے پیغام کے طور پر رہا کیا گیا۔ آج، مئی 2026 میں، ایک بار پھر پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ اس کی پالیسی دفاعی ضرور ہے مگر کمزور ہرگز نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب پاکستان کی تیاری، ٹیکنالوجی اور حکمتِ عملی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ سچ، حوصلے اور حکمت سے جیتی جاتی ہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زعم میں کیے گئے فیصلے اکثر خود اپنے ہی لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور آج بھی وہی روایت برقرار رکھتے ہوئے دنیا کو ایک بار پھر یہ پیغام دے رہا ہے کہ امن ہماری ترجیح ہے، مگر دفاع ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔

ٹیگز: