Wed, September 16, 2026

ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی پہلی ملاقات: خوشگوار ماحول لیکن تجارتی اختلافات برقرار

ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی پہلی ملاقات: خوشگوار ماحول لیکن تجارتی اختلافات برقرار

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے نئے وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی پہلی ملاقات خوشگوار انداز میں ہوئی، لیکن تجارتی پالیسیوں پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی شدت برقرار رہی۔

ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے غیر رسمی انداز میں کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی پیشکش کی، جس پر وزیراعظم کارنی نے بھرپور انداز میں کہا، "کینیڈا کبھی بیچنے کے لیے نہیں ہے۔" اس پر ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "کبھی نہ کبھی، کچھ بھی ممکن ہے۔"

دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارتی تعلقات، امریکی محصولات، اور ٹیرف پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ امریکہ کے مفادات کو ترجیح دیں گے، جبکہ کارنی نے کینیڈا کی خودمختاری اور آزاد تجارتی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا۔

اس ملاقات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جن میں دونوں رہنماؤں کو مسکراتے ہوئے اور غیر رسمی انداز میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تاہم عوامی ردعمل میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہ کیا ٹرمپ کینیڈا پر عائد ٹیکس اور ٹیرف ختم کریں گے، امریکی صدر کا جواب تھا: "یہ بس ایسے ہی ہے۔" ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ کارنی کی باتوں سے ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب امریکی تجارتی پابندیوں کی وجہ سے کینیڈا میں عوامی غصہ بڑھا اور مارک کارنی کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارنی کا نرم انداز عارضی ہو سکتا ہے، لیکن اصل چیلنج تجارتی مذاکرات میں ہوگا۔

ٹیگز: