یہ کون سا موسم ہے جو خزاں کو بہار کہنے پر بضد ہے؟یہ کیسا نظام ہے جو جلتی بستیوں میں جشن کے چراغاں کی تیاری میں مصروف ہے؟یہ کیسا اقتدار ہے جسے اپنے شہریوں کے زخم ، بھوک ، مہنگائی ، بیروزگاری اور خون آلود زمین دکھائی نہیں دیتی ؟ ملک حالت جنگ میں ہے،شمال مغرب میں دہشت گردی کی نئی لہر،مغربی سرحد پر کشیدگی،مشرقی سرحد پر بھارت کا جنگی جنون ، داخلی انتشار،عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی کھینچا تانی،مہنگائی کی لہر اور عوامی بے چینی کا آتش فشاں ہر وقت پھٹنے کو تیار۔ ۔ ۔ اور ان حالات میں، وفاقی حکومت ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسا آرڈیننس جاری کرتی ہے،جو ملک کے وفاقی وزراء ،مشیروں اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں اور مراعات میں 140 فیصد اضافہ کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ محض ایک اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں،یہ اجتماعی شعور کی توہین ہے۔۔۔یہ آرڈیننس پاکستان کے عوام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے،جو پہلے ہی آٹے،چینی،بجلی،گیس اور دوائی کی قیمتوں سے لہولہان ہیں۔۔۔یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سٹیٹ بینک بار بار خبردار کر رہا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہیں،جب حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر ہر طرح کے عوام دشمن اقدامات پر آمادہ نظر آتی ہے،جب ہمارے حکمران ہاتھوں میں کشکول تھامے ملکوں ملکوں خاک چھانتے دکھائی دے رہے ہیں،جب ملک کے بجٹ میں خسارہ آسمان کو چھو رہا ہے، جب دفاعی بجٹ کے سوا ہر مد میں کٹوتیاں ہو رہی ہیں۔۔۔تب مراعات میں اضافہ؟وہ بھی ان لوگوں کے لیے جن کی کارکردگی پر عوام کا اعتماد پہلے ہی متزلزل ہے؟۔۔۔یہ فیصلہ اْس پارٹی کی حکومت نے کیا جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اپنی سیاست قربان کر کے ریاست بچا لی۔۔۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے الفاظ اکثر دہرائے جاتے ہیں کہ ’’ہم نے اقتدار کے لیے نہیں،ریاست کو بچانے کے لیے قربانی دی۔‘‘ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیسی ریاست بچائی گئی ہے جو غریب کے تن بدن سے کپڑا چھین رہی ہے؟جو مزدور کے ہاتھ سے روٹی کا نوالہ بھی چھیننے پر آمادہ ہے،جو طالب علم کے خواب دفن کر رہی ہے، جو ماؤں کے آنچل خالی کر رہی ہے؟کیا واقعی یہ ریاست بچ گئی ہے یا صرف اقتدار کا کھیل دوبارہ سنوارا گیا ہے؟؟؟۔یہ صرف مسلم لیگ ن کی کہانی نہیں،اس کرپشن زدہ حکمرانی کے منظر نامے میں پیپلز پارٹی بھی پوری شان سے شریک ہے۔ ۔ ۔ صدرمملکت کی کرسی پر آصف علی زرداری بیٹھے ہیں ، جن کے دستخط سے یہ شرمناک آرڈیننس قانون کا درجہ اختیار کرتا ہے۔۔۔کیا آصف زرداری اس آرڈیننس سے ناواقف تھے؟کیا انہوں نے آنکھ بند کر کے دستخط کیے یا انہیں بخوبی علم تھا کہ یہ کس طبقے کو فائدہ پہنچا رہا ہے؟؟پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے گورنر موجود ہیں،مرکز میں بھی پارٹی حکومتی اتحادی ہے مگر عوامی سطح پر وہ بسا اوقات حکومت پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی اپنا کندھا پیش کرتے ہیں،یہ منافقت ہے یا مصلحت یا پھر صرف سیاسی چالاکی؟۔پیپلز پارٹی خود کو غریبوں کی جماعت کہتی ہے،بھٹو کے فلسفے کا وارث بتاتی ہے مگر جب عوام کی چیخیں آسمان تک پہنچتی ہیں تو یہ پارٹی خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔۔۔ایوان صدر سے لے کر گورنر ہاؤسز تک،ہر جگہ پیپلز پارٹی کے نمائندے موجود ہیں لیکن عوامی مسائل پر ان کی زبانیں گنگ ہیں۔۔۔وہ کبھی زبانی کلامی ’’حساسیت‘‘ دکھاتے ہیں مگر عملی طور پر حکومت کا حصہ بن کر اسی ظالمانہ نظام کو تقویت دیتے ہیں۔۔یہ وہی حکمران اتحاد ہے جس نے کہا تھا کہ عوام کو ریلیف دیں گے ،مہنگائی کم کریں گے،معیشت کو سہارا دیں گے ، ادارے آزاد کریں گے مگر ہوا یہ کہ مہنگائی نئی بلندیوں کو چھونے لگی،معیشت زمین بوس ہو گئی اور آزادی کے بجائے گرفتاری کا خوف ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے۔۔۔اس تمام منظر نامے میں ، تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک طرح سے اعلانِ بغاوت ہے۔۔۔عوام کے جذبات کے خلاف ۔ ۔ ۔ کیا یہ اضافہ اْن وزیروں کے لیے ہے جن کے بیانات میں تضاد ہے،جو ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہیں،جو سارا دن میڈیا پر الزامات اور وضاحتوں کے کھیل میں مصروف رہتے ہیں؟یا ان مشیروں کیلئے جو عوامی مینڈیٹ کے بغیر اقتدار کے ایوانوں میں قابض ہیں؟ یا ان وزرائے مملکت کے لیے جن کی وزارتوں کے نام عوام تک کو یاد نہیں؟کیا ان کی تنخواہوں میں اضافے کا کوئی جواز ہے؟ان کی کارکردگی کا کوئی پیمانہ؟کیا کسی نے ان وزراء کی کارکردگی پر مبنی کوئی رپورٹ جاری کی؟کیا ان میں سے کسی نے ملک کے معاشی بحران میں کوئی کردار ادا کیا؟یا پھر یہ صرف اقتدار میں شریک ہونے کا ’’انعام‘‘ ہے ؟ ؟ ؟ حکمرانوں کی بے حسی کی ایک طویل تاریخ ہے مگر جو بے حسی اس وقت سامنے آئی ہے،وہ بلاشبہ ایک نئی سطح پر ہے۔۔۔یہ وہی حکمران ہیں جو ہر سال حج سبسڈی کو ’’نامناسب‘‘کہہ کر ختم کر دیتے ہیں،جو ہر دو ماہ بعد پٹرول،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں،جو پنشنرز کی معمولی سی رقم کو بھی بوجھ سمجھتے ہیں مگر اپنے لیے تنخواہوں اور الاؤنسز کے معاملے میں اتنے ’’باصرف‘‘ہیں کہ وہ 140 فیصد کا اضافہ ایک آرڈیننس کے ذریعے راتوں رات نافذ کر دیتے ہیں۔۔۔یہ فیصلہ اْس وقت کیا گیا ہے جب ملک میں’’طبل جنگ‘‘بج چکا ہے اور مودی سرکار پاکستان کے خلاف ’’جارحیت‘‘دکھانے کے منصوبے بنانے میں مصروف ہے۔۔۔جب پاکستان کے ہزاروں طلبہ فیسیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں،جب پینے کا صاف پانی ایک خواب بن چکا ہے،جب سرکاری ہسپتالوں میں دوا ئیاں دستیاب نہیں،جب سیلاب زدگان آج بھی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں،جب ریٹائرڈ اساتذہ اور سرکاری ملازمین پنشن کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر لگا لگا کر بیمار ہو چکے ہیں،جب اساتذہ کرام سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں کھانے میں مصروف ہیں،جب ہیلتھ ورکرز اپنے بنیادی مطالبات کے لئے کئی کئی ہفتوں سے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔کیا ان حالات میں یہ فیصلہ کسی بھی عقلی،اخلاقی یا قومی اصول کے مطابق ہے؟ ؟ ؟ ۔ یہ ایک ’’طبقاتی ریاست‘‘کا شاخسانہ ہے۔۔۔ایسی ریاست جہاں مراعات صرف مراعات یافتہ طبقے کو میسر ہیں۔۔۔پاکستان کے سیاستدان ، خاص طور پر اقتدار میں بیٹھے لوگ، عوام کے جذبات سے کس قدر کٹے ہوئے ہیں،اس کا اندازہ اس آرڈیننس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔۔۔انہیں معلوم ہے کہ عوام احتجاج کرنے کے قابل نہیں رہے،انہیں بھوک،تھکن اور بے یقینی نے بے بس کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ریاست اپنے بدترین روپ میں سامنے آتی ہے۔۔۔آرڈیننس جاری کرنے کا طریقہ بھی قابلِ مذمت ہے ۔ ۔ ۔ اگر یہ فیصلہ اتنا ہی عوامی فلاح کا تھا تو اسے پارلیمان میں لایا جاتا،اس پر بحث ہوتی، سوالات اٹھتے ، وضاحتیں دی جاتیں مگر چونکہ حکمران جانتے تھے کہ یہ فیصلہ عوامی جذبات کی مکمل نفی ہے،اس لیے اسے رات کی تاریکی میں ’’قانون‘‘کا لبادہ پہنا دیا گیا۔۔۔ایک جمہوری حکومت اگر عوام کی نمائندگی کا دعویٰ رکھتی ہے تو پھر ایسے فیصلے کن قوتوں کے کہنے پر اور کن مقاصد کے لیے کیے جا رہے ہیں؟یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔۔۔یہ آرڈیننس ایک علامت ہے،ایک استعارہ ہے،جو ہمیں بتاتا ہے کہ طاقتور کیسے نظام کو اپنے حق میں موڑ لیتے ہیں۔۔۔اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو کل شاید ہمارے بولنے کی باری ہی نہ آئے۔۔۔۔