Wed, September 16, 2026

جیل زدہ دیوتا 

جیل زدہ دیوتا 

یہ اُس وقت کی با ت ہے جب انسان محض ایک جاندار تھا۔ سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی لا محدود طاقت سے بے خبر تھا، یعنی اشرف المخلوقات کی صلاحتیں استعمال نہیں کررہا تھا۔ جو شے اس سے زیادہ طاقتور ہوتی وہ اُس سے متاثر ہوکر اُس کے تابع ہو جاتا۔ مثلاً جب آسمان پر بجلی کڑکتی، دریاﺅں میں پانی چڑھ جاتا یا جنگلوں اور صحراﺅں میں سفر کے دوران کوئی بہت بڑا سانپ راستے میں آتا تو انسان اِن سب سے خوفزدہ ہو جاتا اور پناہ حاصل کرنے کے لےے انہیں اپنا دےوتا مان لےتا۔ ےہ جانے بغےر کہ ان چےزوں کی اصلےت کےا ہے؟ انہوں نے یہ طاقت کہاں سے حاصل کی؟ اور اِن کو کےسے قابو کےا جاسکتا ہے؟ پھر آہستہ آہستہ علم ودانش کی ترقی، رہنماﺅں کے اخلاص اور مےڈےا کی اےجاد نے ےہ پردے ہٹا دیئے اور دوسری شے کا مصنوعی رعب ختم ہوتا چلا گےا لےکن دنےا کے بعض خطوں مےں یہ شعور آنے کے عمل کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہی جن مےں سے اےک پاکستان بھی ہے۔ گزشتہ سات دہائےوں مےں ہمارے ہاں علم ودانش کی بے پناہ باتےں ہوئےں، تحریریں لکھی گئیں اور کتابیں چھپوائی گئیں۔ چند ایک کو چھوڑ کر صاحبان علم کا یہ قافلہ سرکاری دربار کی غلام گردشوں مےں ہی گھومتا رہا اور اس رےوڑ کے ہررکن کے منہ سے کسی انعام، بڑے عہدے ےا اعلیٰ تعلقات حاصل کرنے کی رال مسلسل ٹپکتی رہتی۔ اِسی لےے ان کے لکھے یا بولے گئے الفاظ میں کوئی انقلابی تاثےر نہےں تھی جبکہ تارےخ انسانی پر نظر ڈالےں تو پتا چلتا ہے کہ دنےا مےں لوگوں کی بھلائی کے لےے جتنی تبدیلیاں آئےں سب کی سب تحرےر اور کتاب کے ذرےعے ہی آئےں لےکن پاکستان مےں اُردو بازار کی دکانوں مےں تو اضافہ ہوتا چلا گےا مگر لوگوں کی بے چارگی کم نہ ہوئی کےونکہ ےہاں بادشاہ کے درباری ”ذوق“ زےادہ اور بے آواز گلی کوچوں مےں پھرنے والے ”غالب“ کم تھے۔ رہنماﺅں کا ذکر کرےں تو کم و بیش اندر سے سب ہی اےک تھے ۔ اپنی رعاےا پر رعب ڈالنے، انہیں ڈرانے، دھمکانے اور مارنے کے لےے گدھے اور بےل شےر کی کھال پہن کر ملک کے اندر جنگل کے بادشاہ اوربےرون ملک بھےگی بلی بن جاتے۔ ےوں زےادہ تر دانشور اور قومی رہنما اردگرد خوف وہراس اور رعب کی فضا قائم رکھے، معاشرے کے دےوتا بنے رہے۔ اکےسوےں صدی ہمارے ملک کے لےے کےا خبر لے کر آئی اس کا پتا بعد میں چلے گا لےکن اس بات سے کوئی انکار نہےں کرسکتا کہ ےہاں کے لوگوں نے اب اپنے آپ کو کچھ کچھ پہچاننا شروع کردیا ہے۔ وہ اب دےوتاﺅں کے مصنوعی خوف سے نکل کر اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہےں۔ آج کے الیکٹرانک مےڈےا اور سوشل میڈیا کے ہونے والے بِگ بینگ نے گدھوں اور بےلوں پر چڑھی شےر کی کھالوں کو اتار پھےنکا ہے۔ انہیں اندازہ ہوگےا ہے کہ چھاپہ خانوں مےں شائع ہونے والے زےادہ تر صفحات محض نوکرےاں اور پلاٹ حاصل کرنے کے لےے تھے۔ سعادت حسن منٹو کے افسانے ”ٹھنڈا گوشت“ مےں ”اےشر سنگھ زبردستی اٹھائی گئی مسلمان لڑکی کو ہوس پوری کرنے کے لےے اپنے سامنے لٹاتا ہے لیکن اسے مردہ پاکر چھوڑ دےتا ہے“ جبکہ ہمارے ہاں کے کچھ صاحب تحرےر، تجزےہ کار اور خبرنگار چھوٹے چھوٹے لالچ کے لےے ”ٹھنڈا گوشت“ بھی نہےں چھوڑتے۔ اس کے علاوہ سےاست دانوں کی آماجگاہوں مےں گھومنے پھرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ےہ لوگ مائےک پرتو لوگوں کے دکھ درد کے لےے اپنے دن رات کا سکون چھوڑنے کو تےار ہوتے ہےں اور عوام کے ووٹوں کو ہی اقتدار تک پہنچنے کی سےڑھی قرار دےتے ہےں لےکن درحقےقت ےہ سےاسی دےوتا مخصوص طاقتوں کو حکومت مےں آنے کا اصلی ذرےعہ سمجھتے ہےں اور انہی کی خوشامد مےں لگے رہتے ہےں۔ سبز پرچم کے اس ملک مےں پھےلی ہوئی بے چارگی کی زرد آنکھےں کسی سچے لےڈر کو ترس رہی ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے سےانے جو چاہےں کہےں لےکن لوگوں کے دل اور تارےخ گواہی دےں گے کہ اب جھوٹے نقلی اور جیل زدہ دےوتاﺅں کی اصلےت ظاہر ہوگئی ہے۔ اس شعور کی بنےاد پر اب لوگ مطالبہ کرتے ہےں کہ قربانی کا دےوتا وہی ہوگا جو دوسروں کی زندگیوں کے لےے خود قربان ہوگا۔ اب لوگ کہتے ہےں کہ محبت کا نقلی چہرہ سجانے سے کوئی محبت کا دیوتا نہیں بن سکے گا۔ اُسے سچا پےار دےنا پڑے گا۔ یہ کب ہوگا کہ ےہاں کے حکمران مخصوص طاقتوں کی خوشامد کی بجائے اپنے لوگوں کی خدمت کرنے پر مجبور ہوں گے؟ موجودہ پاکستانی عوام جھوٹے نقلی اور جیل زدہ دےوتاﺅں کے خوف اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوگےا ہے کہ درےاﺅں مےں شور مچاتے پانی اور بے قابو آگ کو کےسے راہِ راست پر لاےا جاسکتا ہے۔ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ راستے مےں آنے والے سانپ کو لاٹھی سے مارا جاسکتا ہے۔ وہ جان گئے ہےں کہ کڑکنے والی بجلی کو انٹےنا لگاکر زمین میں دفن کےا جا سکتا ہے۔ لہٰذا خواہ مخواہ کسی سے خوف کھانے یارعب میں آنے کی باتیں اب بچوں کی کتابوں میں لکھی ہوئی دےوتاﺅں کی کہانےاں بن کر رہ گئی ہےں۔ اسی لیے حفیظ جالندھری نے کیا خوب کہا تھا :
ایسا ہو کوئی نامہ بر ، بات پہ کان دھر سکے 
سن کے یقین کر سکے ، جا کے انہیں سنا سکے 

ٹیگز: