امریکی ایوان نمائندگان نے 215 ووٹوں کی اکثریت سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ کرنے/ جاری رکھنے کے اختیار کو اجازت سے مشروط کر دیا ہے۔ قرارداد کے خلاف 208 ووٹ پڑے۔ چار ری پبلکن ممبران نے پارٹی لائن کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، اس طرح آئینی و قانونی طور پر امریکی صدر کا جنگ کرنے کے بارے میں اختیار مشروط ہو گیا ہے۔ ویسے امریکی آئین بھی ایسا ہی کہتا ہے کہ امریکی صدر فوری طور پر جنگ کا اعلان تو کر سکتا ہے لیکن پھر اسے کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔ ایران کے خلاف ٹرمپ کی حالیہ جنگ کے بارے میں امریکی رائے عامہ منقسم پائی جاتی ہے۔ امریکی عوام اسے امریکہ کی جنگ نہیں بلکہ نیتن یاہو کی جنگ قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن اہلکار بار بار کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے ساتھ جلد ہی ڈیل ہو جائے گی۔ فریقین جلد ہی کسی اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے اور اس طرح جنگ کا جلد ہی خاتمہ ہو جائے گا۔ ہاﺅس سپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ جنگی اختیارات محدود کرنے بارے کانگریسی قرارداد ٹرمپ کی ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کی طاقت میں کمی کا باعث بنے گی۔
حالیہ جنگ، جس کا باقاعدہ اعلان صدر ٹرمپ نے ٹی وی پر کیا۔ اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ حملہ تھا۔ اسرائیل بڑی ہوشیاری سے اس جنگ سے باہر نکل گیا اور لبنان کے ساتھ معاملات طے کرنے لگا۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ یہ جنگ مکمل طور پر اپنے گلے میں ڈال لی۔ اب یہ جنگ امریکہ کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ ایرانی فتح کا تاثر پختہ ہو چکا ہے۔ ایرانی قوم نے داخلی کمزوریوں اور نااتفاقیوں کے باوجود قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے خلاف جنگ لڑی ہے اور وہ ابھی تک باوجود تکالیف و مشکلات کے میدان جنگ میں ثابت قدم نظر آرہے ہیں۔ امریکی بمباری و میزائل باری نے یقینا ایران میں تباہی مچائی ہے۔ ایرانی انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔ معیشت شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے لیکن ایرانیوں نے آبنائے ہرمز کارڈ جس ذہانت اور جرا¿ت سے کھیلا ہے، اس نے ایرانیوں کی کمزور پوزیشن کو موثر بنا دیا ہے۔ شاید ایرانیوں کو خود بھی پتہ نہیں تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذریعے جنگ کا پانسہ اس قدر موثر طریقے سے پلٹا جا سکتا ہے۔ اب ایرانی یہ کارڈ مہارت سے کھیل رہے ہیں۔ جنگ کے دوران ایک وقت میں ایرانیوں نے 450 کلوگرام افزدوہ یورینیم کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کر دی تھی۔ اس وقت تک ہرمز کارڈ بروئے کار نہیں لایا گیا تھا۔ اب ایرانی اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنا طے شدہ ، اعلان کردہ موقف کہ ”ایران ایٹم بم نہیں بنانا چاہتا“ دہراتے نظر آرہے ہیں لیکن افزودہ یورینیم کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ جلد سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کی فتح کا تاثر بھی زائل کرنا چاہتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے، اس کی جنگی مشین ایران کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی سہمے ڈرے ہیں۔ امریکی اڈے خالی ہو چکے ہیں۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی تباہی کے خوف سے امریکی فوجی ان اڈوں سے نکل چکے ہیں۔ کئی اتحادی عرب ممالک نے امریکہ کو ان کی سرزمین ایران پر حملوں کے لئے استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی اس مسئلے پر امریکی اتحادی نہیں ہے۔ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ٹرمپ کا سلوک بلکہ ٹرمپ کی بدسلوکی، زبان زدِعام ہے۔ امریکی ہیبت کا بت ایران نے پاش پاش کر دیا ہے۔ تاثر یہ پیدا ہو چکا ہے کہ امریکہ ڈیل کے لئے ترلے کر رہا ہے۔ وہ اس جنگ سے جلد نکلنا چاہتا ہے لیکن ایران امریکی شرائط من و عن تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آرہا ہے۔ امریکہ جنگ سے جلد از جلد مکتی چاہتا ہے، جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن شکست کا داغ لئے بغیر، فتح و نصرت کے ساتھ تاکہ اس کا عالمی طاقت کا بھرم قائم رہ جائے۔ ایران اسے ایسا کرنے کا موقع دینے کے لئے تیار نہیں ہے، ایران میں شکست خوردگی نہیں ہے۔ امریکہ جنگ ہار چکا ہے، اس کی جنگی مشین کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ ایران نے اس کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔ امریکی قیادت شکست خوردگی کا بھی شکار ہے۔ ایوان نمائندگان کی پاس کردہ حالیہ قرارداد نے ٹرمپ انتظامیہ کی بارگیننگ پوزیشن اور بھی کمزور کر دی ہے۔ ذرا سی بات گلگت بلتستان کے انتخابات کی بھی ہو جائے۔ یہاں 272 آزاد اور 131 سیاسی پارٹیوں سے وابستہ امیدواران انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ 8 خواتین امیدوار بھی میدان میں ہیں جن میں سے 5کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان نظریاتی پارٹی کی ایک ایک خاتون امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 23 اور ن لیگ کے 22 امیدوار انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے 15، مسلم لیگ کے گیارہ، پاکستان نظریاتی پارٹی کے 10اور اسلامی تحریک پاکستان کے 10 امیدوار انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔
جمعیت علماءاسلام کے 9 ، مجلس وحد ت مسلمین کے 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم پاکستان کے 6,6 امیدوار میدان میں ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کے چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی، عوامی پارٹی، مرکزی مسلم لیگ، تحریک تحفظ پاکستان پارٹی، سنی اتحاد کونسل اور تحریک لبیک پاکستان کا 1,1 امیدوار میدان میں موجود ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ٹاور گروپ 1,1 امیدوار کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ پی ٹی آئی حسب سابق اور حسب عادت نوحہ خوانی کرتی نظر آرہی ہے۔ یہاں ان کا وجود ہی نظر نہیں آرہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل مقابلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہو گا جبکہ حکومت سازی میں حتمی کردار آزاد امیدواران ادا کریں گے۔ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔