Wed, September 16, 2026

ٹرمپ کی حیرانی

ٹرمپ کی حیرانی


کوئی حیران کب ہوتا؟ اس سوال کا بہت سادہ سا جواب ہے کہ جب وہ کسی چیز کے بارے میں غلط اندازہ لگا لے۔ یہ دنیا اندازوں اور ظن و تخمین کی بنیاد پر ہی چل رہی ہے۔ درست اندازہ لگانا عام طور پر آدمی کو کسی بڑے نقصان سے بچا لیتا ہے جبکہ غلط اندازہ بعض اوقات مروا بھی دیتا ہے۔ اندازے اکثر اوقات گہری معلومات کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں تاہم کبھی کبھار بغیر معلومات کے بھی لگا لیے جاتے ہیں۔ کسی چیز کے بارے میں جتنی بہتر معلومات ہوں اتنا ہی بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امریکہ جیسی سپرپاور بھی آج تک اندازوں کی بنیاد پر ہی دنیا پر حکمرانی کرتی چلی آئی ہے۔ اس کے اندازے عام طور پر ان معلومات پر مبنی ہوتے ہیں جو وہ اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے اکٹھی کرتا ہے، اس لیے اس کے بیشتر اندازے درست نکلتے رہے ہیں۔ کسی ملک پر جنگ مسلط کرنا ہو، کہیں بغاوت شروع کرانا ہو، کسی کے حکمران کو اغوا کرنا ہو یا قتل کرانا ہو، نتائج ہمیشہ اس کی توقع کے مطابق نکلتے رہے ہیں۔ نو گیارہ کے بعد افغانستان پر یلغار ہو، جوہری ہتھیاروں کے بہانے عراق پر حملہ یا حال ہی میں وینزویلا کے صدر کا اغوا ہر جگہ امریکہ کو اپنی مرضی کے نتائج ملے۔ کہیں کسی ایسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو اسے کے گلے کی ہڈی بن جاتی۔ شاید زیادہ درست اندازے لگا لگا کر امریکی خفیہ ادارے یا سیاسی حکومتیں ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو گئی ہیں اور اب وہ مکمل معلومات حاصل کیے بغیر ہی ایسے اندازے لگانے لگی ہیں جو ان کے لیے ہزیمت کا باعث بننے لگے ہیں۔ پہلی بار امریکہ کا کوئی اندازہ غلط نکل آیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ امریکہ نے جو سوچ کر شروع کی تھی، وہ نتائج تو ابھی تک برآمد نہیں ہوئے البتہ اسے لینے کے دینے پڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب مذاکرات کی میز پر بھی آ چکا ہے اور مزید جنگ نہ کرنے کی یقین دہانیاں بھی کراتا پھر رہا ہے۔ امریکی صدر ایران کی ایئرفورس، نیوی اور جوہری قوت کو ختم کرنے کے دعوے بھی کرتے ہیں، موجودہ ایرانی قیادت کی تعریفیں بھی کرتے ہیں۔ ایران سے معاملات جلد طے پانے کی یقین دہانیاں بھی کراتے ہیں، اسرائیلی صدر کی سرزنش بھی کرتے ہیں، ایران کو دبے دبے لہجے میں مفاہمانہ قسم کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور خود کو اچھے لوگ کہہ کر دنیا کو اپنے امن پسند ہونے کا ثبوت دینے کی ناکام کوشش کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ امریکی صدر کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اپنی اندازے کی اس غلطی پر کیا کہیں اور کیا نہ کہیں۔ کبھی وہ ایران کے حوالے سے ایک دن میں دو بالکل متضاد باتیں کرتے ہیں تو کبھی ایک ہی سانس میں دو بالکل مختلف باتیں کہہ جاتے ہیں۔ کوئی غنچہ ہوتا تو شاید وہ شاعرہ ادا جعفری کے مصرع ”حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے“ کے مصداق اس قدر حیرانی اور دلگیری پر اپنے ہونٹوں کو بند کیے رکھتا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ تو امریکی صدر ہیں جنہیں ہر حال میں بولنا ہے۔ کچھ عادت سے مجبور ہو کر اور کچھ منصب کی ضرورت کے تحت کہ بولیں گے تو ہی اپنے ہم وطنوں کو اپنے غلط اندازوں کے حوالے سے مطمئن کر سکیں گے چنانچہ وہ کچھ نہ کچھ بولتے ہی رہتے ہیں اور ان کے بولنے سے ان کے ذہنی انتشار کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر کے جنازے میں شریک لاکھوں لوگوں کو روتا دیکھ کر یہ بیان داغا ہے کہ عوام کو خامنہ ای کے لیے روتا دیکھ کر حیران ہوں، سمجھتا تھا ایرانی ان سے نفرت کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے ساری تخمین و ظن اور اندازہ کاری وائٹ ہاو¿س میں بیٹھ کر اپنے خفیہ اداروں کی طرف سے فراہم کردہ ناقص معلومات کی بنیاد پر ہی کرتے رہے ہیں۔ یہ خفیہ ادارے انہیں شاید چند ماہ قبل ایران میں مہنگائی کے خلاف کچھ ناسمجھ لوگوں کے ”عوامی“ 
مظاہرے دکھا کر مطمئن کر چکے تھے کہ ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای یا ان کی حکومت کو عوام پسند نہیں کرتے اور اگر ایران پر حملہ کر دیا جائے تو لوگ اندر سے بھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور یوں ہم وہاں آسانی سے اپنی مرضی کی حکومت مسلط کی جا سکے گی۔ سو ٹرمپ، امریکی حکومت اور ان کا بغل بچہ اسرائیل اسی خام خیالی کی بنیاد پر ایران پر حملہ کرنے کے پاگل پن میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے ایران کو بھی افغانستان، عراق، لبنان یا غزہ نما کوئی ملک سمجھ لیا کہ اس پر حملہ کریں گے، تباہ و برباد کریں گے، لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مار دیں گے، وہاں اپنی فوج اتار کر قبضہ کر لیں گے اور پھر آرام سے اپنی مرضی کی حکومت لے آئیں گے۔ یہاں تک کہ جب جنگ کے آغاز سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری تھی تو اس کے مکمل ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا اور ایک صبح اسرائیل نے پاگل کتے کی 
طرح ایران پر حملہ کر دیا۔ ایرانی شہر میناب کے سکول میں زیر تعلیم 168 بچوں اور بچیوں کو شہید کر دیا گیا اور اس حملے کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ٹی وی پر آ کر اسرائیلی حملے کے حق میں خطاب شروع کر دیا جس میں دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ چونکہ دنیا کو ایران کے جوہری ہتھیاروں سے خطرہ ہے، اس لیے ہم نے دنیا کو محفوظ کرنے کے لیے یہ حملہ کیا ہے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ امریکی اور اسرائیلی تکبر کیسے ٹوٹا۔ دنیا کو ایرانی جوہری ہتھیاروں سے محفوظ رکھنے کا بھاشن دینے والوں نے جوہری ہتھیاروں کے بغیر ہی ایرانی میزائلوں سے آدھا اسرائیل اور مشرق وسطیٰ ادھڑوا لیا۔ پھر امریکہ اور اسرائیل جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، ان میں سے ایک امریکہ تو پاکستان کی ثالثی میں ایران سے مذاکرات پر یوں آمادہ ہوا جیسے وہ کسی کی راہ تک رہا ہوں کہ کوئی آئے اور ایران سے ہماری جان بچائے جبکہ اسرائیل اس وقت سے یوں بھیگی بلی بنا ہوا ہے جیسے اس کا کہیں وجود ہی نہ ہو۔ وہ لبنان اور فلسطین میں تو شر انگیزی سے باز نہیں آ رہا لیکن ایران کی طرف دیکھنے کی جرا¿ت بھی نہیں کر رہا۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے بارے میں اندازے کی غلطیاں اب انہیں مسلسل حیران کر رہی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ حیرانی جلد یا بدیر ان کے لیے کسی پریشانی میں بدل جائے۔

ٹیگز: