Wed, September 16, 2026

بند سیاسی منڈی!

بند سیاسی منڈی!


پاکستان میں موروثی سیاست پر اعتراض کرنا تقریباً ایک قومی عادت بن چکا ہے۔ ہر انتخابات کے بعد یہی سوال دہرایا جاتا ہے کہ اسمبلیوں میں وہی خاندان کیوں نظر آتے ہیں؟ ایک حلقہ انتخاب باپ سے بیٹے، پھر پوتے تک کیسے منتقل ہو جاتا ہے؟ ایک سیاسی جماعت کی قیادت نسل در نسل ایک ہی خاندان کے پاس کیوں رہتی ہے؟ اور کیوں عام آدمی، خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ، دیانت دار یا باصلاحیت ہو، سیاست کے مرکزی دھارے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا؟ عام طور پر اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے سیاسی خاندان اقتدار کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ یہ جواب مکمل طور پر غلط نہیں، مگر مکمل سچ بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موروثی سیاست صرف خاندانوں کی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی نظام کی پیداوار ہے جو نئے لوگوں کے لیے دروازے بند اور پرانے کھلاڑیوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے۔ معاشیات میں Closed Market یا بند منڈی کا تصور معروف ہے۔ جب کسی صنعت میں نئے سرمایہ کاروں کے داخلے پر غیر مرئی رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں تو مقابلہ ختم ہونے لگتا ہے۔ چند بڑی کمپنیاں پوری منڈی پر قابض ہو جاتی ہیں، نئی سوچ اور جدت رک جاتی ہے اور صارف کے پاس انتخاب محدود ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاست بھی اسی اصول پر چل رہی ہے۔ یہاں بھی ایک بند سیاسی منڈی وجود میں آ چکی ہے، جہاں سیاسی سرمایہ چند خاندانوں، چند جماعتوں اور چند طاقتور حلقوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں داخل ہونے کا سب سے موثر راستہ قومی یا صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ ہے۔ لیکن یہ ٹکٹ حاصل کرنا عام شہری کے لیے تقریباً ناممکن مرحلہ بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں نظریاتی کارکن سے زیادہ ”الیکٹیبل“ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ الیکٹیبل وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس پہلے سے ووٹ، برادری، سرمایہ، مقامی اثرو رسوخ اور انتخابی مشینری موجود ہو۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ اس حقیقت نے بنا دیا ہے کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کبھی مستقل بنیادوں پر قائم ہی نہیں رہ سکا۔ ہر حکومت نے، خواہ وہ فوجی ہو یا منتخب، مضبوط مقامی حکومتوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قیادت تیار کرنے کی نرسریاں ہی ختم ہو گئیں۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں ایک نوجوان کونسلر بنتا ہے، پھر میئر، پھر صوبائی یا ریاستی سطح پر آتا ہے اور آخرکار قومی پارلیمان تک پہنچتا ہے۔ اس پورے سفر میں وہ عوامی خدمت، انتظامی تجربہ اور سیاسی بصیرت حاصل کرتا ہے۔ پاکستان میں سیاستدان کو یہ تمام مراحل طے کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اسے براہِ راست قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا پڑتا ہے، جہاں اس کا مقابلہ ایسے خاندانوں سے ہوتا ہے جن کے پاس کئی نسلوں کا سیاسی سرمایہ موجود ہوتا ہے۔ ایک پہلی نسل کا امیدوار اپنے ساتھ صرف تعلیم، وژن اور جذبہ لے کر آتا ہے، جبکہ ایک موروثی امیدوار کے پاس انتخابی دفاتر، وفادار کارکن، برادری کا ووٹ بینک، سرمایہ فراہم کرنے والے، میڈیا تک رسائی، پارٹی قیادت سے ذاتی تعلقات، انتظامی تجربہ اور سیاسی شناخت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ گویا ایک شخص خیالات کے ساتھ میدان میں اترتا ہے اور دوسرا ایک مکمل ادارے کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست مسلسل چند خاندانوں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی رجحان صرف قومی سیاست تک محدود نہیں۔ تاجر تنظیمیں، پیشہ ورانہ ایسوسی ایشنز، بار کونسلیں، کوآپریٹو ادارے، حتیٰ کہ بعض تعلیمی اور سماجی اداروں میں بھی نئی قیادت کے لیے جگہ بنانا آسان نہیں۔ جہاں داخلی انتخابات کمزور ہوں اور فیصلہ سازی چند افراد تک محدود ہو، وہاں طاقت آہستہ آہستہ وراثت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں ایک اور حقیقت بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب سیاست میں مقابلہ محدود ہوتا ہے تو معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار ایسی ریاست میں سرمایہ لگانا پسند کرتے ہیں جہاں پالیسی افراد کی نہیں بلکہ اداروں کی تابع ہو۔ لیکن جب ہر انتخاب کے ساتھ صرف چہرے نہیں بلکہ پورا معاشی رخ بدل جائے، تو سرمایہ کاری، روزگار اور صنعتی ترقی بھی غیر یقینی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لیے موروثی سیاست صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ بند سیاسی منڈی، بند معاشی منڈی کو جنم دیتی ہے اور دونوں مل کر ترقی کی رفتار سست کر دیتے ہیں۔ حل کیا ہے؟ سب سے پہلے، آئینی تحفظ کے ساتھ ایک مضبوط اور مستقل بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ قیادت گلی، محلے، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر پروان چڑھے۔ دوم، سیاسی جماعتوں میں حقیقی اندرونی انتخابات لازمی بنائے جائیں تاکہ پارٹی ٹکٹ چند افراد کی صوابدید کے بجائے شفاف طریقہ کار سے تقسیم ہوں۔ سوم، انتخابی اخراجات اور سیاسی فنڈنگ کو مکمل شفاف بنایا جائے تاکہ سرمایہ سیاست میں داخلے کی بنیادی شرط نہ رہے۔ چہارم، پارلیمنٹ، جامعات، تھنک ٹینکس اور تجارتی و پیشہ ورانہ تنظیموں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں تاکہ مختلف شعبوں کی قیادت بھی قومی سیاست میں آگے آ سکے۔ جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنے کا حق نہیں بلکہ سیاست میں داخل ہونے کا مساوی حق بھی ہے۔ اگر مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ایک امیدوار کو تمام وسائل اور دوسرے کو صرف امید میسر ہو تو انتخاب آئینی ضرور ہو گا، مگر مساوی نہیں۔ پاکستان کو موروثی سیاست کے خلاف نعروں سے زیادہ ایک کھلی سیاسی منڈی کی ضرورت ہے۔ ایسی منڈی جہاں سیاسی وراثت کسی کے لیے رکاوٹ نہ ہو، لیکن کسی کے لیے ضمانت بھی نہ ہو۔ جہاں خاندان نہیں بلکہ کارکردگی فیصلہ کرے، تعلقات نہیں بلکہ صلاحیت کامیابی کا معیار بنے، اور اقتدار چند ناموں کے گرد گردش کرنے کے بجائے ہر باصلاحیت پاکستانی کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ جمہوریت کی اصل طاقت اسی دن سامنے آئے گی جب پاکستان کا ہر نوجوان یہ یقین کر سکے کہ اگر اس کے پاس وژن، دیانت اور عوامی خدمت کا جذبہ ہے تو اسے سیاست میں آگے بڑھنے کے لیے کسی خاندانی نام، جاگیردارانہ پس منظر یا سیاسی وراثت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہی وہ دن ہو گا جب پاکستان میں صرف حکومتیں نہیں بلکہ سیاسی نظام بھی حقیقی معنوں میں جمہوری کہلانے کا مستحق ہو گا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ موروثی سیاست نہیں، بلکہ ایسا سیاسی نظام ہے جس میں وراثت سب سے بڑی سیاسی اہلیت بن چکی ہے۔ جب سیاسی منڈی کھلے گی تو قیادت بھی وراثت سے نہیں، قابلیت سے جنم لے گی۔1

ٹیگز: