سوات کے پہاڑوں سے لے کر وزیرستان کے سنگلاخ چٹانوں تک، پاکستان کی دھرتی نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا ایک لازوال باب ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں لوئر سائوتھ وزیرستان کے علاقوں کریکوٹ اور وانا میں پیش آنے والے پے در پے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خود کو اسلام کا علمبردار کہنے والے ”خوارج“ درحقیقت اس مٹی، اس کے بچوں اور اس کی روشن روایات کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کریکوٹ میں لڑکیوں کے ایک سکول کو دھماکے سے اڑانا اور وانا کے علاقے کلوتی میں ڈرون (کواڈ کاپٹر) کے ذریعے معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا محض دو الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ اس بھیانک، تاریک اور سماج دشمن ایجنڈے کا تسلسل ہیں جس کا مقصد پاکستان کو جہالت، خوف اور پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیلنا ہے۔
خوارج کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے جب بھی سر اٹھایا تو سب سے پہلے علم، شعور اور انسانی جان کی حرمت پر وار کیا۔ کریکوٹ میں گرلز سکول پر بزدلانہ حملہ ان کی اسی ذہنی پسماندگی اور ”تعلیم دشمنی“ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی سماجی و اقتصادی چیلنجز کے باعث لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع محدود ہیں۔ وہاں ایک تعلیمی ادارے کو بارود سے اڑا دینا براہِ راست اس معاشرے کے مستقبل کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ خوارج جس نام نہاد نظریے کا پرچار کرتے ہیں اس کا اسلام کی حقیقی روح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دینِ اسلام تو وہ آفاقی مذہب ہے جس کی پہلی وحی ہی ”اقرا¿“ (پڑھ) سے شروع ہوئی اور جس نے صنف کی تفریق کے بغیر ہر مسلمان مرد اور عورت پر علم کا حصول فرض قرار دیا۔ جب خوارج ان سکولوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو وہ دراصل اس الٰہی حکم کی کھلی نافرمانی اور توہین کر رہے ہوتے ہیں۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عناصر لڑکیوں کی تعلیم سے اس قدر خائف کیوں ہیں؟ جواب انتہائی سادہ اور منطقی ہے۔ ایک پڑھی لکھی
عورت ایک باشعور نسل کی ضامن ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں شعور، علم اور روشنی پھیلتی ہے تو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نظریات اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ خوارج جانتے ہیں کہ ان کا تاریک اور وحشیانہ فلسفہ صرف اور صرف جہالت کی کوکھ سے جنم لے سکتا ہے۔ اس لیے وہ سکولوں کو مسمار کر کے معاشرے کو خوف کے اس حصار میں قید رکھنا چاہتے ہیں جہاں کوئی ان کے گمراہ کن بیانیے پر سوال اٹھانے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔
دوسری جانب وانا کے علاقے کلوتی میں ہونے والا حالیہ ڈرون حملہ خوارج کی جنگی حکمت عملی میں ایک نئی اور تشویشناک تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنانا، جس کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت پانچ شہری زخمی ہوئے، ان کی عسکری سفاکیت کی انتہا ہے۔ یہ حملہ ان کے اس دعوے کے پرخچے اڑا دیتا ہے کہ وہ کسی ”مقدس مشن“ پر ہیں۔ بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر چھپ کر وار کرنا کسی بھی تہذیب، مذہب یا جنگی اخلاقیات میں جائز نہیں ہے۔ خوارج کا یہ اندھا دھند تشدد ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
اگر اس ڈرون دہشت گردی کا گہرائی سے تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اس کے پیچھے کارفرما بیرونی سازش کے تانے بانے بھی صاف نظر آتے ہیں۔ معتبر سکیورٹی ذرائع اور شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خوارج کو یہ جدید کواڈ کاپٹرز اور تکنیکی مدد افغان سرزمین کے راستے پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ جب بھی پاکستان داخلی طور پر استحکام اور معاشی بحالی کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو سرحد پار بیٹھے پاکستان دشمن عناصر اپنے ان مقامی کارندوں (خوارج) کو متحرک کر دیتے ہیں۔ ان بیرونی قوتوں کا واحد مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، سکیورٹی اداروں کے لیے آپریشنل مشکلات پیدا کرنا اور عوام کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔ خوارج یہاں صرف ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جن کا ضمیر اور بندوقیں غیر ملکی آقا¶ں کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔ خوارج کی مکاری صرف ان کے حملوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کا سب سے خطرناک ہتھیار ”ڈس انفارمیشن“ یعنی پروپیگنڈا اور جھوٹا بیانیہ ہے۔ معصوم شہریوں پر حملے کرنے، سکولوں کو تباہ کرنے اور خونریزی پھیلانے کے فوراً بعد یہ عناصر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس کا ملبہ ریاست اور سکیورٹی فورسز پر ڈالنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا کردار اور ان کا عزم قابلِ تحسین ہے۔ دہشت گردوں کی تمام تر بیرونی پشت پناہی اور جدید ہتھیاروں کے باوجود ہمارے جوانوں نے ان کے نیٹ ورکس کو اکھاڑ پھینکا ہے اور ان کے مذموم عزائم کو مٹی میں ملایا ہے۔ لیکن یہ جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی بقا اور نظریے کی جنگ ہے۔ خوارج کے اس تعلیمی اور سماجی انتشار کا جواب دینے کے لیے ہمیں ایک کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ سب سے پہلے ریاست کو کریکوٹ میں تباہ ہونے والے سکول کی فوری اور پہلے سے زیادہ مضبوط تعمیرِ نو کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کو یہ پیغام جائے کہ بندوق کی گولی قلم کی روشنی کو نہیں بجھا سکتی۔ وزیرستان کے چپے چپے پر سکولوں کا جال بچھانا ہی ان خوارج کی نظریاتی شکست ہو گی۔ ثانیاً علمائے کرام، میڈیا اور دانشوروں کو آگے بڑھ کر خوارج کے اس گمراہ کن بیانیے کو اسلامی احکامات کی روشنی میں مکمل طور پر مسترد کرنا ہو گا تاکہ کوئی بھی نوجوان ان کے جھوٹے پراپیگنڈے کا شکار نہ ہو سکے۔
المختصر! لوئر سا¶تھ وزیرستان کے حالیہ واقعات نے خوارج کا اصل چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ لوگ نہ تو اسلام کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی قبائلی عوام کے مددگار بلکہ یہ صرف اور صرف خوف کے سوداگر ہیں جن کا انجام رسوائی اور شکست ہے۔ پاکستان کی غیور عوام، باشعور نسلیں اور ہماری بہادر افواج متحد ہو کر ان خوارج کو ان کے انجام تک پہنچائیں گی اور اس مٹی سے جہالت و دہشتگردی کے اندھیروں کا خاتمہ کر کے علم اور امن کا پرچم ہمیشہ بلند رکھیں گی۔