سیاست میں بعض جملے محض جملے نہیں پوری سیاسی سوچ کا پوسٹ مارٹم کردیتے ہیں۔ پشاور کے جلسے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ ”آپ کے لیڈر کو آپ کی ضرورت ہے۔“ بھی ایسا ہی جملہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نیازی کو نوجوانوں کی ضرورت ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے نوجوانوں کو اپنے لیڈر کی ضرورت نہیں؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ نوجوانوں سے ایک بار پھر کہا جا رہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچو۔ مطالبات عمران نیازی کی رہائی اور عدالتوں سے انصاف لینے کے علاوہ ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا ہے لیکن نوجوانوں کو یہ کون بتائے گا کہ اگر عمران خان رہا نہ ہوئے تو 28 ستمبر کو کیا ہوگا؟ اگلی تاریخ کون سی ہوگی اور اگلا دھرنا کہاں ہوگا؟اس کے بعد اگلی کال کس کے لیے ہوگی؟سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو 27 ستمبر یاد رکھنا۔ بہت خوب! مگر سوال یہ ہے کہ انصاف کون دے گا؟ عدالت یا جلسہ؟اگر عدالت نے فیصلہ دینا ہے تو عدالت کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اگر فیصلہ پسند نہیں آتا تو اپیل کی جائے، نظرثانی کی جائے، آئینی راستہ اختیارکیاجائے۔عدالت کے فیصلے کو سیاسی طور پر چیلنج کرنا ایک بات ہے لیکن ہزاروں نوجوانوں کو سڑک پر لاکر یہ تاثر دینا کہ عدالت کے بجائے ہجوم فیصلہ کرے گا جمہوریت نہیں ہجوم کی حکمرانی کی طرف قدم ہے۔عمران نیازی کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام ہیں یا قانونی کارروائی اس کا فیصلہ جلسے کا مائیک نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کو پورا حق ہے کہ وہ مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دے حکومت کو پورا حق ہے کہ وہ اس مو¿قف کی تردید کرے مگر صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ الزام کو الزام اور عدالتی فیصلے کو عدالتی فیصلہ کہا جائے۔اگر عمران خان بے گناہ ہیں تو انہیں عدالتوں سے بری کرانے کی جنگ کیوں نہیں جیتی جا رہی؟اور اگر عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے تو نوجوانوں کو بار بار سڑک پر کیوں بلایا جا رہا ہے؟پاکستان میں سیاسی جماعتیں پہلے بھی جیلیں اور پھانسیاں دیکھ چکی ہیں۔ چار مارشل لاءاور جلاوطنیاں بھگت چکی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے انتہائی احتجاجی اقدامات کیے، حتیٰ کہ بعض نے خودسوزی تک کی مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں آخرکار سڑک سے مذاکرات کی میز اور احتجاج سے سیاسی عمل کی طرف واپس آتی ہیں کیونکہ ریاست کو جلایا نہیں چلایا جاتا ہے یہی سبق 9 مئی نے بھی دیا تھا لیکن ” مردِ ناداں پرکلامِ نرم و نازک بے اثر“۔
عمران نیازی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں جو کچھ ہوا، اسے محض ”احتجاج“ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فوجی اور سرکاری تنصیبات پر حملے ہوئے، املاک کو نقصان پہنچا اور ریاست کو ایک سنگین داخلی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد گرفتاریاں ہوئیں، مقدمات قائم ہوئے اور بعض ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اگر کسی نے واقعی ریاستی تنصیب پر حملہ کیا ہے تو سیاسی وابستگی اسے قانون سے بالاتر نہیں کر سکتی۔ جو جماعت اقتدار چاہتی ہے اسے اپنے کارکنوں کے رویے کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہو گی اور جو جماعت ریاست کو چیلنج کرتی ہے اسے یہ بھی بتانا ہو گا کہ اقتدار میں آ کر وہ ریاست کیسے چلائے گی؟ سہیل آفریدی صاحب سے ایک سیدھا سوال تو بنتا ہے:آپ نوجوانوں کو اسلام آباد بلانے سے پہلے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو بتائیں کہ آپ نے ان کے لیے کیا کیا ہے؟
یہ صوبہ گزشتہ تیرہ برس کے قریب تحریک انصاف کی سیاست کا سب سے بڑا قلعہ رہا ہے۔ حکومتیں تبدیل ہوئیں، وزرائے اعلیٰ تبدیل ہوئے مگر سیاسی اختیار کا بڑا حصہ اسی جماعت کے پاس رہا تو پھر نوجوان پوچھیں گے: روزگار کہاں ہے؟ صنعت کہاں ہے؟ سرمایہ کاری کہاں ہے؟ تعلیمی انقلاب کہاں ہے؟ صحت کی وہ مثالی سہولتیں کہاں ہیں؟ امن و امان کا وہ وعدہ کہاں ہے؟ اور سب سے اہم سوال: ہمیں اسلام آباد کے مارچ میں کیوں جانا چاہیے، جب ہمارے اپنے صوبے کے مسائل ابھی تک ہمارے دروازے پر کھڑے ہیں؟ نوجوانوں کو ایسا لیڈر نہیں چاہیے جو ان سے کہے کہ میرے لیے جیل جا¶، میرے لیے مقدمہ بھگتو، میرے لیے سڑک پر آ¶، میرے لیے پولیس سے ٹکرا¶، میرے لیے ریاست سے لڑو۔ یہ قیادت نہیں شخصیت پرستی ہے۔ قیادت یہ ہے کہ نوجوان سے کہا جائے: اپنی تعلیم کے لیے لڑو۔ اپنے روزگار کے لیے لڑو۔ اپنے صوبے کی ترقی کے لیے لڑو۔ اپنے ووٹ کی عزت کے لیے لڑو۔ کرپشن کے خلاف لڑو۔ دہشت گردی کے خلاف لڑو اور اگر احتجاج کرو تو آئین اور قانون کے اندر رہ کر کرو کیونکہ غیر منظم ہجوم انقلاب نہیں لاتا البتہ ہجوم شور ضرور پیدا کرتا ہے۔ انقلاب منظم سیاسی قوت، واضح نظریے، تربیت یافتہ کارکن، مضبوط اداروں اور قابلِ عمل پروگرام سے آتا ہے۔
یہاں عمران خان کے خاندان اور قریبی سیاسی حلقوں سے متعلق سامنے آنے والے مختلف بیانات اور الزامات بھی سیاسی بحث کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ شیر افضل مروت کی جانب سے علیمہ خان سے متعلق بعض سنگین الزامات بھی سامنے آچکے ہیں۔ مگر یہاں بھی اصول ایک ہی ہونا چاہیے: الزام ثبوت نہیں۔ اگر الزام ہے تو تحقیقات ہوں، اگر جرم ہے تو مقدمہ ہو، اگر جرم ثابت ہے تو سزا ہو، اور اگر الزام جھوٹا ہے تو الزام لگانے والے سے جواب لیا جائے لیکن شاید ریاست نے بھی بہت سے لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے جس کا وہ جائز ناجائز ہر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آج ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے، معیشت دبا¶ میں، سرحدیں حساس، داخلی سیاست تقسیم کا شکار ۔ ایسے میں اگر سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو بار بار سڑک پر لا کر ریاست کے ساتھ ٹکرا¶ کی طرف لے جائیں گی تو فائدہ کس کو ہو گا؟ پاکستان کے دشمنوں کو۔ سہیل آفریدی کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ جلسے کے سٹیج سے بلند ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ صرف ایک جماعت کا نمائندہ نہیں ہوتا؛ وہ پورے صوبے کا آئینی ذمہ دار ہوتا ہے۔ہمیں ایسا لیڈر چاہیے جو نوجوانوں کو اپنے لیے لڑائے یا ایسا پاکستان جہاں نوجوان کو کسی لیڈر کے لیے لڑنے کی ضرورت ہی نہ پڑے؟ میری نظر میں جواب بالکل واضح ہے۔ پاکستان ہر شخص سے بڑا اور معتبر ہے۔ وہ خواہ عمران نیازی ہو یا نوازشریف، آصف علی زرداری ہو یا مولانا فضل الرحمان، کوئی جرنیل، کوئی جج، کوئی وزیراعظم، کوئی وزیراعلیٰ اور کوئی سیاسی جماعت ہرگز ہرگز پاکستان سے اہم یا معتبر نہیں ہے۔ جس دن پاکستانی سیاست نے یہ بنیادی حقیقت تسلیم کر لی اسی دن 27 ستمبر جیسی تاریخیں سیاسی تصادم کی نہیں، سیاسی شعور کی تاریخیں بننا شروع ہو جائیں گی اور وہ دن دور بھی نہیں۔