آسام : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے آسام میں حالیہ بیانات نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مزید داغدار کر دیا ہے۔
بی جے پی کی مہم کا مرکز ترقی کے بجائے "مسلم دشمنی" بن چکا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو "درانداز" قرار دیتے ہوئے ان کی نشاندہی اور بے دخلی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ ماہرین کے مطابق، آسام میں مسلم آبادی کے تناسب کو خطرہ قرار دے کر ہندو اکثریت کو خوفزدہ کرنا بی جے پی کے مذموم انتخابی عزائم کا حصہ ہے۔
آر ایس ایس کے زیرِ اثر پھیلائی جانے والی اس سوچ کے نتیجے میں بھارت میں بسنے والی سب سے بڑی اقلیت شدید خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔