گلگت:گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے انتخابی میدان میں پنجاب کے ترقیاتی ماڈل کو بیانیے کے طور پر پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
گلگت میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپوزیشن جماعتوں پر وار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ملک کے بڑے شہروں کو کھنڈر بنانے والے عوام کے مسائل کبھی حل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ووٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "کراچی اور لاہور کا موازنہ آپ کے سامنے ہے۔ اب یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے کہ اس خطے کو کراچی کی طرح کھنڈرات کی طرف دھکیلنا ہے یا لاہور کی طرح ترقی یافتہ بنانا ہے۔ کھوکھلے نعروں کے بہکاوے میں نہ آئیں کیونکہ ریاستی اداروں پر حملے کرنے والے ڈیلیور نہیں کر سکتے۔"
سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے بھی سندھ حکومت کو نشانے پر رکھتے ہوئے نام لیے بغیر کہا کہ گلگت کے غیور عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت سے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ گلگت کو کراچی کی طرز پر دیکھنا چاہتے ہیں یا لاہور کی طرح مائلِ ترقی کرنا چاہتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے جلسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نقل اتار کر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے پی پی پی قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، "ابھی تو میاں نواز شریف صرف گلگت آئے ہیں، جب وہ کراچی جائیں گے تو مخالفین کو اپنی سیاسی حیثیت کا اندازہ ہو جائے گا۔" اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی آئی پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کو نالائق اور کرپٹ وزیروں کے حوالے کر کے صوبے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے۔