غزہ: اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں جاری بمباری اور حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، خواتین اور بچوں سمیت 120 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہیں۔ جنوبی غزہ کے خان یونس اور بیت حانون پر ہونے والے حملوں میں مزید فلسطینیوں کی شہادت ہوئی ہے۔
اسرائیل نے جنوبی غزہ کے ہزاروں فلسطینیوں کو جبری طور پر اپنے گھروں سے نکالنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کی ایجنسی "انروا" نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج روزانہ 100 فلسطینی بچوں کو شہید کر رہی ہے، جو ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔
اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے گھروں، کھیتوں اور گاڑیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے ان کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، اب تک 50,669 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 1 لاکھ 15 ہزار 225 زخمی ہیں۔ حماس نے اس جارحیت کو یرغمالیوں کی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔