Wed, September 16, 2026

تجھ سے ناراض نہیں زِندگی حیران ہوں میں

تجھ سے ناراض نہیں زِندگی حیران ہوں میں

اِس مضمون کا عنوان گلزار صاحب کی ایک مشہور فلم ’’معصوم‘‘ کے ایک گانے سے مستعار لیا گیا ہے۔ میں جب اَپنے چاروںطرف موجود نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے مایوسی سی ہونے لگتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اِن کے پاس اچھی تعلیم ہے اَور نہ ہی کسی قسم کی تربیت۔ یہ لوگ ہر شعبے میں کمزور ہیں۔ اِس کا مظاہرہ اْن اِمتحانات کے نتائج سے ہوجاتا ہے جن میں یہ بیٹھتے ہیں۔ مقابلے کے اِمتحان کا نتیجہ دو سے تین فیصد تک نکلتا ہے۔ گویا ستانوے فیصد لوگ اْس اِمتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔ میٹرک، اِنٹرمیڈیٹ، بی اے وغیرہ کے اِمتحانوں میں نوجوانوں کی کارکردگی بے حد مایوس کن ہے۔زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ جو پاس ہوجاتے ہیں اْن کو بھی کچھ نہیں آتا۔ اِن نوجوانوں کی دو سے تین فیصد آبادی ہی اَیسی ہے جسے واقعی کچھ علم حاصل ہے۔
جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ پاکستان کی 64% آبادی تیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو کہ ساری دْنیا میں سب سے بڑا نمبر ہے تو سب کی طرح مجھے بھی ایک اْمید سے بندھتی ہے کہ ہمارے ملک کا مستقبل اچھا ہے۔ لیکن جب میرا واسطہ اِن سے پڑتا ہے تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اِن کی توجہ اَور رْخ ترقی کی جانب نہیں ہے۔ یہ لوگ کہیں اَور دیکھ رہے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اْن پر مشتمل ہے جو اِس ملک کو خیرباد کہہ کر کہیں نکل جانا چاہتے ہیں کہ وہاں زِندگی آرام سے گزرے گی۔ ایک اَور بڑی تعداد جلد سے جلد امیر بننا چاہتی ہے۔ بہت سے وہ ہیں جو کچھ بھی نہیں چاہتے۔ اْنھوں نے کچھ نہیں سوچا کہ اْنھیں زِندگی کیوں ملی ہے اَور وہ اِس دْنیامیں کیا کرنے کیلیے آئے ہیں۔ وہ بس وقت گزار رہے ہیں۔ اِسی دوران وہ جرائم میں بھی ملوث ہوجاتے ہیں۔اِنھی میں وہ نوجوان بھی ہیں جو آہستہ آہستہ مذہبی شدت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔اِن کی دْنیا میں توکوئی خاص دلچسپی نہیں ہے، وہ مرنے مارنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اِنھیں بتایا گیا ہے کہ جنت میں جانے کا آسان ترین راستہ یہ ہے کہ تم فلاں فلاں کی جان لے لو۔ چنانچہ میں آج کل دیکھ رہا ہوں کہ مسجدوں میں لبیک لبیک کے نعرے لگنے کے ساتھ قتل کردینے کے نعرے بھی بلند ہورہے ہیں۔ وہ حدیث جس کو کوئی مستند محدث ، مثلاً اِمام بخاری، اِمام مسلم، اِمام ترمذی وغیرہ صحیح نہیں مانتے، اْس کو بنیاد بناکر نوجوانوں کو مشتعل کیا جاتا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ نوجوانوں کی اِس حالت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کی خرابی کی ذِمہ دار وہ خود ہے؟ میرا خیال ہے کہ اَیسا نہیں ہے۔ ہم نے اِس مشین میں جس طرح کا سامان ڈالا ہے، اْسی طرح کا مال بن کر باہر نکل رہا ہے۔ ہم نے آج سے تیس سال پہلے کچھ نہیں سوچا تھا کہ ملک کو کدھر لے کر جانا ہے۔ ہم آج بھی یہ نہیں سوچتے۔ چنانچہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرکے ہم اَپنے اَپنے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کے پاس تعلیم ہے اَور نہ ہی تربیت۔ ہمارے تعلیمی نظام کا جو حال ہے وہ میں اِس سے پہلے ایک مضمون میں بتاچکا ہوں۔ گھر کے اَندر کی تربیت بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ امیر والدین بچوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرکے اْنھیں ناکارہ کررہے ہیں۔ اْنھوں نے بچوں کو بتایا ہے کہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ یہاں سے نکل بھاگنے کا منصوبہ بنائو۔ چنانچہ یہ نوجوان صرف مغرب کی طرف دیکھتے ہیں۔ اِن کی زبان، اِن کی دلچسپیاں صرف اَور صرف مغرب سے بندھی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اِس ملک میں اِنھوں نے زیادہ عرصہ نہیں رہنا۔ چنانچہ وہ یہاں مہنگے تعلیمی اِداروں میں سے گزر کر جب ایک خاص عمر کو پہنچتے ہیں تو باہر جانے کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ اِن میں اکثر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ یوں اچھی تعلیم یافتہ طبقہ تو باہر نکل جاتا ہے۔
غریب کا بچہ تعلیم ہی حاصل نہیں کرپارہا۔ چنانچہ ہمارے ملک میں دو کروڑ سے زائد بچے آج بھی سکولوں سے باہر ہیں۔ اِن بچوں نے کل کو بڑا بھی ہونا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے کبھی سکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔ آپ اَندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ کس قسم کا خام مال ہوگا۔ یہ نوجوان کسی سرکاری دفتر میں نوکری کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ یہ فوج میں بھی بھرتی نہیں ہوسکیں گے۔ پھر  یہ کیا کریں گے؟ یہ آوارگی میں گم ہوجائیں گے۔ دْکانوں پر چھوٹے موٹے کاموں کی نوکری کریں گے۔ پھر اِن کی شادیاں بھی ہوجائیں گی۔ اِن کے بچے بھی تقریباً اَیسے ہی ہوں گے کیونکہ اْنھیں اچھی تعلیم دِلوانے کی رقم اِن کے والدین کے پاس نہیں ہوگی۔
درمیانہ طبقہ وہ ہے جو لشتم پشتم بچوں کو سکول بھیج دیتا ہے۔ اِن میں بھی زیادہ تعداد اْن لوگوں کی ہے جو اْن سکولوں میں پڑھتے ہیں جہاں یہ کچھ سیکھ نہیں پاتے۔ اِنھی میں ایک بڑی تعداد اْن لوگوں کی ہے جو اَپنے بچوں کو مذہبی مدرسوں میں داخل کرادیتے ہیں۔ اْن کا خیال ہے کہ اگر بچہ حافظ قرآن بن گیا تو وہ روزِ قیامت اْن کا ہاتھ پکڑ کر اْنھیں جنت میں لے جائے گا۔ چنانچہ یہ جنت کا ایک شارٹ کٹ ہوگیا۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگربچہ مفتی یا عالم دِین بن گیا تو سارے خاندان کو ہی پار لگا دے گا۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے عالم دِین اِس ملک میں نہایت پر آسائش زِندگی بسر کررہے ہیں۔ بدنصیبی سے جو بچے اِس راستے پر چلتے ہیں وہ معاشرے کے لیے کسی کام کے نہیں رہتے۔ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کرپاتے۔ اْن کا کام صرف فتوے جاری کرنا، جذباتی وعظ دینا،نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر اْن سے اَپنے مطلب کے کام لینا رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے  ہے کہ پاکستان دْنیا کا واحد اِسلامی ملک ہے جہاں ذرا ذرا سی بات پر قتل ہوجاتے ہیں، لوگ جنت کے حصول کے لیے قتل کرنا دْرست سمجھتے ہیں، پاگل پنے میں لوگوں کی لاشوں کو آگ بھی لگا دیتے ہیں۔ گویا ہر طرف ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔
ہمارے سربراہان، مقتدر حلقے، بڑے بڑے عالم دِین، اِنٹلکچول افراد وغیرہ میں سے کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ اْنھوں نے اِتنی بڑی آبادی کے لیے کیا منصوبہ بندی کرنا ہے۔ یہ کیسے ممکن بنانا ہے اِس سیلابِ بلاخیز کو مختلف نہروں میں تقسیم کردِیا جائے اَور اْس سے ملک کو سیراب کیا جائے۔ بہ صورتِ دِیگر یہ سیلاب ملک کو لے ڈوبے گا۔ ہم اِن نوجوانوں کو موردِ اِلزام ٹھہرانے میں ہرگز حق بجانب نہیں ہیں۔ ہم نے اْنھیں وہ میدان ہی نہیں دِیا جس میں کھیل کر یہ اچھے کھلاڑی بن سکتے۔ ہم نے اِنھیں ریوڑوں کی طرح چرا گاہ میں چھوڑ دِیا ہے۔ اِس ریوڑکا کوئی گلہ بان نہیں ہے۔ چنانچہ اِنھوں نے چراگاہ کو تباہ ہی کرنا ہے۔ اِتنا ذہن، اِتنی جسمانی قوت، اِتنی توانائی اگر کسی مثبت کام میں اِستعمال نہیں ہوگی تو منفی طاقتیں خود بخود اِن کو قابو میں کرلیں گی۔ لہٰذا یہی ہورہا ہے۔ ہمارے نوجوان مذہبی جنونی، جاہل، جرائم پیشہ، نشے کے عادی، ہوس کے مارے ہوئے بنتے جارہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کوئی کچھ نہیں کررہا، کچھ نہیں کہہ رہا۔ میں زِندگی کے اْن معصوم سوالوں سے بھی پریشان ہوں جو وہ مجھ سے کرتی ہے کہ پاکستان کو کس طرح ایک ترقی یافتہ، مہذب، تعلیم یافتہ ملک بنایا جائے۔ کیا ہم اِسی طرح ہمیشہ ذلیل ہی ہوتے رہیں گے؟ کیا دْنیا کے ممالک میں کبھی ہماری عزت نہیں ہوسکے گی؟ کیا اَیسا کبھی نہیں ہوگا کہ یہاں لوگ اَمن کے ساتھ رہ سکیں جہاں اْن کی جان، مال اَور آبرو محفوظ ہو؟میں زِندگی سے ناراض تو نہیں ہوں لیکن اِن سوالوں کے چہروں کے سامنے حیران ضرور ہوں۔

ٹیگز: