برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور بلاشبہ اعلیٰ پایہ کی ذہنی ، دماغی اور تخلیقی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ ایک صاحبِ اسلوب نثر نگار ہونے کے ساتھ خوبصورت شاعر بھی تھے۔ اُن کی کالم نگاری کا تو ایک زمانہ معترف ہے۔ اس کے ساتھ اُن میں جو خود اعتمادی اور معاملات و مسائل کو جانچنے ، پرکھنے اور دلائل و براہین کے روشنی میں ان کا جائزہ لینے کی جو صلاحیت پائی جاتی تھی اور زبان و بیان پر انہیں جو عبور حاصل تھا ان سب کو سامنے رکھ کر اُن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے ، ایسا کہاں سے لائیں ، تجھ سا کہیں جسے ۔
عرفان صاحب مرحوم پرائمری سکول کے معلم تھے تو اُن کی پانچویں جماعت سب سے زیادہ وظائف لیتی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا تو فرسٹ ڈویژن ۔ایم اے اُردو کیا تو امتیازی نمبروں کے ساتھ اور سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا تو پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ملک کی معروف درسگاہ ایف جی سرسید کالج راولپنڈی میں بطورِ لیکچرار تقرر ہوا تو کالج کے انتہائی مقبول ، ہر دلعزیز اور کامیاب ترین اساتذہ میں ہی اُن کا شمار نہ ہونے لگا بلکہ کالج کی علمی، ادبی، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے روح ِ رواں بنے رہے اور پھر 1989 ء میں جب اُن کی ملازمت کے کم و بیش 13 سال باقی تھے اور اُن کے لئے مزید ترقی کے مواقع موجود تھے تو انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور لکھنے لکھانے اور شعبہ صحافت کو مستقل اختیار کر لیا۔ ’’نقش خیال‘‘ کے ٹائٹل یا سرنامے کے ساتھ کالم نگاری شروع کی تو جلد ہی اُن کا شمار ملک کے چوٹی بلکہ سب سے بلند مرتبے پر فائز صاحبِ اسلوب کالم نگاروں میں ہونے لگا۔ اتنی اعلیٰ پائے کی نثر، ندرت ِ خیال، خوبصورت تشبیہات، استعارت اور نئی سے نئی تراکیب کا استعمال، مضبوط علمی ، ادبی اور نظریاتی پس منظر ، ہر طرح کے اگر مگر اور چوں چناں سے ماورا واضح مؤقف کا اظہار ۔یہ سب اور ان کے ساتھ اور کئی خوبیاں اُن کے کالموں کو منفرد اور ممتاز بناتی تھیں۔
مجھے یاد ہے 2001 ء میں نائن الیون سے قبل انہوں نے نوائے وقت میں کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا تو افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف بڑے معرکے کے کالم لکھے۔ ہفتے میں چھ روز اُن کے کالم چھپتے تھے جن کا پڑھنے والوں کو شدت سے انتظار ہوتا تھا۔ جولائی 2002 ء میں لاہور پرل کانٹیننٹل
میں’’نقشِ خیال ‘‘ کے عنوان سے اُن کے کالموں کے پہلے مجموعے کی تقریبِ رونمائی تھی تو میں بھی اُن کے چھوٹے بھائی عزیزی انعام الحق صدیقی مرحوم کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر محترم مجید نظامی مرحوم جو کم ہی کسی کی تعریف کرتے تھے انہوں نے عرفان صاحب کے کالموں کی تعریف کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے ،’’ایں چیزے دیگر است ‘‘ یعنی یہ سب سے ممتاز اور منفرد کالم ہیں۔ عرفان صاحب کا کالموں کا یہ مجموعہ میرے پاس موجود ہے ۔ اس کے ٹائٹل کے اندرونی صفحہ پر عرفان صاحب نے خوبصورت عربی رسم الخط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے تو نیچے دو سطروں میں’’ برادرِ عزیز و محترم جناب ساجد ملک (راقم)کی دیرینہ رفاقت کی نذر‘‘ کے الفاظ لکھنے کے بعد اُردو میں اپنے مخصوص دستخط کر رکھے ہیں اور اُردو ہندسوں میں ہی ۲۸ء جون ۲۰۰۲ء کی تاریخ بھی لکھ رکھی ہے۔
محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور بلا شبہ ایک ہمہ جہت اور نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ میں اُن کے بارے میں لکھنا چاہوں تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ صحت ، زندگی اور فراغت حاصل رہی تو انشاء اللہ ایسا ضرور ہو گا اور اگر پوری کتاب نہ بھی لکھی جاسکی تو ’’سلسلہ روز وشب‘‘ کے عنوان سے میری ایک طرح کی آپ بیتی اور منتخب کالموں کا جو مجموعہ زیرِ ترتیب ہے اُس میں عرفان صاحب مرحوم اور بعض دیگر احباب کے بارے میں ایک گوشہ بہر کیف مخصوص ہے۔ عرفان صاحب کا ذکر کریں تو اُن کے گھرانے اور اُن کے خانوادے کی طرف ضرور دھیان جاتا ہے۔ اُن کا تعلق متوسط طبقے بلکہ اس سے بھی نچلے درجے کے ایک نیک ، سادہ اور پُر خلوص علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ وہ زندگی میں اس بلند مقام پر پہنچے تو اس میں ربِ کریم کی خصوصی عنایت اور اُن کی اپنی اہلیت، قابلیت ، ذہانت، محنت ، لگن، کمٹمنٹ، خلوص اور سچائی کا جہاں عمل دخل تھا وہاں اُن کے سادہ ، مخلص ، سچے اور عبادت گزار والدین کی دعائوں کا بھی بڑا اثر تھا۔ اُن کے والدِ گرامی محترم قاضی عبدالحق عبدی مرحوم و مغفور عالمِ دین ہوتے ہوئے اپنے گائوں کی مسجد کے امام اور خطیب تھے۔ وہ شاعر اور اعلیٰ پائے کے خوش نویس بھی تھے جنہوں نے خطاطی کا فن برصغیر کے مشہور خطاط اور خوش نویس عبدالمجید پروین رقم سے سیکھ رکھا تھا۔ اُن میں زبردست حسِ مزاح پائی جاتی تھی۔ مجھ سے اپنے بچوں کی طرح شفقت اور پیار کرتے تھے۔ عرفان صاحب کی والدہ ماجدہ مرحومہ و مغفورہ بھی بڑی باوقار ، حوصلہ مند، مدبر ، پیار اور شفقت کرنے والی نیک اور پرہیز گار خاتون تھیں۔ عرفان صاحب کی انتہائی قابلِ قدر تصنیف ’’جو بچھڑ گئے ‘‘ میں اُن کے بارے میں تین مضمون یا کالم ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عرفان صاحب کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں چار وںبچے ماشاء اللہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، شادی شدہ اور اپنے بال بچوں والے ہیں۔ سچی بات ہے یہ مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں۔
عرفان صاحب کے دونوں بیٹے عمران خاور صدیقی اور ڈاکٹر نعمان راشد صدیقی (پی ایچ ڈی) سرسید سکول میں میرے شاگرد رہے ہیں۔ یہ انتہائی قابل ، ذہین ، سلجھے ہوئے اور شائستہ اطوار کے مالک بفضلِ تعالیٰ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ عمران کم و بیش د و اڑھائی عشرے متحدہ عرب امارات میں بینکنگ کے شعبے میں ملازمت کرنے کے بعد اس جولائی میں مستقل طور پر واپس پاکستان آ گئے ہیں اور پنجاب حکومت میں پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے متعین ہیں۔ عزیزی نعمان راشد جو اب بھی سکول کے دور کی طرح کے معصوم اور بھولے بھالے لگتے ہیں، پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اسلام آباد میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
عرفان صاحب مرحو م و مغفور کے بارے میں سپاس تشکر کے طور پر میں کہنا چاہوں گا کہ وہ میری بے پناہ قدر ہی نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں مجھ پر بے پناہ اعتماد اور بھروسہ بھی تھا۔ زندگی کے بہت سارے معاملات ، بہت سارے پہلو خواہ اُن کا اُن کی ذاتی زندگی سے تعلق تھا یا قومی معاملات اور اُن کی اہم ترین ذمہ داریوں سے تھا کے حوالے سے میرے ساتھ اُن کی گفتگو ہوتی رہتی تھی۔پچھلے تقریباً دو عشروں سے اُن کے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہونے اور میرے راولپنڈی میں اپنے پُرانے گھر میںہی قیام پذیر ہونے کی بنا پر اور پھر اُن کی صحافتی، قومی، سیاسی اور جماعتی ذمہ داریوں میں اضافے اور بے پناہ مصروفیت کی بنا پر ہماری ملاقاتوں میں پہلے کا سا تسلسل نہیں رہا تھا لیکن پھر بھی مہینے ڈیڑھ مہینے بعد جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی توباتوں کا آغاز وہیں سے ہوتا جہاں سے پچھلی ملاقات میں ٹوٹا ہوتا۔ اس دوران کیا کیا مزے کی باتیں ہوتیں اور گفتگو کے دوران بعض اوقات کچھ ایسے اشارے بھی مل جاتے کہ جن سے بہت سارے قومی معاملات کے بارے میں میرے علم میں ہی اضافہ نہ ہوتا بلکہ وہ میرے لئے ایک طرح کے راز بھی بن جاتے کے جن کا سنبھالنا میرے لئے ضروری ہوتا۔ اس بارے میں بھی میں نے اپنے مضمون میں کچھ بیان کیا ہے جس کا تذکرہ انشاء اللہ آئندہ کالم میں ہو گا۔ (جاری ہے)