ہماری تاریخ میں اردو ہندی تنازع کی کیا اہمیت ہے یہ تو مورخین پر چھوڑیے لیکن ہمارے ملک کے اردو انگریزی تنازع کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ گوروں نے نو آبادیاتی معاشرے کو زبان اور رنگ دونوں سے متاثر کیا تھا ان دو چیزوں کے علاہ ہم کسی چیز کے حصول میں کوشاں نہیں رہے۔ ہمارے آدھے سٹور اور مال رنگ گورا کرنے کی پراڈکٹس سے بھرے ہیں اگر ان کی فہرست تیار کی جائے تو اخبار پر کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی۔
ہر طرف منہ دھونے کی چیزوں سے لے کر لگانے، چپکانے اور رگڑنے کی ان گنت خوشبو اور بدبو دار چیزوں کا انبار لگا ہوتا ہے۔ اس سب کے باوجود خدا بھلا کرے بیوٹی پارلر والیوں کا جنہوں نے کئی طرح کا مواد چپکا کر رنگ کا مسئلہ وقتی طور پر حل کر دیا تھا۔ بعد ازاں یہ ذمہ داری جدید موبائل اپلیکیشنز اور ان کے فلٹرز نے ادا کر دی۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کرس گیل سے لے کر اوبامہ تک کی تصویر کو ٹوم کروز کے برابر بنا سکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نعمت پر بھی یہ قوم احساس کمتری سے باہر نہیں نکلی۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہو کہ اگر اوبامہ ہمارے ملک میں پیدا ہوتے تو آدھی توانائی اور صلاحیتیں رنگ گورا کرنے پر صرف کرتے۔ رنگ گورا کرنے کی صورت میں انکے خاندان کے کئی خواتین و حضرات کو کسی بڑے کمیشن میں ٹریننگز لینے اور خدمات انجام دینے کا موقع ضرور مل جاتا۔
احساس کمتری کا دوسرا درجہ انگریزی زبان کا عطا کیا ہوا ہے۔ خدا جانے وہ کون سی حکمت ہے جو چائنہ، جاپان، جرمنی، ایران، فرانس سے لے کر دنیا کے جدید اور ترقی یافتہ ممالک کے پلے نہیں پڑی لیکن ہمارے ہاں دھوتی اور شرٹ کا اختلاط کرنے والوں اور جبڑے ٹیڑھے کر کے آ آ آ کر کے انگریزی بولنے والوں کے پلے پڑ گئی۔ آپ مضحکہ خیزی ملاحظہ فرمائیں کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نوٹیفکیشن جس عوام کے لیے انگریزی میں نکلتا ہے اس کی اکثریت یہ نوٹیفکیشن انگریزی میں پڑھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں میڈیا سائنسز کے طلبا کو سارا نصاب انگریزی میں پڑھایا جاتا ہے اور ملک کا سارا میڈیا اردو میں خبریں چھاپتا اور نشر کرتا ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں کے نصاب میں ایسے ایسے مضامین کو بطور لازمی مضمون شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق ہماری روز مرہ زندگی اور تحقیق و تعلیم سے اتنا ہی ہے جتنا ہمارا ٹائٹینک جہاز سے تھا۔
بزنس مینجمنٹ کا سارا نصاب انگریزی میں بنایا گیا ہے اور ملک کا سارا کاروبار اردو یا ہماری علاقائی زبانوں سے چلتا ہے۔ ہمارے جو موٹیویشنل سپیکرز جبڑے ٹیڑھے کر کے انٹرپنور بناتے پھرتے ہیں انہی بھی زمینی اور علاقائی عناصر سے اکتسابِ فیض کے سوا چارہ نہیں۔ یہ کیسا احساس کمتری ہے کہ نومولود بچوں کو اپنی مادری یا قومی زبان سکھانے کی بجائے نیم انگریز ماں باپ گلابی انگریزی سکھانا شروع کر دیتے ہیں۔
نتائج ہمارے ملک کے سارے پالیسی سازوں کو مبارک ہو اور سب سے بڑھ کر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مبارک ہو کہ سارے سوشل میڈیا پر کسی کی اردو تحریر درست نہیں ملتی۔ ہر ویڈیو میں املا کی ڈھیروں اغلاط ملتی ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات میں اردو کو زخمی کیا جاتا ہے۔ ہمارے مقررین میڈیا پر آ کر مسخروں جیسی زبان بولتے ہیں۔ در اصل تہذیب وہ جاگیر ہے جسے سب سے پہلے زبان کی سطح پر چھینا گیا تھا۔ اب لوگوں کی اخلاق باختگی اور بد تمیزی کا نوحہ سب مل کر کرتے رہیں۔ ایک اور بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ ہم انگریزی زبان سیکھنے کے ہرگز مخالف نہیں بلکہ کوئی بھی زبان سیکھنے کے مخالف نہیں ہیں۔ ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنا تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کی سیکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جنہیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ابن سینا، البیرونی، ابن رشد، البرٹ آئن سٹائن، ماریہ کیوری، کارل فریڈرک گاس، سگمنڈ فرائڈ اور کارل مارکس کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ علامہ اقبال عربی، فارسی اور انگریزی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ جون ایلیا کو فارسی، عربی، عبرانی اور سنسکرت زبان میں مہارت حاصل تھی۔
لیکن زبان کی بنیاد احساس کمتری اور صرف فیشن پر نہیں ہونی چاہیے۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کرنے جا رہے ہیں جو انگریزی نہیں جانتی، اردو رومن میں لکھتی ہے اور اردو سے دوری کے باعث دیگر زبانوں سے بالکل بے بہرہ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کا طالب علم ننانوے فیصد نمبر حاصل کرنے کے باوجود وہ حکیمانہ مزاج اور فکر نہیں رکھتا جو پہلے کبھی اس کا وصف خاص ہوا کرتی تھی۔ مزید یہ کہ حیرت انگیز طور پر انٹرمیڈیٹ میں اردو کا نصاب بھی سکڑ گیا ہے۔
اردو کو مقابلے کے امتحان کا ذریعہ بنانے میں تو بڑے لوگوں کی ناگواری یقینا شامل ہو گی لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن کم از کم اسے نصاب کا لازمی جزو ضرورت بنا سکتا ہے۔ بی ایس کی ڈگری میں سو ڈیڑھ سو کریڈٹ آورز پڑھنے والے طلبا دو کریڈٹ آورز کی اردو بھی پڑھ لیں گے تو یقینا کچھ بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ یہ صورت حال حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ نظام تعلیم میں بہتری کی سب سے پہلے تبدیلی اردو زبان کی ترویج و ترقی سے ہونی چاہیے۔ یہ اس وعدے کی تکمیل بھی ہو گی جس کے پورے ہونے کا انتظار قوم ایک عرصے سے کر رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم تاریخ کے ہر اس فیصلہ کن موڑ کو بھلا بیٹھے ہیں جس کی سب سے پہلی دلیل اردو زبان بنی تھی۔
ہمارے سوچنے کا پراسس ہماری اپنی زبان سے مضبوط ہوتا ہے۔ ہم تب ہی غربت سے جان چھڑا سکتے ہیں جب اپنی ضروریات کا جائزہ لیں، اپنے مسائل کے حل تلاش کریں، تحقیق اور تخلیق کیلئے اپنے ماحول اور وسائل کو بروئے کار لائیں۔ اس سارے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ قومی زبان کو نظر انداز کرنا ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں حکومت کو کم از کم ایسے فیصلے ضرور لینے چاہئیں کہ اردو کو شامل نصاب کریں۔