Wed, September 16, 2026

پاکستان کو برآمدات کا عالمی مرکز بنانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں: وفاقی وزیر خزانہ

پاکستان کو برآمدات کا عالمی مرکز بنانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں: وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے اور ملک کو برآمدات کا مرکز بنانا حکومت کا اہم مقصد ہے۔ یہ بات انہوں نے "دی فیوچر سمٹ" کے نویں ایڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت میں نجی شعبے کا کردار کلیدی ہے، اور پاکستان کو نجی شعبے کی قیادت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیداوار پر مبنی معاشی ترقی ہی ملک کے لیے ایک پائیدار راستہ ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کام ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کاروبار اور ترقی کے مواقع بڑھیں۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا بھر میں معاشی اصلاحات ہو رہی ہیں اور پاکستان کو بھی اس سمت میں قدم بڑھانے ہوں گے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے تیسرے سب سے بڑے فری لانسرز کا مرکز ہے، اور ملک کو برآمدات کا عالمی مرکز بنانے کی راہ ہموار کرنی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن اور بلیو اکانومی جیسے شعبوں میں بھرپور مواقع ہیں۔

وزیر خزانہ نے ٹیکس اصلاحات کی جانب بھی توجہ دلائی اور بتایا کہ 9 لاکھ نئے ٹیکس فائلرز کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کارپوریٹ منافع میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ ہب بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں آئی ٹی اور میری ٹائم سیکٹر پر خاص توجہ دی جائے گی۔

آخر میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی میں بے شمار امکانات ہیں اور غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام سمجھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میکرواکنامک استحکام کوئی حتمی مقصد نہیں، بلکہ معیشت پر عوام کا اعتماد ہی اصل سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے۔

ٹیگز: