Wed, September 16, 2026

عظمیٰ بخاری کا امتحان

عظمیٰ بخاری کا امتحان

حکومت اور عوام کے درمیان مضبوط رابطہ ہمیشہ اچھی حکمرانی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔برصغیر کی سیاسی روایت بھی یہی بتاتی ہے کہ وہی حکمران زیادہ کامیاب سمجھے گئے جنہوں نے نہ صرف کام کیا بلکہ اپنے کام کو موثر انداز میں عوام تک پہنچایا۔جدید دور میں اطلاعات کا شعبہ محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں کی وضاحت، عوامی اعتماد کی بحالی اور غلط معلومات کی بروقت تردید کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔پنجاب حکومت کے موجودہ دور میں اطلاعات کے شعبے میں جو سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے وہ گزشتہ کئی برسوں میں کم ہی نظر آئی تھی۔صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا ہے اور پریس کانفرنسوں،بریفنگز اور فوری ردعمل کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ حکومت کا موقف بروقت اور واضح انداز میں سامنے آئے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومتی پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے میں ان کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب حکومت نے مختلف شعبوں میں متعدد نمایاں اقدامات کئے ہیں جنہوں نے حکومتی کارکردگی کا ایک واضح نقشہ پیش کیا ہے۔شہری سہولیات کی بہتری کے لئے شروع کیے گئے پروگراموں کے تحت صفائی،سیوریج اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔متعدد شہروں میں نکاسی آب اور سڑکوں کی مرمت کے منصوبوں نے شہری زندگی میں عملی بہتری کی امید پیدا کی ہے۔ان منصوبوں کی براہ راست نگرانی وزیر اعلیٰ کی جانب سے کیے جانے کا تاثر بھی عوام میں مثبت انداز سے لیا گیا ہے کیونکہ اس سے حکومتی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔نوجوانوں کے لئے حالیہ اقدامات بھی حکومت کی ترجیحات کو واضح کرتے ہیں۔لیپ ٹاپ،الیکٹرک بائیکس، وظائف اور ہنرمندی کے پروگراموں جیسے منصوبے اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت نوجوان نسل کو معاشی اور تعلیمی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ پالیسی سازی صرف فوری مسائل تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی سامنے رکھا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کی منصوبہ بندی کسی بھی حکومت کے وژن کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں بھی سرگرمی نمایاں رہی ہے۔تاریخی مقامات کی بحالی اور انہیں سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دینے کی کوششیں صوبے کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔لاہور میں محدود پیمانے پر ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی نے شہری زندگی میں ایک مثبت فضا پیدا کی ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ حکومت سماجی اور ثقافتی پہلووں کو بھی نظر انداز نہیں کر رہی۔امن و امان کے حوالے سے بھی حکومتی اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اطلاعات کی جانب سے متعدد مواقع پر یہ بتایا گیا کہ جرائم پیشہ عناصر اور شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح قیمتوں پر کنٹرول کے اقدامات اور عوامی ریلیف پروگراموں کی تیاری نے بھی عوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لئے عملی کوششیں جاری ہیں۔وزیر اطلاعات کی حیثیت سے عظمیٰ بخاری کی ایک نمایاں خوبی ان کا دبنگ اور مدلل انداز ہے۔ وہ سیاسی مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے سے گریز نہیں کرتیں اور حکومتی موقف کا دفاع اعتماد کے ساتھ کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک فعال ترجمان کے طور پر سامنے آئی ہیں۔میڈیا سے ان کے دوستانہ تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اطلاعات کے شعبے کی حساسیت کو سمجھتی ہیں اور سوالات کا سامنا کرنے سے نہیں کتراتیں۔یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیںتاہم سیاسی زندگی میں صرف سرگرمی ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ احتیاط بھی ناگزیر ہوتی ہے۔بعض مواقع پر غیر ضروری تفصیلات بیان کرنے یا غیر مصدقہ معلومات سامنے لانے سے حکومت کو وضاحت دینا پڑتی ہے۔ایک ذمہ دار وزیر اطلاعات کے لئے ضروری ہے کہ ہر بیان سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے کیونکہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ایک معمولی لغزش بھی بڑا تنازع بن سکتی ہے۔حالیہ مہینوں میں چند ایسے مواقع سامنے آئے جب ان کے بعض بیانات پر اعتراضات ہوئے تاہم انہوں نے کھلے دل سے معذرت کرکے ایک مثبت مثال قائم کی۔ سیاسی ماحول میں غلطی کا اعتراف کم دیکھنے کو ملتا ہے اس لئے یہ طرز عمل قابل تحسین ہے۔بطور صحافی یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پنجاب جیسے پیچیدہ انتظامی ڈھانچے میں بیوروکریسی کا کردار انتہائی اہم ہے۔بسا اوقات سیاسی قیادت کی نیک نیتی کے باوجود انتظامی سطح پر خامیاں رہ جاتی ہیں جن کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑتا ہے۔اس لئے وزیر اطلاعات سمیت تمام وزرا کے لئے ضروری ہے کہ معلومات کی مکمل تصدیق کے بعد ہی عوام کے سامنے موقف پیش کیا جائے کیونکہ سیاسی مخالفین معمولی لغزش کو بھی بڑا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔عظمیٰ بخاری کی انتھک محنت سے انکار ممکن نہیں۔وہ مسلسل متحرک دکھائی دیتی ہیں اور حکومتی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے میں سرگرم عمل ہیں ۔پنجاب کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ کامیاب حکومت وہی ہوتی ہے جو عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ اپنے نظم و نسق کو بھی مضبوط بنائے اور اپنے پیغام کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کرے۔موجودہ حکومت کے لئے بھی یہی راستہ کامیابی کا ضامن ہو سکتا ہے۔وزیر اطلاعات کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نہ صرف حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کریں بلکہ انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کریں تاکہ اصلاح کا عمل جاری رہے۔اگر عظمیٰ بخاری اپنی موجودہ توانائی،جرأت اور محنت کے ساتھ مزید احتیاط اور بردباری کو بھی اپنا شعار بنا لیں تو وہ نہ صرف ایک کامیاب وزیر اطلاعات ثابت ہوں گی بلکہ پنجاب کی سیاسی تاریخ میں ایک موثر اور ذمہ دار ترجمان کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔یہی وہ راستہ ہے جس سے حکومت کی ساکھ مضبوط ہو گی اور عوام کا اعتماد بھی قائم رہے گا۔

ٹیگز: