Wed, September 16, 2026

امریکا پھنس جائے گا…؟؟؟

امریکا پھنس جائے گا…؟؟؟

جس طرح امریکہ نہیں چاہتا کہ مسلم ممالک ایک ہوں اسی طرح اسرائیل،برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک نہیں چاہتے کہ واشنگٹن مضبوط ہو کیونکہ امریکہ ہر قیمت پر اپنی چودھراہٹ قائم رکھنا چاہتا ہے اوراس کی ہاں میں ہاں ملانے والے چند مغربی ممالک اس کو تباہ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بولتے نہیں اسرائیل چاہتا ہے امریکہ کسی نہ کسی مسئلے میں الجھا رہے اور اس مقصد میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہے جیسے ایران سے مذاکرات چل رہے تھے لیکن اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا ٹرمپ بھی اپنی واہ واہ کیلئے نیتن یاہوکا ساتھ دیتے ہوئے ایران پر چڑھ دوڑا ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کا ڈھنڈوراپیٹتا رہا دوسری طرف ایران کی خود مختاری پر حملہ کھلی دہشت گردی اور دوروغ گوئی ہے نیتن یاہومذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتا تھا، اس سلسلے میں جنرل کین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی آسانی سے جیتی جانے والی چیز ہوگی،انتظامیہ کے دیگر حکام نے بھی قانون سازوں کے ساتھ نجی نشستوں میں اسی طرح کی گمراہ کن باتیں کیں، ان معاملات سے واقف افراد کے مطابق 24 فروری کوگینگ آف ایٹ یعنی ایوان اور سینیٹ کے قائدین اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کے سربراہا ن کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ حکومت کی تبدیلی پر غور کر رہی ہے،تین دن بعد ٹیکساس کے شہر کارپس کرسٹی میں ایک تقریب کیلئے ایئر فورس ون پر پرواز کے دوران ٹرمپ نے ایک مسلسل حملے کا حکم دیا جس کا آغاز سپریم لیڈر کی شہادت سے ہونا تھا،ٹرمپ نے کہا آپریشن ایپک فیوری کی منظوری دے دی گئی ہے، اب پیچھے نہیں ہٹنا، گڈ لک ادھرایک بیان میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک ایسے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے بہادرانہ فیصلہ" کیا ہے جس کا سامنا کرنے کے لیے کوئی بھی سابقہ صدر تیار نہیں تھاصدر کے قریبی حلقے میں بہت کم لوگوں نے فوجی کارروائی کی مخالفت کی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذاکرات ڈھرنگ تھے کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائزہے اب جبکہ جنگ شروع ہو چکی ہے تو اس کا اختتام کوئی اور کرے گا کیونکہ جس طرح امریکہ افغانستان سے دم دبا کے نکلا تھا اسی طرح ایران سے خوارہو کر بھاگے گاکیونکہ امریکا پھنس جائے گا،ایرانی بڑی منظم قوم ہے جس نے چالیس سال سے بڑے نشیب وفراز دیکھے ہیںرایران کو دبایا دھمکایا نہیں جا سکتا امریکہ ایران جنگ میں کئی بڑے بھی کودیں گے وہ ایران کی محبت میں نہیں اپنا اسلحہ ٹیسٹ کرنے کیلئے ایران کی حمایت کریں گے اب چین اور روس بھی میدان میں آ جائیں گے ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود امریکہ اور یورپی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تہران کو جھکا نہیں سکیں گی ایران کا اصرار ہے اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ کسی طور بھی اس سے دستبردارنہیں ہو گا دشمن ایران کی سالمیت پر وار پہ وارکر رہا ہے کبھی تعلیمی ادار ے نشانہ ہوتے ہیں اور کبھی مساجد ہر جگہ خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں اور غزہ کی طرح اقوام متحدہ ،اوآئی سی سمیت دیگربے جان ادارے ایران کے بارے میں بھی مذمتوں میں لگے ہیں اس کے باوجود کہ نیتن یاہوکے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہو رہی دوسری طرف مسلم ممالک کے اختلافات کے باعث طاغوت فائدہ اٹھا رہا ہے خلیجی ممالک کو ہی لے لیں ایران اپنے ملک پربمباری کے بدلے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کردئیے ہیں جس پر سعودیہ قطروغیرہ ایران کیخلاف مذمتوں میں لگے ہیں یہ بھول کر کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی سربراہان اور قوم کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ اسرائیل امریکہ بین الاقوامی قانونی کو بلڈوز کرنے کی راہ پر گامزن ہیں، حملے ایران کی خود مختاری،بین الاقوامی قانون اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں،بلاجواز حملے،رجیم تبدیلی کے لیے لیڈر کو ہلاک کرنا اور ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں،جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، امریکا اور اسرائیل کی مسلح جارحیت باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ایک آزاد ریاست کے خلاف یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،امریکی اور اسرائیلی عزائم واضح ہیں،وہ کسی ایسے آئینی نظام کوتبدیل اور اس کی قیادت کو ہٹانا چاہتے ہیں عالمی برادری بین الاقوامی قانونی نظام کے بچے کھچے وقار کو بچانا چاہتی ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا رویہ یکسر تبدیل کرے، بین الاقوامی قانون کے احترام کے بارے میں کمزور بیانات دینے کے بجائے امریکہ اسرائیل کیخلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہیں تاکہ جرائم کے مرتکب ہونے پرمحاسبہ کیا جا سکے ایران پرحملہ خطہ کو بدامنی میں دھکیلنے کی سازش ہے جسے مل بیٹھ کر ناکام کرنا ہوگا اگر جنگ چارہفتوں تک جاری رہی تو پھر امریکہ یہاں ایسے پھنسے گا جیسے مچھلی جال میں ؟؟؟۔

ٹیگز: