Wed, September 16, 2026

تیل، طاقت اور مشرقِ وسطیٰ کی بساط

تیل، طاقت اور مشرقِ وسطیٰ کی بساط

نئی نسل کے سامنے ایک ابہام امت مسلمہ کی کمزوری کا ہے۔ہم میں سے ہر ایک اس کی تشریح الگ الگ اور اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کرتا ہے۔جو مسلمانوں کی حالت سے واقف ہے وہ کشمیر ،فلسطین اور ایران کے واقعات نہیں، سسٹم دیکھتے ہیں۔ وہ جذباتی نعروں کے اسیر نہیں ہوتے بلکہ طاقت کے اصل مراکز پر انگلی رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں ایران پر اسرائیل و امریکہ کے حملوں کے متعلق تجزیوں کا ہجوم ہے ۔اس ہجوم میں کون سی بات کا سرا پکڑ کر اصل مسئلے تک پہنچا جائے ،یہ بتانا سیاسی وسماجی رہنمائوں اور کالم نگاروں کی ذمہ داری ہے۔ ایک بنیادی بات یہ ہے کہ آخر ایران اور اسرائیل کا جھگڑا کیا ہے؟ عرب ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں تو پھر واشنگٹن انہیں مکمل تحفظ کیوں نہیں دیتا؟ اس سوال کا جواب نعروں میں نہیں، تیل کی سیاست میں پوشیدہ ہے۔
دنیا کی معیشت کی شہ رگ توانائی ہے اور توانائی کی شہ رگ تیل۔ گاڑی سے جہاز تک، فیکٹری سے بجلی گھر تک،زمین سے خلا تک ، سب کا دارومدار اسی پر ہے۔ آج بھی عالمی توانائی کی کھپت کا تقریباً 30 فیصد تیل سے پورا ہوتا ہے، جبکہ عالمی تیل کے ثابت شدہ ذخائر کا قریب 48 فیصد مشرقِ وسطیٰ میں ہے۔ قدرتی گیس کے ذخائر کا لگ بھگ 40 سے 50 فیصد بھی اسی خطے میں پایا جاتا ہے۔ جس کے پاس توانائی کا کنٹرول ہو، عالمی سیاست کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں رہتی ہے۔
انیسویں صدی میں یورپی طاقتوں نے ایشیا کو جغرافیائی اور سیاسی مفادات کے تحت تین حصوں میں بانٹا۔پہلا حصہ مشرقِ قریب،پھر مشرقِ بعید اور درمیان کا علاقہ جسے بعد میں مشرقِ وسطیٰ کہا گیا۔ مشرقِ قریب میں ترکیہ جیسے ممالک، مشرقِ بعید میں چین ، جاپان،ملائشیا اور تھائی لینڈ شامل ہوئے، جبکہ بیچ کا خطہ جو تیل اور گیس سے مالا مال نکلا،اسے مڈل ایسٹ کہا گیا۔ یہی وہ خطہ ہے جس پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی رہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ نے براہِ راست نوآبادیاتی قبضے کے بجائے ایک نیا ماڈل اختیار کیا۔ اس نے مقامی اشرافیہ اور بادشاہتوں کو سہارا دیا، سیکورٹی کی ضمانت دی اور بدلے میں توانائی کے وسائل تک رسائی حاصل کی۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات،بحرین اور عمان میں امریکی عسکری اڈے اور دفاعی معاہدے اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔امریکہ اس خطے میں صدام حسین بناتا ہے تاکہ جہاں کام نہ چلے وہاں اس کے ذریعے اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر حملے کرا کے ایک نیا ڈر پیدا کیا جائے۔ امریکہ نے خطے میں درجنوں فوجی تنصیبات قائم کیں۔حالیہ دنوں ایران نے ان ہی اڈوں وتنصیبات کو نشانہ بنایا۔ صرف خلیجی ممالک میں ہزاروں امریکی فوجی مستقل تعینات رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلحے کی فروخت ایک بڑی صنعت بن گئی۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گزشتہ عشرے میں سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ خریداروں میں شامل رہا اور اس کی بڑی خریداری امریکہ سے ہوئی۔
امریکہ کویہ ماڈل دوہرا فائدہ دیتا ہے۔ ایک یہ کہ توانائی کی سپلائی پر اثرانداز ہونا اور سکیورٹی کے نام پر خطے سے اربوں ڈالر وصول کرنا۔ خوف پیدا ہو تو اسلحہ بکتا ہے، کشیدگی بڑھے تو دفاعی معاہدے پختہ ہوتے ہیں۔ اسرائیل کو بھی اسی بساط کا مہرہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کو خطے میں ایک سٹرٹیجک اتحادی کے طور پر مضبوط کیا گیا تاکہ طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں رہے۔دونوں ایک دوسرے کی پراکسی ہیں۔ یوں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پھر 1979 کا ایرانی انقلاب آیا۔ ایران میں شاہ کا تختہ الٹا اور ایک ایسی حکومت قائم ہوئی جو امریکی پالیسیوں سے ہم آہنگ نہ تھی۔ ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اوپیک کے اہم اراکین میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ امریکی اندازہ تھا کہ انقلاب زیادہ دیر نہیں چلے گا، مگر یہ نظام چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم ہے۔ یہاں سے کشمکش کا نیا باب شروع ہوا۔ پابندیاں، پراکسی جنگیں، جوہری پروگرام پر تنازع اور خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ۔ 
امریکہ کی تشویش دو سطحوں پر ہے۔ پہلی، توانائی اور بحری راستوں کا کنٹرول۔ خلیج فارس سے گزرنے والی تیل کی سپلائی عالمی منڈی کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری، جوہری صلاحیت کا مسئلہ۔ اگر ایران مکمل جوہری طاقت بن جاتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات اور دباؤ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو امریکہ عرب اتحادیوں کو مکمل تحفظ کیوں نہیں دیتا؟ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ خطرے کا احساس برقرار رکھنا بھی حکمتِ عملی ہے۔ جب خطرہ محسوس ہو تو دفاعی بجٹ بڑھتا ہے، نئے معاہدے ہوتے ہیں اور امریکہ پر انحصار گہرا ہوتا ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ جنگ یا تباہی کے بعد تعمیرِ نو کی منڈی بھی کھلتی ہے، جس میں بڑی مغربی کمپنیاں حصہ لیتی ہیں۔ عراق اور افغانستان کی مثالیں سامنے ہیں جہاں جنگ کے بعد اربوں ڈالر کے ٹھیکے مغربی کمپنیوں کو ملے۔یہ تصویر یک رْخی نہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ عالمی سیاست مفادات کے گرد گھومتی ہے، اخلاقیات کے گرد نہیں۔ امریکہ ہو یا کوئی اور طاقت، ہر ایک اپنے سٹریٹجک مفاد کو مقدم رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تیل، اسلحہ اور سیکورٹی ایک مثلث بن چکے ہیں۔ اس مثلث کے اندر خوف بھی ہے، کاروبار بھی اور نظریاتی تصادم بھی۔
میڈیا اپنی ذمہ داری پورے کرے اور نئی نسل کو بتائے کہ ہمیں مسلم بلاک کی ضرورت ہے۔بتایا جائے کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔امریکہ کو پہچانے بنا نہ کوئی ملک چل سکتا ہے نہ مسلم امہ آگے بڑھ سکتی ہے۔یہ بدمعاشی کرتا ہے، ٹیکنالوجی اور معیشت کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔مسلمانوں کو باہمی لرا کر پیسہ کماتا ہے۔ لبِ لباب یہی ہے کہ ایران،اسرائیل کشیدگی کو صرف مذہبی یا نظریاتی عینک سے نہ دیکھا جائے۔ اس کے پیچھے توانائی کی سیاست، عالمی طاقتوں کی مسابقت اور خطے کی سٹرٹیجک اہمیت کارفرما ہے۔ اگر 47 سے 48 فیصد عالمی تیل اور تقریباً نصف گیس ایک ہی خطے میں مرتکز ہو تو وہاں کشمکش بھی ہوگی اور مداخلت بھی۔ سوال یہ نہیں کہ کون فرشتہ ہے اور کون شیطان۔ سوال یہ ہے کہ اس بساط پر مہرے کون چلاتا ہے اور قیمت کون ادا کرتا ہے۔ جب تک توانائی عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مشرقِ وسطیٰ عالمی طاقتوں کے لیے شطرنج کا میدان بنا رہے گا۔ اور اس میدان میں دوستی، دشمنی، نظریہ اور پراکسی،سب مفاد کے تابع رہیں گے۔ یہی تلخ حقیقت ہے اور شاید اسی کو سمجھنا آج کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔

ٹیگز: