لندن/میڈرڈ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ جنگ کے باعث سپلائی لائنز متاثر ہونے سے یورپ سمیت دنیا بھر میں ایندھن کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کرنے کے بعد مسلسل اوپر جا رہی ہے۔ برینٹ کروڈ 23 فیصد اضافے کے بعد 114.36 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔ امریکی خام تیل 27 فیصد اضافے کے ساتھ 115.11 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے۔ معاشی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دورانیہ طویل ہوا تو خام تیل کی قیمت 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جو عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان لائے گی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سپلائی کی کمی نے یورپی ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ برطانوی اخبار نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں تیل کا ذخیرہ صرف دو دن کا رہ گیا ہے، جس نے برطانوی حکومت اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔