Wed, September 16, 2026

فوجی عدالتوں کی غیر جانبداری پر سپریم کورٹ کا آئینی موقف

فوجی عدالتوں کی غیر جانبداری پر سپریم کورٹ کا آئینی موقف

اسلام آباد:  فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فوجی عدالتوں پر یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ یہ ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹر کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔
عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز اٹارنی جنرل نے عدالت میں دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا ذکر کیا تھا، جو پانچ رکنی بنچ کے فیصلے میں شامل ہیں، اور ان یقین دہانیوں کے ساتھ متفرق درخواستوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
عابد زبیری نے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا تھا، تاہم 1978 میں ایف بی علی کو رہا کر دیا تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہا تھا، وہ ضیاء الحق نے کر دیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل پروسیجر دیا گیا ہے، تاہم اگر اس پر عمل نہیں ہوتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹ پر دو بڑے اعتراضات ہیں: ایک یہ کہ یہ غیر جانبدار نہیں ہوتے، اور دوسرا یہ کہ ان کے ججوں کے پاس قانونی تجربہ نہیں ہوتا۔
عابد زبیری نے عدالت میں کہا کہ ملٹری کورٹ عدلیہ کا حصہ نہیں ہے۔ جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا آپ ملٹری کورٹ کو عدلیہ تسلیم کرتے ہیں؟ عابد زبیری نے جواب دیا کہ فوجی عدالتیں عدلیہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں۔
عابد زبیری نے مزید کہا کہ آرٹیکل 10 اے کے تحت سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ نیکسز والے سیکشن کو کس طرح لاگو کیا جائے گا؟بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹر کورٹ اپیلوں کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

ٹیگز: