Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ : فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل آئینی قرار

سپریم کورٹ : فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل آئینی قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو آئینی اور قانونی قرار دے دیا ہے۔ سات رکنی بینچ نے پانچ کے مقابلے میں دو ججوں کی اکثریت سے حکومت کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور کر لیں، جس کے بعد اکتوبر 2023 میں آنے والا فیصلہ کالعدم ہو گیا۔

بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس حسن رضوی نے بھی اس فیصلے سے اتفاق کیا۔ دوسری جانب، جسٹس نعیم الدین افغان اور جسٹس جمال مندوخیل نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔

عدالت نے آرمی ایکٹ کی وہ شقیں جو سابقہ فیصلے میں معطل کی گئی تھیں، دوبارہ بحال کر دیں۔ ان میں وہ دفعات شامل ہیں جن کی بنیاد پر سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ممکن ہوتا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت 45 دن کے اندر قانون سازی کرے تاکہ سویلینز کو فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق مل سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ مختصر فیصلہ ہے، جبکہ تفصیلی فیصلہ جلد جاری کیا جائے گا۔

ٹیگز: