Wed, September 16, 2026

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا معاملہ: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا معاملہ: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سات رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین کر رہے تھے، جب کہ بینچ میں دیگر سینئر جج صاحبان بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے 9 مئی 2023 کے ملک گیر پرتشدد واقعات پر تفصیلی دلائل دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں حساس مقامات جیسے جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور اور آئی ایس آئی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ سب کچھ اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

ججز نے کئی اہم سوالات اٹھائے، جیسے یہ کہ واقعات واقعی احتجاج کی شکل میں شروع ہوئے یا باقاعدہ حملے تھے؟ کیا فوج نے اپنے کسی افسر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ غفلت برتنے پر چند اعلیٰ فوجی افسران کو بغیر پنشن ریٹائر کیا گیا، لیکن فوجداری مقدمہ درج نہیں ہوا۔

عدالت نے آرمی ایکٹ اور فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے۔ جسٹسز نے پوچھا کہ اگر سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کرنا ہے تو قانون میں واضح ترمیم کیوں نہیں کی گئی؟سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور امکان ہے کہ اس ہفتے مختصر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

ٹیگز: