برادر عزیز مزمل سہروردی کے پروگرام میں کالم نگار مظہر برلاس نے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے واقعاتی شواہد اور حقائق اس کی توثیق نہیں کرتے۔ جہاں تک مظہر برلاس کے اس مسلسل دعویٰ کا تعلق ہے کہ عمران عید سے قبل رہا ہوجائے گا اس سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ کشف ہے، معلومات ہیں یا خواہش ہے البتہ مظہر برلاس نے بیگم کلثوم نوازشریف کے حوالے سے جو دعویٰ کیا ہے اسے واقعاتی شواہداور حقائق کی میزان پر پرکھا جائے تو کافی جھول نظر آتے ہیں۔
بیگم کلثوم نواز نے بڑی جرأت وبہادری سے فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف ایک بھرپور تحریک کی تاریخی قیادت کی۔ سیاسی رمز گاہ میں اپنا لوہا منوانے کے باوجود ایک گھریلو خاتون کا اپنا تشخص ہمیشہ برقرار رکھا۔ میاں محمد شریف مرحوم کی ہدایت، رہنمائی اور حکمت عملی کے تحت انہوں نے گھر کی دہلیز پارکی تو تین خواتین بیگم تہمینہ دولتانہ، بیگم نجمہ حمید اوربیگم عشرت اشرف ان کے ہم قدم اوربیٹوں جیسے داماد کیپٹن صفدر کاہاتھ تھاما ہوا تھا۔ پوری تحریک کے دوران یہ تینوں خواتین یاان میں سے ایک دواکثر جبکہ کیپٹن صفدر ہمہ وقت ساتھ رہتے کیپٹن صفدر کے والد گرامی ملک اسحاق اعوان جن سے میری خاصی گپ شپ ہوگئی تھی انہوں نے صفدر سے کہا ’’بیگم صاحبہ یاشریف فیملی جس طرح ابتلاء کا شکار کردی گئی ہے ایسے وقت میں تمہیں بیٹے کا کردار اداکرنا ہے اور یاد رکھو ماں اور ساس میں صرف اتنا فرق ہے کہ ساس کا دودھ نہیں پیا ہوتا‘‘کیپٹن صفدر نے باپ کی اس نصیحت کو جس طرح نبھایا میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ صفدر نے اس پوری مدت میں بیگم کلثوم نواز کو بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اس طویل تمہید کا مقصد آگے بیان ہوگا۔
اس سلسلے کی دوسری کڑی جہاں تک میاں محمد شریف کا تعلق ہے۔ وہ انتہائی نرم خو، نرم دل اور نرم مزاج ہونے کے باوجود اخلاقی اصولوں دیانت داری اور پابندی وقت پر اس قدر سختی سے کاربند تھے پوری شریف فیملی ان کے شفقت اکبر رعب ودبدبہ کے سایہ تلے تھی مجھے ایک سے زائد بار میاں شریف ، بیگم کلثوم نواز، کیپٹن صفدر، مریم نواز اور سائرہ حسین نواز کے ساتھ فرشی دسترخوان پر کھانے کا اتفاق ہوا میں نے دیکھا تینوں خواتین سروں کوڈھانپے کھانا کھانے میں خاموشی کے ساتھ مصروف ہیں ان کے لب تب ہی جنبش آشنا ہوتے جب میاں شریف کوئی بات پوچھتے تھے ان کی موجودگی میں میاں نوازشریف سمیت کسی میں اونچی آواز میں بات کرنے کی جرأت نہیں تھی جو پوری فیملی کی جانب سے احترام کا قابل تقلید مظاہرہ تھا۔ مریم تب باقاعدہ سیاست میں نہیں تھیں مجھے عام گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ بے حد لاڈلی ہونے کی وجہ سے صرف مریم فیملی کی واحد فرد ہیں جو دادا سے وہ کچھ منوالیتی ہیں جو دوسروں کیلئے ممکن نہیں۔ مریم کی موجودہ حددرجہ خوداعتمادی شاید اس کا ثمر ہے بہرحال میاں شریف کی زبان سے نکلا ہرلفظ پوری فیملی کیلئے حرف آخرہوتا اور ان کے فیصلے پر صرف عمل کیاجاتا۔
میاں محمد شریف کے احترام کے حوالے سے ایک واقعہ میاں نوازشریف وزیراعظم ہاؤس میں بعض اہم فائلیں دیکھ رہے تھے اس دوران میاں محمد شریف کی فون کال آئی ’’نواز تم نے آج لاہور آنا ہے ‘‘ جواب دیا گیا جی، ابا جی، اور پرنسپل سیکرٹری کو ہدایت دی کہ یہ ساری فائلیں گاڑی میں رکھوائیں ہمیں فوراًلاہور جانا ہے، جتنا ہوسکا فائل ورک گاڑی میں مکمل کیا، جاتی عمرہ پہنچ کر ابا جی سے پوچھا جی کوئی خاص بات ہے ابا جی نے بے نیازی سے جواب دیا نہیں خاص بات نہیں ایک صاحب باہر سے آئے ہیں انہیں تم سے ملوانا تھا۔ بیٹے نے سعادت مندی سے جواب دیا جی، ٹھیک ہے اس واقعہ کا تجزیہ کیا جائے باپ نے صرف یہ پوچھا کیا آج لاہور آنا ہے، بیٹے نے فرض کرلیا باپ لاہور میں موجودگی چاہتا ہے اور حاضر خدمت ہوگیا۔ کچھ بات ہے، ان کی جگہ کوئی دوسرا بلکہ میں خود بھی ہوتا تو بصد احترام پوچھتا کیوں ابا جی، کوئی خاص بات ہے اہم کام میں مصروف ہوں آپ کا حکم ہے تو آجاتا ہوں، لیکن نوازشریف نے باپ کے احترام کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
ان واقعات کو ذہن میں رکھ کر مظہر برلاس کے اس دعویٰ کا جائزہ لیا جائے۔ ’’بیگم کلثوم نواز کا فون آیا لاہور سے روانہ ہورہی ہوں اسلام آباد آفس میں آکر ملو، مسلم لیگ ہاؤس میں ملاقات ہوئی بیگم کلثوم نے کہا ہمیں چار آپشنزدی گئی ہیں ان میں سے کون سی آپشن بہتر ہے میں نے جائزہ لے کر کہا ان میں تیسری آپشن آپ کیلئے بہتر ہے اس پر بیگم کلثوم نواز نے کہا ہاں میاں شریف بھی اس تیسری آپشن کے حق میں ہیں۔ ‘‘ یہ آخری جملہ بیان کرکے مظہر برلاس نے اپنی ساری رام کہانی پر خود ہی پانی پھیر دیا۔ یاد رہے یہ تیسری آپشن اس کے بقول یہ تھی کہ ’’شریف فیملی ملک سے باہر چلی جائے‘‘ تصور کیا جائے یہ چار آپشنز ایسا راز تھے کہ افشا ہونے سے شریف فیملی پر ہمیشہ کیلئے جنرل مشرف سے ڈیل کا داغ لگ جاتا ،، کیا ایسا اہم ترین راز سیاسی سرگرمیوں کے دوران متعارف ہونے والے کسی شخص پر کھولا جاسکتا ہے۔ فیملی سے باہر بیگم کلثوم نواز اگر کسی سے مشورہ کرسکتی تھیں تووہ صرف عرفان صدیقی اور پرویز رشید ہی ہوسکتے ہیں لیکن مجھے یقین کی حدتک گمان ہے اگر بالفرض ایسے آپشنز کی پیشکش ہوتی تو یقینی طورپر بیگم کلثوم نواز نے سب سے پہلے یہ میاں شریف، مریم نواز، بہو سائرہ حسین اور داماد کیپٹن صفدر کے سامنے رکھے ہوں گے اور بقول مظہر برلاس اس کے مشورے سے پہلے میاں شریف تیسرے آپشن پر رضامندی ظاہر کرچکے تھے سوال پیدا ہوتا ہے اس قبولیت کے بعد کیا بیگم کلثوم نواز اتنی جرأت تھی وہ ہرایرے غیرے سے مشورے کرتی پھرتیں اور مظہر برلاس اگر پہلے ، دوسرے یا چوتھے آپشن کو بہتر قرار دے دیتا تو کیا بیگم کلثوم نواز کیلئے یہ ممکن تھا وہ میاں محمد شریف کے قبول کردہ آپشن کی بجائے مظہربرلاس کے تجویز کردہ آپشن کو اہمیت دیتیں۔ دوسرے اگر یہ موصوف بیگم کلثوم نواز کیلئے اس قدر قابل اعتماد تھے کہ عزت داؤ پر لگ جانے والا راز اس پر افشا کررہی تھیں توکیسا راز دان ہے کہ بظاہر کوئی وجہ ظاہر ہوئے بغیر وہ عمران خان کے عشق میں گرفتار ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے فوجی حکومت میں ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی اس لئے ملکی اور عالمی سطح پر تشویش آمیز خدشات تھے کہ ایک اور فوجی حکومت میں نوازشریف ایسی صورت کا نشانہ نہ بنادیا جائے چنانچہ عالمی سطح پر دباؤ میں سب سے اہم سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو رعایتی تیل بند کرنے کی دھمکی تھی جس پر جنرل پرویز مشرف نے فیس سیونگ کا مطالبہ کیا اس پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ چارکیا ایک آپشن بھی نہیں تھا۔
مجھے جدہ کے سرورپیلس اور بعدازاں جدہ میں موجودہ رہائش گاہ میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا کس کا رویہ ہمدردانہ، کس کا مخالفانہ تھا اس حوالے سے بیگم کلثوم نواز نے لاہور اور اسلام آباد کے کئی صحافیوں کا ذکر کیا مگر ایک مرتبہ بھی مظہر برلاس کا نام نہیں لیا جو اتنا قریب تھا کہ اپنے خاندان کا اہم ترین راز اس کے سامنے رکھ دیا تھا۔