Wed, September 16, 2026

گوگی ، پنکی ، عمران

 گوگی ، پنکی ، عمران

عمران خان نے ہر طرف سے مایوس ہوکر جیل سے داغے گئے ایکس بیان میں اپنی فطرت کے عین مطابق یو ٹرن لیتے ہوئے پھر جھوٹ بولا. دعوی کیا کہ جب میں نے جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس کے عہدے سے ہٹایا تو انہوں نے اپنی بحالی کے لیے بشریٰ پنکی سے رابطہ کیا تھا ۔پنکی نے جواب دیا کہ وہ غیر سیاسی خاتون ہیں اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتیں ۔ اس سے پہلے اب تک عمران خان بار بار یہی کہتے آئے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے تبادلے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ۔یہ خبر سینکڑوں مرتبہ سامنے آچکی ہے کہ پنکی پیرنی کی کرپشن کے بارے میں شواہد پیش کرنے پر عمران خان نے جنرل باجوہ کو کہہ کر جنرل عاصم کو تبدیل کرایا تھا جنہیں آئی ایس آئی کی سربراہی سنبھالے ابھی صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے ۔عمران خان کا تبدیل شدہ مؤقف اس لیے بھی انتہائی لغو ہے کہ جنرل عاصم منیر کو اس پوسٹ سے ہٹا کر کور کمانڈر گوجرانوالہ بنا دیا گیا تھا جبکہ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کردیا گیا تھا ۔ یہ دونوں تبادلے  جنرل باجوہ نے عمران خان کے کہنے کیں ۔ فوج میں ایسے تبادلوں کے بعد پرانی عہدوں پر دوبارہ واپسی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے ۔ عمران کی محبت یا دباؤ میں آکر جس طریقے سے جنرل عاصم منیر کو ہٹایا گیا وہ فوجی روایات کے برعکس تھا اس سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا ۔ جنرل باجوہ بطور آرمی چیف اس سے چند سال پہلے بھی اپنی کمزوری ظاہر کرچکے تھے جب پارہ چنار میں دہشت گردی کی واردات کے بعدایک مسلکی تنظیم کے مطالبے پر انہوں نے مقامی فوجی کمانڈر کو تبدیل کردیا تھا ۔ پہلے کبھی ایسا سننے میں نہیں آیا تھا۔ اب ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ سب سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس وقت کے وزیراعظم کی توجہ خاتون اول کی کرپشن کی طرف مبذول کرائی تھی۔ وہ ایک فائل لیکر پہنچے تھے جس میں کرپشن کی تفصیلات موجود تھیں۔ تاہم عمران خان نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا، بشریٰ بی بی میری ریڈ لائن ہے۔ باجوہ نے عمران خان کو بتایا کہ کہ بشریٰ بی بی کے فرح گوگی، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور کچھ دیگر کے ساتھ کرپشن کے روابط ہیں تو عمران خان نے پھر کہا کہ بشریٰ بی بی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ اس کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر نے وزیراعظم کو انہی الزامات کے حوالے سے بریفنگ دینے کی کوشش کی۔ عمران خان اتنا سخت ناراض ہوئے کہ انہوں نے جنرل باجوہ کو فون کیا اور جنرل عاصم منیر کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، باجوہ نے عمران خان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اڑ گئے۔ عمران خان نے جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنانے کی تجویز دی، حالانکہ وزیراعظم کو اس عہدے کیلئے جو نام تجویز کردہ پینل میں بھیجے گئے تھے اْن میں فیض حمید کا نام سرے سے ہی نہیں تھا ، جنرل باجوہ نے ہتھیار ڈال دئیے لیکن مشورہ دیا کہ جذبہ خیر سگالی اور پروٹوکول کو مد نظر رکھتے ہوئے سبکدوش ہونے والے جنرل عاصم منیر کو چائے کیلئے مدعو کیا جائے مگر عمران خان نے انکار کردیا۔جہاں تک عمران خان اور بشریٰ پنکی کے باہمی تعلقات کا معاملہ ہے تو عوام میں اس کا بھانڈا سب سے پہلے ٹک ٹاکر قندیل بلوچ نے پھوڑا تھا جو بعد میں قتل کردی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ عائشہ گلالئی کو گندے میسجز کے معاملے پر عمران خان بہت گھبرا گئے تھے ، انہیں لگا فوج اور جج بھی انہیں بچا نہیں پائیں گے ۔اس موقع پر پنکی پیرنی نے کپتان کو پاکپتن بلا کر ‘‘روحانی مدد یا جادو ‘‘کرکے بچا لیا پھر ضعیف اعتقاد عمران خان نیازی ، پیرنی کے ہی ہوکر رہ گئے۔فرح گوگی حکمران جوڑی کی فرنٹ پرسن تھی اس نے نہ صرف لمبا چوڑا مال بٹورا بلکہ انتہائی اعلی حلقوں تک اپنی ایسی رسائی ممکن بنائی کہ افسران ، جج، سیاستدان اور بڑے سیٹھ اپنے کام نکلوانے اس کے پیچھے پیچھے پھرتے تھے ۔ جب عمران اور پنکی کو یقین ہوگیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کا برقرار رہنا ممکن نہیں رہا تو گوگی کو ایک پرائیویٹ جیٹ میں پاکستان سے فرار کرادیا گیا ۔ گوگی ہی وہ طوطا تھا جس میں حکمران جوڑی کی جان تھی ۔ گوگی عمران اور پنکی پیرنی ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی دور میں ہونے والے تمام بڑے گھپلوں میں شامل رہی ۔ یقینا کئی طاقتور شخصیات بھی اس لوٹ مار میں ملوث تھیں اسی لیے آج تک گوگی کی حوالگی کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا ۔اب جبکہ عمران اور پیرنی جیل میں ہیں ۔ انہیں جن سہاروں پر یقین تھا وہ ایک ایک کرکے ختم ہوتے جارہے ہیں ، مایوسی اور نا امیدی میں ماہرنگ بلوچ تک سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ عمران خان کی رہائی کیلئے کوششوں کے سلسلے میں امریکہ سے پاکستان آئی ہوئی پی ٹی آئی کی ڈونر کاروباری شخصیت نے اعتراف کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی تمام سہولتوں کے باوجود جیل میں تنگ آچکے ہیں لیکن اسٹلیشمنٹ لفٹ نہیں کرارہی ، یہ وہی بیان ہے جو اعظم سواتی نے دیا پھر علیمہ خان نے کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر معافی تلافی کی بات کی ۔ اس شخصیت نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے کچھ لیڈر اور خصوصا ًبیرون ملک بیٹھے یو ٹیوبر نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر آئیں ۔عمران کی قید ان کی سیاست اور ڈالروں کا دھندہ چلتے رہنے کی ضمانت ہے ۔ پاک بھارت حالیہ جنگ کے بعد پی ٹی آئی سول حکومت کے لیے بھی غیر متعلقہ ہوچکی ، دو روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف کی صحافیوں کے ساتھ گھنٹوں طویل نشست میں عمران خان کا ذکر ضمنی طور صرف ڈھائی منٹ تک ہوا ۔ عمران خان کے جان نثار مولانا طارق جمیل بھی اپنا اثرورسوخ کھو رہے ہیں ۔ مانسہرہ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں تقریر کرنا چاہی تو منتظمین نے ان کے سیاسی رجحانات کے باعث روک دیا ۔عام تاثر کے برعکس مولانا طارق جمیل عالم دین نہیں بلکہ ایک داستان گو اور دلنشین مقرر ہیں ۔ تاریخی واقعات کے حقائق سے لاعلم ، زیب داستان کیلئے ضروری احتیاط کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دینے والے، اس کے باوجود انہوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا ، گوگی اور اس جیسے کئی دوسرے بھی مولانا کے حلقہ ارادات میں شامل ہیں ، مانسہرہ میں مولانا طارق جمیل اپنا وعظ روکے جانے پر شدید غصے میں آگئے اور کہا  ’’اوئے عقل کے اندھو! نہ تم لوگوں کو دین کی سمجھ ہے، نہ قرآن کی سمجھ ہے، نہ سیرت کی سمجھ ہے تم لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو۔تمہاری خباثت نے میرے زخم ادھیڑ دیئے ہیں۔‘‘تم میں شرم ہے، نہ حیا ہے، نہ دید ہے۔کم بختو تمہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ میں ایک بڑے خاندان سے ہوں ،اللہ نے مجھے عزت بخشی۔اللہ نے مجھے تبلیغ کو 6 بر اعظموں میں پھیلانے کا ذریعہ بنایا، تمہیں تو رائے ونڈ کے باہر کوئی سلام کرنے والا نہیں، کوئی جاننے والا نہیں۔تم جس کا بیان کرارہے ہو مجمع میں سے کوئی جانتا ہی نہیں کہ بیان دینے والا کون ہے۔جس کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں، اس کو تم بٹھا رہے ہو اور جس کو اللہ نے بات کرنے کی صلاحیت دی ہے تم اس کو دھتکار رہے ہو۔ میں تمہیں شرم دلا رہا ہوں۔تمہارے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے ،تمہاری ان حرکتوں کا پول میں اب ساری دنیا میں کھولوں گا۔ 
تمہی کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے ؟

ٹیگز: