کراچی : شہر میں کوکین سپلائی کرنے والی بدنام زمانہ ملزمہ انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی پولیس افسران کو مہنگی پڑ گئی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ تفتیشی افسر اور پورے عملے کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
ملزمہ کو سیکیورٹی پروٹوکول اور ایس او پیز کے برعکس بغیر ہتھکڑی کے عدالت لایا گیا، جس کی ویڈیو میڈیا پر وائرل ہو گئی۔آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے جواب طلب کرتے ہوئے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے سینئر افسر کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی۔ غفلت برتنے والے اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹا کر گارڈن ہیڈ کوارٹر ساؤتھ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے ملزمہ کے خلاف درج سندھ نارکوٹکس ایکٹ اور غیر قانونی اسلحہ کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی۔ ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ تفتیشی افسر کو 14 روز میں حتمی چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ "پولیس اہلکار قانون کے رکھوالے ہیں، اسے توڑنے والے نہیں۔ کسی بھی ملزم کو 'وی آئی پی' پروٹوکول یا غیر قانونی رعایت دینا ناقابلِ برداشت ہے۔ تمام اہلکار قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔