Wed, September 16, 2026

آنکھیں کھولنے کا وقت

آنکھیں کھولنے کا وقت

وسائل پر قبضے کی خواہش کے اسیرامریکہ نے آخر وینزویلا پر حملہ کر ہی دیا۔ کوئی بھی صدر مملکت یا وزیراعظم کبھی یہ نہیں کہتا کہ اس کے ملک کی معیشت ڈوب رہی ہے لیکن اس کے بیانات اقدامات اور جھنجھلاہٹ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کشتی ہموار نہیں ہچکولے کھا رہی ہے۔ امریکی صدر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ مختلف موقعوں پر کہتے نظر آئے کہ فلاں ملک نے امریکہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا، اس کے مقابلے میں اسے کم فائدہ ملا۔ انہوں نے یہ الزام ایک سے زائد ممالک پر لگائے جو بڑے ملک بڑی اکانومی رکھتے تھے اور کسی نہ انداز میں امریکہ بھی ان پر انحصار کرتا تھا، ان الزامات کی زد میں چین، روس، بھارت اور سعودی عرب بھی آئے۔ امریکی معیشت کی زبوں حالی اب کوئی راز نہ رہی تھی۔ چند ماہ قبل صف اول کے ماہرین معاشیات نے مشورہ دیا کہ امریکی کو معیشت کی بحالی کیلئے جو فیصلے کرنا ہیں ان میں اب تاخیر کی گنجائش نہیں، کچھ سفارشات بھی کی گئی تھیں۔ کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سیکڑوں فوجی اڈوں کی تعداد کم کی جائے تاکہ اخراجات بچ سکیں۔ درآمدات کم کی جائیں تاکہ ملکی خزانے پر بوجھ کم ہو سکے۔ بیکار کی جنگیں اور محاذ آرائی سے دور رہا جائے اور تیل کی تجارت بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں، بصورت دیگر ٹریژری بانڈ جاری کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے گا لیکن اس عمل سے ہماری معیشت اور اس کی ترقی کا بھانڈہ پھوٹ جائے گا۔ دنیا جان جائے گی کہ ہماری جیب اب خالی ہو چکی ہے۔ سفارشات پر غور و خوض کیا گیا، غیر ممالک میں اڈے بند کرنے کے خیال کو رد کر دیا گیا کہ یہ مختلف تھانے کم کر دیئے تو بھتہ کون اکٹھا کر کے دے گا۔ ہماری دہشت میں کمی آئے گی۔ درآمدات اس لئے کم نہیں ہو سکتیں کہ امریکہ کی کنزیومر گڈز بہت مہنگی ہیں، انہیں امریکہ میں کوئی استعمال نہیں کرتا انحصار چین پر ہے۔ یہی معاملہ گارمنٹس کا ہے۔ امریکی گاڑی کوالٹی میں کم اور قیمت میں زیادہ ہے۔ اولین ترجیح چینی گاڑی ہے۔ امریکی گاڑیاں تو سرکاری زور پر صرف سرکاری محکمے اور سرکاری افسر استعمال کرتے ہیں۔ جنگیں ختم کرنے کا مشورہ بھی پسند نہ آیا کیونکہ پہلے دھمکیاں پھر جنگ اور آخر میں وسائل پر قبضے کئے جاتے ہیں۔ تیل کی تجارت بڑھانے کے معاملے پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کیلی فورنیا کی آئل انڈسٹری عرصہ دراز سے نہ ہونے کے برابر کام کر رہی ہے یہاں پر جو مشینری نصب ہے وہ ایک صرف ایک 
خاص قسم کا تیل ہی صاف کر سکتی ہے۔ یہ مشینری اس وقت لگائی گئی تھی جب امریکہ اس معاملے میں قدم بڑھا رہا تھا۔ عام لفظوں میں سمجھنے کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ مشینری بھاری قسم کا تیل ہی صاف کر سکتی ہے۔ اس کی تنصیب کے بعد اس میں جدید مشینری کا اضافہ نہ کیا گیا یہاں پر وینزویلا سے لایا جانے والا تیل صاف کیا جاتا تھا یا کسی ایک آدھ اور ملک سے یہ تیل آتا تھا۔ وینزویلا سے تعلقات خراب ہونے پر تیل کی ترسیل معطل تھی۔
امریکہ اور وینزویلا میں تعلقات کی خرابی کو آج 27برس ہو چکے ہیں۔ امریکی سی آئی اے نے ایک مرتبہ فوجی انقلاب کے ذریعے وینزویلا کے ہر دلعزیز لیڈر ہوگوشاویز کا تختہ الٹنے کی کوشش کی لیکن سخت عوامی ردعمل کے باعث ٹھیک چوبیس گھنٹوں میں فوج کو پسپا ہو کر بیرکوں میں واپس جانا پڑا۔ ہوگوشاویز عرصہ دراز بعد کینسر کے مرض کے سبب انتقال کر گئے لیکن انہوں نے امریکہ کے آگے سرنڈر نہ کیا ان کے بعد اقتدار میں آنے والے صدر مادورو بھی ہوگوشاویز کے نقش قدم پر چلتے رہے لیکن انہوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈکٹیشن ماننے سے انکار کر دیا اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا، ان کے قتل کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن پائلٹ کی حب الوطنی اور اخلاص کے سبب وہ محفوظ رہے۔
امریکہ کو صدر مادورو سے ایک بڑی تکلیف یہ بھی تھی کہ انہوں نے امریکہ کی طرف سے غنڈہ ٹیکس ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انیسویں صدی میں عظیم انقلابی شخصیت سائمن بولیور نے ایک تحریک شروع کی جس کا مقصد فرانس اور دیگر استحصالی قوتوں کے مقابل لاطینی ممالک کو اکٹھا کرنا تھا۔ وینزویلا کے صدر سائمن بولیور کے بہت دلدادہ تھے۔ بولیورین انقلابی سوچ کے تحت جب وینزویلا کی تیل کی صنعت کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا تو امریکہ اور امریکی کمپنیاں براہ راست اس کی زد میں آئیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں کو قومیائی گئی صنعتوں کا معقول معاوضہ نہیں دیا گیا یوں ان کا تیل چوری کیا گیا۔
وینزویلا کی حکومت کو اپنے زیراثر لانے اور دھمکانے کے لئے ایک الزام یہ عائد کیا گیا کہ وینزویلا نے میکسیکو کی کاروباری برادری میں ایسے لوگوں کو غیرقانونی پاسپورٹ جاری کئے جو مختلف قسم کے غیرقانونی کاروبار سے منسلک تھے۔ اس حوالے سے میکسیکو کی صدر نے 2025ءمیں اپنی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد واضح کیا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کے الزامات کی مکمل تحقیقات کی ہیں جن میں کوئی ایسے شواہد نہیں ملے کہ پاسپورٹ حاصل کرنے والے جرائم میں ملوث تھے یا ممنوعہ کاروبار کر رہے تھے۔
امریکہ اپنی جنگی تیاریوں اور حملہ کرنے سے کئی ماہ قبل اس معاملے کو ایک تحریک کی شکل دے چکا تھا کہ وینزویلا کی حکومت منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہے اور ایسے عناصر کی حمایت و نصرت کرتی ہے۔ اس حوالے سے امریکی میڈیا کے کردارپر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مہم کہیں نہ کہیں سے سپانسرڈ تھی ورنہ تسلسل کے ساتھ ایک ہی لکیر کو نہیں پیٹا جا سکتا۔
گزشتہ تین ماہ سے امریکی جہازوں نے وینزویلا کے ساحلوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ مچھیروں کی کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں ڈبو دیا گیا اور کہا گیا یہ منشیات کے سمگلر تھے۔ اس قسم کے مختلف واقعات میں سو سے زیادہ حملے کئے گئے اور سیکڑوں افراد قتل کر دیئے گئے۔
ہدف حاصل کرنے کے لئے وینزویلا کے دارالحکومت پر بالکل اسی انداز میں حملہ کیا گیا جس طرح ایران نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے یوگنڈا کے اینٹیبے ائیرپورٹ پر 1976ءمیں کمانڈو ایکشن کیا تھا جہاں ان کا ایک مسافر طیارہ اغوا کر کے پہنچا دیا گیا تھا۔ وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر حملے سے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے لئے کئے گئے آپریشن کی یاد بھی تازہ ہو گئی۔ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کیا گیا، اس آپریشن میں ڈیڑھ سو سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، شہر میں بجلی کی ترسیل کرنے والے مرکز کو تباہ کیا گیا۔ متعدد بڑے بم دھماکے کئے گئے۔ بحری جہازوں سے اڑنے والے ہیلی کاپٹر وینزویلا کے صدر کی رہائش گاہ پر پرواز کرتے رہے۔ دونوں میاں بیوی کو گرفتار کر کے مشن مکمل کا سگنل امریکہ میں اعلیٰ حکام کو دیا گیا جس پر بعدازاں امریکی صدر نے اس چارج شیٹ کا اعلان کیا جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ دنیا جان چکی تھی امریکہ وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر کے اپنی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مسلمان ملکوں کے لئے آنکھیں کھولنے کا وقت ہے۔

ٹیگز: